1 29

دفتر خارجہ نے آسیہ بی بی کی بیرون ملک روانگی کی خبروں کی تردید کردی

اسلام آباد: دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ آسیہ بی بی کی بیرون ملک روانگی سے متعلق خبر میں کوئی صداقت نہیں، وہ پاکستان میں ہی موجود ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں گزشتہ روز آسیہ بی بی کو ملتان جیل سے رہا کیا گیا تھا جس کے بعد خبریں سامنے آئی تھیں کہ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ بیرون ملک روانہ ہوچکی ہیں۔

تاہم ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ آسیہ بی بی پاکستان میں محفوظ جگہ پر موجود ہیں اور ان کی بیرون ملک روانگی سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

اسلام آباد: دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ آسیہ بی بی کی بیرون ملک روانگی سے متعلق خبر میں کوئی صداقت نہیں، وہ پاکستان میں ہی موجود ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں گزشتہ روز آسیہ بی بی کو ملتان جیل سے رہا کیا گیا تھا جس کے بعد خبریں سامنے آئی تھیں کہ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ بیرون ملک روانہ ہوچکی ہیں۔

تاہم ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ آسیہ بی بی پاکستان میں محفوظ جگہ پر موجود ہیں اور ان کی بیرون ملک روانگی سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آسیہ بی بی کے وطن چھوڑنے کی خبر بغیر تصدیق شائع کرنا غیرذمہ دارانہ رویہ ہے، ہیڈ لائن بنانے کے لیے جعلی خبریں بنانے کا رواج چل پڑا ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی کا کیس انتہائی حساس ہے اور میڈیا کے بعض حلقوں پر زور دوں گا کہ وہ اس معاملے پر ذمہ داری کا احساس کریں۔

آسیہ بی بی کیس— کب کیا ہوا؟

صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں یہ واقعہ جون 2009 میں پیش آیا، جب فالسے کے کھیتوں میں کام کے دوران دو مسلمان خواتین کا مسیحی خاتون آسیہ بی بی سے جھگڑا ہوا، جس کے بعد آسیہ بی بی پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز کلمات کہے۔

بعدازاں آسیہ بی بی کے خلاف ان کے گاؤں کے امام مسجد قاری سلام نے پولیس میں مقدمہ درج کرایا۔ 5 روز بعد درج کی گئی واقعے کہ ایف آئی آر کے مطابق آسیہ بی بی نے توہین رسالت کا اقرار بھی کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں