nazir-ksir 71

مولانا طارق جمیل نے افغان کرکیٹر سے ملاقات کیوں‌کی؟

مولانا طارق جمئیل صاحب معروف مبلغ ہیں ان کو تقریبا مسلمانوں کا ہر طبقہ قدر کی نگاہ سے دیکھتاہے جب بھی یہ کوئی کام کرتے ہیں‌جہاں ان کے معتقدین کی جانب سے ان کو داد دی جاتی ہے وہی پر ناقدین کی ایک بڑی تعداد ان پر سوال بھی اٹھاتی رہی ہے، گذشتہ دنوں‌سے یوٹوپ میں ایک ویڈیو گردش کررہی ہے جس میں‌مولانا افغان کرکٹ ٹیم کے بعض کھلاڑیوں سے ملاقات کررہے ہیں ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں مولانا طارق جمیل افغان کرکٹروں کو نماز کی پابندی اور کثرت توبہ کی تلقین کرتے دکھائی دے رہے ہیں‌۔
ان تصاویر کے سوشل میڈیا پر آنے کے بعد افغانستان وپاکستان میں کئی لوگوں نے اس ملاقات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے افغان کرکٹ بورڈ کے حکام سے اس ملاقات کے بارے میں کھلاڑیوں سے پوچھ گچھ کرنے کی درخواست کی۔
اگرچہ افغان کرکٹ بورڈ یا ان کھلاڑیوں کی جانب سے ابھی تک اس ملاقات کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے لیکن سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین نے اس ملاقات میں شامل تمام کھلاڑیوں خاص طور پر شہزاد محمدی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اس ویڈیو میں شہزاد محمدی مولانا طارق جمیل کے ساتھ بیٹھے دکھائی دیتے ہیں اور وہ باقی کھلاڑیوں کا تعارف کراتے ہیں۔
رحیم گل ساروان کے نام سے ایک صارف اپنے فیس بک اکاونٹ پر اس ملاقات پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ شہزاد محمدی کو کس نے اجازت دی تھی کہ وہ مولانا طارق جمیل سے ملیں اور کیوں باقی کھلاڑیوں کو بھی اپنے ساتھ اس ملاقات میں لے گئے؟
ایک اور صارف حیات اللہ مومند نے الزام عائد کیا کہ ’اس طرح کے مولویوں کو افغانستان کے کسی بھی فرد سے ملنے نہیں دینا چاہیے کیوں کہ یہی وہ مولوی ہیں جو افغانستان میں بے گناہ شہریوں کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں۔‘
نصرت حبیب زوی کے نام سے ایک اور صارف اس ملاقات کے بارے میں لکھتے ہیں ’مولانا طارق جمیل اور افغان کھلاڑیوں کے درمیان ملاقات کے پیچھے ایک بہت بڑا منصوبہ ہے اور اس منصوبے کی ناکامی کے لیے افغان کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ افغان عوام کو بھی ہوشیار رہنا پڑے گا۔‘
دیگر صارفین نے افغان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی شہزاد محمدی پر اس لیے بھی تنقید کی ہے کہ وہ کیوں ابھی تک پاکستان میں رہ رہے ہیں اور کیوں اپنی فیملی کو افغانستان منتقل نہیں کررہے ہیں؟
تاہم بعض صارفین نے اس ملاقات پر کی جانے والی تنقید کو بےجا قرار دیا ہے۔ ان کے بقول مولانا طارق جمیل سے بڑے بڑے کھلاڑی، گلوکار اور اداکار ملتے ہیں تو اگر افغان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی ملے تو کیا ہو گیا۔
ملاقات پر اتنا واویلا کیوں؟
افغانستان میں ابھی تک ایک عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان کی مذہبی جماعتیں اور دینی علما اُن کے ہاں شدت پسندی کی حمایت کر رہے ہیں اور ان سے ملنے والوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
پاکستان کے سابق کرکٹر انضمام الحق جب 2015 میں افغان کرکٹ ٹیم کے کوچ بنے تب بھی سوشل میڈیا پر بہت سے افغان صارفین نے اس لیے ان کی مخالفت کی تھی کہ وہ تبلیغی جماعت سے منسلک ہیں۔
مولانا طارق جمیل سے افغان کرکٹ کھلاڑیوں کی ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر پیدا ہونے والی تنقید پر ایک صارف لکھتے ہیں ’یہ وہ مولانا طارق جمیل ہیں جو افغانستان میں شدت پسندی کے حق میں فتویٰ دیتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں