ٹریفک قوانین کی اہمیت اسلام کی نظرمیں

     13178632_1160115350707721_3047413510631778046_n
مولاناغلام رسول(ایڈیٹراخبار المدارس)
……………………………………………….
ٹریفک قوانین کو دین سے الگ کوئی چیز سمجھنا اور انکی پاسداری نہ کرناانتہائی غلط سوچ ہے ،اس لئے کہ یہ قوانین انسانی مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں اس اعتبار سے انکی پابندی شرعا واجب ہوتی ہے ۔ ٹریفک قوانین کی پابندی نہ کرنے والا اسلامی نقطہ نظر سے قانون شکنی ، وعدہ خلافی ، ایذارسانی اور سڑک کے ناجائز استعمال جیسے چار بڑے گناہوں کا ارتکاب کر رہا ہوتا ہے اسلئے اس قسم کی بے قاعدگی ’’فساد فی الارض‘‘ کی تعریف میں آتی ہے اس لئے ٹریفک قوانین کی پابندی کرناضروری ہے یہ باتیں ہمارے دین نے ہمیں سکھائی ہیں، ہمیں ان زریں اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔
ہمارادین ہمیں سڑک پر منظم انداز میں چلنے کی تلقین کرتا ہے ہم ان قوانین اور ضابطوں پر عمل کر کے ہی سڑکوں پر مثالی ڈسپلن قائم کر سکتے ہیں۔
حدیث مبارکہ ہے کہ ضابطوں کی پابندی نہ کرنا اپنے اوپر ظلم ہے کبھی ہم نے سوچا بھی ہے کہ یہ ضابطے کیا ہیں اور ان پر عمل نہ کر کے ہم اپنے اوپر کیسے کیسے ظلم کرتے ہیں؟ ان ضابطوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ برقی اشاروں کی خلاف ورزی سے کتنے لوگ حادثہ کی صورت میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں؟کتنے لوگ تیز رفتاری کی وجہ سے ہلاک یا زندگی بھر کے لئے معذور ہوچکے؟ کتنے لوگ ون ویلنگ کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے؟کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے سڑک پر غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کر کے لوگوں کی جان و مال کو نقصان پہنچایا ہے؟
یہ سب چیزیں ضابطوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے رونما ہوتی ہیں۔ حدیث شریف:اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو! ٹریفک قوانین میں کچھ ایسی خلاف ورزیاں ہیں جن سے انسان کی جان ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے ان میں ایک برقی اشاروں کی خلاف ورزی ہے۔
کسی قوم کی تہذیب و تمدن کا اندازہ لگانا ہو تو وہاں کے ٹریفک پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ پھر یہ کہ ٹریفک قوانین پر عمل پیرا ہونے سے وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ حادثات کی روک تھام بھی ممکن ہے۔ ایک تجزیہ کے مطابق اتنے انسان دشمنیوں کے نتیجہ میں ہلاک نہیں ہوتے جتنے ٹریفک حادثات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔غیر ممالک میں اشارہ (لائٹ)کاٹنے پر بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے، منگنیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ وطن عزیز میں لوگ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر نادم ہونے کے بجائے اتراتے ہیں جوانتہائی ہٹ دھرمی کی بات ہے۔
سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز نے قرآن مجید کی ایک آیت جس میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ’’ جس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے گویا پوری انسانیت کو قتل کردیا اور جس نے ایک شخص کو بچایااس نے گویا پوری انسانیت کو بچا لیا‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی گناہ کبیرہ کے زمرے میں آتی ہے۔ کوئی شخص ٹریفک قوانین کی خلاف ور زی کرتا ہے اور اس کی اس حرکت کی وجہ سے کسی کی موت واقع ہوجاتی ہے تو وہ’’ قتل عمد‘‘ کا مجرم گردانا جائے گا۔
جب آپ سرخ اشارہ(لائٹ) غلط اندازسے کراس کرتے ہیں تو اس صورت میں حادثہ رونما ہونے کاخطرہ ہوتا ہے اور اس طرح کے حادثات سے اکثر قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ ایک اشارہ توڑنے والے کی جان کا ضائع ہونا اور دوسرا اشارہ توڑنے والے کی وجہ سے کسی دوسرے شخص کی جان کے ضیاع کا اندیشہ ۔ اگر اشارہ توڑنے والاحادثہ میں زندگی کی بازی ہار جائے تو یہ’’ خود کشی ‘‘ہو گی۔ خودکشی حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔
دوسراٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کی وجہ سے کسی دوسرے شخص کی جان جائے تویہ قتل ہو گا۔ ارشاد ہے کہ’’ جس نے ایک شخص کی جان بچائی گویااس نے پوری انسانیت کو بچایا اور جس نے ایک انسان کو قتل کیاتو گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا‘‘۔
قانونی طور پر اگرٹریفک خلاف ورزی کی وجہ سے کسی شخص کی موت واقع ہو جائے تو گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والے شخص کے خلاف’’ قتل باالخطا‘‘ اور قتل بالسبب کا مقدمہ درج ہوتا ہے۔ ۔ ایک اور جگہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ دوسروں کو بچانے میں اپنی حیات ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ جب ہم گزر رہے ہوں تو سب راستہ چھوڑ دیں اور جب کوئی اور گزر رہا ہو تو ہمیں سائڈ پہ ہونے کی بھی زحمت نہ کرنی پڑے۔
سڑکوں پر بھی احترام آدمیت ہونا ضروری ہے جس سے اخوت و بھائی چارے،برداشت اور ایثار کے جذبات کے علاوہ لوگوں کے جان ومال کو بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔غلط اوور ٹیک کرنا،ون وہیلنگ،تیز رفتاری،غفلت اور لاپرواہی سے گاڑی یا موٹر سائیکل وغیرہ چلانا بھی ٹریفک کی سنگین خلاف ورزیوں کے علاوہ جرائم میں آتے ہیں۔
ایک خلاف ورزی جو عام طورپر لوگوں میں پائی جاتی ہے وہ لوگوں یا ٹریفک کی گزرگاہ میں رکاوٹ پیدا کرنا ہے۔مثلا ٹھیلے ،پتھارے ،غلط پارکنگ وغیرہ حدیث مبارک ہے ’’راستوں کو ان کا حق دو اور ان پر مت بیٹھو‘‘ راستے کا حق یہ ہے کہ اسے راستہ یا گزر گاہ سمجھا جائے، راستے کو آرام گاہ یا منزل نہ بنایا جائے کیونکہ راستے پر بیٹھنے سے گزرنے والوں کے لئے رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔جواذیت کاباعث ہے۔
یہ رکاوٹیں کئی مسائل کو جنم دیتی ہیں:
سڑک پر بیٹھنے سے کسی مریض کو ہسپتال جانے میں، آگ بجھانے والی گاڑی گزرنے میں، طالب علم کو سکول جانے میں، مزدور کو کام پر جانے میں، ڈاکٹر کو ہسپتال جانے میں، اندھے یا معذور کو گزرنے میں رکاوٹ یا تکلیف پیش آ سکتی ہے اور کسی دوسرے مسلمان کو تکلیف دینا بہت بڑاگناہ ہے جوکسی صورت جائز نہیں ہوسکتا۔
اسی طرح راستوں پر تجاوزات کے فروغ کا رجحان راستوں سے ان کا حق چھیننے کے مترادف ہے۔ ایک حدیث شریف ہے :’’جس کسی نے مسلمان کے راستے کی تکلیف دور کی اللہ تعالی اس کی نیکیوں میں اضافہ فرمائے گا‘‘اگر آپ کہیں سے گزر رہے ہیں ،راستے میں پتھریاکانٹا پڑا ہوجس سے کسی مومن کو تکلیف پہنچ سکتی ہو اس کو ہٹانا ثواب ہے لیکن ہم لوگ سڑک کو ناجائز طریقے سے استعمال کرنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں مثلا سڑک پر سامان رکھ کر کاروبار کرنا،ناجا ئز تجاوزات اور غلط پارکنگ وغیرہ ۔اس کے علاوہ ستم ظریفی کا یہ عالم ہے شادی بیاہ ،فوتگی یا دیگر تقریبات پر سڑکوں پر باقاعدہ ٹینٹ اور شامیانے لگا کر گھنٹوں گلی یا سڑک بند کر کے لوگوں کی آمدورفت کو روک دیا جاتا ہے جس سے لوگ اذیت سے دوچار ہوتے ہیں۔
خصوصاراستہ جان بوجھ کربندکرانااوراس بندکرانے پررشوت لینااللہ کے عذاب کودعوت دینے کے مترادف ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2002 سے 2014 تک ایک لاکھ 22ہزار بڑے حادثات ہوئے جن میں 53ہزار 790 افراد جان کی بازی ہار گئے۔اسکے علاوہ ایک لاکھ 6ہزار افراد زخمی ہوئے اور کم وبیش ڈیڑھ لاکھ گاڑیاں تباہ ہوئیں۔2001 تک گاڑیوں کی تعداد 50لاکھ تھی جو اب اڑھائی کروڑ سے بھی زائد ہے۔ ہر شہری کابھی فرض ہے کہ وہ ٹریفک قواین کی مکمل طور پر پاسداری کرے ،ورنہ چمڑی اوردمڑی دونوں ہی کاخطرہ ہے۔