fawad-chodhari 36

حکومت کی ایک اور بڑی سنگین غلطی

ایک اور بڑی سنگین غلطی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر:محمد نزیر ناصر
پاکستان تحریک انصاف وہ واحد حکومت ہے جس سے عوام پرامید ہے کہ وہ مثبت تبدیلی ضرورلائیں گے ،اب تک اس حکومت کی جانب سے اقدامات کے بجائے مسلسل اعلان پر توجہ ہے اور کنٹینر میں قوم سے کیے گئے کئی وعدوں سے حکومت مکرتی دیکھائی دے رہی ہے اس کے باوجودبھی پوری قوم حتی کہ پی ٹی آئی کے مخالفین بھی نجی محفلوں میں اعتراف کرتے ہیں کہ خان ملک کی قسمت بدل دے گا،ملک کو خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کردے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اسمبلی میں تقریر کی،گزشتہ حکومت اورموجودہ حکومت کی ڈیڑھ ماہ کی کارکردگی کا موازانہ کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ حکومتوں نے قوم کو قرضوں اور مسائل کے دلدل میں دھکیلا اور ملک کو لوٹا ہے اس کا ازالہ کرنے میں وقت لگے گا،چوہدری صاحب نےجو ڈیڑھ ماہ کی کارکردگی پیش کی حقیقت میں وہ حکومت کے اب تک کےاعلانات ہیں جومسلسل کررہی ہے،جس سے صاف ظاہرہوتاہےحکومت اب تک اعلانات سے باہر نہیں آئی،
اس بات میں بھی کوئی شک نہیں نویلی حکومت کوجن چیلنجزاور مسائل کا سامناہے ان کےلئے ڈیڑھ ماہ کا عرصہ تو کیا ڈیڑھ سال بھی ناکافی ہیں لیکن اگراسی طرح اعلانات کو کارکردگی ظاہرکرکے پیش کرتے رہے اوراقدامات پر توجہ نہ دی توقوم کو جو توقعات پی ٹی آئی سے ہیں ان پر عمل کیلئے دس سالہ اقتدار بھی ناکافی ہوگااس لیے ضروری ہے قوم کو اعلانات میں الجھانے کے بجائے اقدامات کی طرف بھی توجہ دیں تو بہتر ہوگا۔
ملک کے بڑے مسائل معیشت کی مضبوطی، قرضوں کے بھوج سےخلاصی،چور لٹیروں سے قومی رقم کی واپسی،مہنگائی بے روزگاری اورپانی کا بحران، خارجہ پالیسی میں بہتری سمیت اندورونی وبیرونی خطرات کا ازالہ ہے۔
لیکن لگتاہے یہ حکومت بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح سنجیدہ نہیں فقط وعدہ وعیدوں میں اقتدار کی مدت پوری کرنا چاہتی ہے،آپ حکومت کی سنجیدگی کااندازہ اس بات سے لگائیں ابھی کل کی بات ہے جب ایک قادیانی کومالیاتی مشیر بنایا گیا قوم بالخصوص پی ٹی آئی کے سنجیدہ حلقوں نے بھرپور احتجاج کیامجبورااسے کمیٹی سے خارج کردیاگیااور حکومت کی اس غلطی پر اپنے لوگوں نے بھی ناراضگی کا اظہارکیااوربھرپور مذمت بھی کی کیونکہ اس ملک کے باسی چاہیے جس فرقہ جس جماعت یا جس سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں وہ ناموس آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی پر مبنی کسی شخص یا قانون کو کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔
جب سے آسیہ مسیح کا کیس منظرعام پرآیا تب سے لیکرآج تک یورپی یونین اور کچھ عالمی طاقتیں کوشش میں ہیں کہ قانون توہین رسالت میں تبدیلی کرائی جائے یا اس کو غیر موثر بنایا جائےاس کے لیے اربوں ڈالرحکومت کو دینے کو بھی تیار ہیں۔
مسلسل غلظیوں سے لگتاہے موجودہ حکومت نے کچھ بھی نہیں سیکھا،ایک اور ناقابل برداشت اور سنگین غلطی کرنے کی کوششیں کی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ وفاقی وزیرمملکت برائے خزانہ حماد اظہرنے قانون توہین رسالت 295-C میں ایک ترمیم پیش کی ہے جس کے تحت توہین رسالت کی شکایت کرنے والا ثابت نہ کرسکا تو سزائے موت کا حقدار ہوگا۔
بظاہرتو اس کا مقصد جو بھی ہو حقیقت میں ترمیم کے ذریعے قانون توہین رسالت کو غیر موثربنانا ہے،کیونکہ جب سے یہ قانون بنایا گیااس پر عملدرآمدن عالمی دباو کی وجہ سے نہیں کیا جاتا، آج ہزاروں مجرم عوامی دباو کے نیتجے میں گرفتار کیے جاچکے ہیں کسی کوبھی آج تک سزا نہیں دی گئی۔
نوازشریف وزرداری چور ہیں قوم کا بچہ بچہ مانتا،کہتااور جانتا ہے لیکن ثابت کوئی نہیں کرپا رہایہ ہمارے نظام کی کمزوری ہے اس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس نظام عدل میں جرم سے زیادہ اسے ثابت کرنامشکل ہے،ایسے میں بیچارہ کوئی شکایت کرنے والا ثابت نہ کرسکا تو اُسے سزائے موت دی جائے گی تو بتائیں آئندہ توہین رسالت کے مرتکب کو سزا دلوانے کےلئے کون آگے بڑے گا،نتیجہ یہ ہوگا یا تووہ خاموشی اختیار کرلے گا یا پھر گستاخ کا کام تمام کرکے قانون توڑنے پر مجبور ہوجائے گا اوراس قانون کا اثر بالکل ختم ہوجائے گا اور پھر ثبوتوں کے چکر میں ہر خنزیر کو گستاخ آقا کی کھلی چھوٹ مل جائے گی۔ آیندہ اس پر تفصیل لکھونگا انشاء اللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں