7 30

کلوگرام کی پیمائش کے لیے نیا طریقہ کار وضع کر لیا گیا

سائنسدانوں نے کلو گرام کی پیمائش کے لیے نیا طریقہ کار کی وضاحت کر دی ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں کلو گرام کی پیمائش پلاٹینم سے بنے اِنگوٹ جسے ’لی گرانڈ کے‘ کہا جاتا ہے کے ذریعے کی جاتی ہے جو اس وقت پیرس میں محفوظ ہے۔

کلو گرام کی پیمائش کے لیے لی گرانڈ کے کا طریقہ کار 1889 سے رائج ہے اور ایک کلو گرام کی متعدد نقول بنا کر دنیا بھر میں تقسیم کی گئی تھیں۔

لیکن اصلی ایک کلو گرام اور اس کی کاپیوں میں تبدیلی ہوتی رہی اور یہاں تک کہ بہت آہستہ آہستہ وہ بالکل بگڑ گئیں۔

فرانس کے ورسائے پیلس میں ’وزن اور پیمائش‘ پر ہونے والی کانفرنس میں شریک سائنسدانوں نے کلو گرام کی پرانی تعریف سے چھٹکارا پانے اور اسے جدید الیکٹریکل سسٹم کے ذریعے پیمائش کے حق میں ووٹ دیئے۔

لی گرانڈ کے نظام میں کیا غلط ہے؟

لی گرانڈ کے سسٹم میں ایک ارب کے 50 ویں حصے میں کمی بیشی موجود ہے، جس کا وزن پلکوں کے ایک بال سے بھی کم ہے۔

یہ بہت ہی معمولی سا فرق ہے لیکن اس کے باوجود سائنسدانوں کے بقول اس کے بہت خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں۔

ماس میٹرولوجی کے سربراہ ڈاکٹر اسٹورٹ ڈیوڈسن کا کہنا ہے کہ جدید الیکٹرکل طریقے سے وزن کی پیمائش زیادہ اچھی اور برابر آئے گی۔

ڈاکٹر اسٹورٹ ڈیوڈسن کا کہنا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ پیرس میں موجود لی گرانڈ کے کلوگرام اور دنیا بھر میں موجود اس کی نقول میں بھی فرق ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سائنسی نقطہ نظر سے یہ چیز قابل قبول نہیں ہے، لی گرانڈ کے ابھی تو وزن کے لیے ٹھیک ہے لیکن 100 سال بعد یہ سسٹم نہیں ہو گا۔

الیکٹرو میگنیٹ کس طرح کلو گرام کو پیمائش کرتا ہے؟

الیکٹرو میگنیٹس ایک طاقت پیدا کرتے ہیں اور پھر مشین کے ذریعے بھاری بھرکم چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے۔

الیکٹرومیگنیٹ اور اس کے ذریعے پیدا ہونے والی طاقت کا براہ راست تعلق الیکٹریکل کرنٹ سے ہوتا ہے جو اس کی کوائلز میں جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس طریقہ کار میں کرنٹ اور وزن کا براہ راست تعلق ہوتا ہے، اسی بناء پر سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ وزن کو بلحاظ کرنٹ طاقت سے مقابلے کی ضرورت ہوتی ہے۔

برطانیہ کی نیشنل فزیکل لیبارٹری کے کچھ سائنسدانوں نے پیمائش کی تبدیلی کے معاملے پر ملا جلا درعمل بھی دیا ہے۔

پرڈی ولیمز نامی سائنسدان کا کہنا ہے کہ وہ اس پراجیکٹ سے طویل عرصے سے دور ہیں لیکن کلوگرام کے ساتھ میری ایک عجیب وابستگی پیدا ہو چکی ہے۔

خاتون سائنسدان نے کہا کہ میرے خیال میں یہ بہت بڑی چیز ہے اور میں اس کے لیے بہت بیتاب ہوں، اس تبدیلی پر تھوڑی افسردہ بھی ہوں۔

پرڈی ولیمز نے کہا کہ یہ بہت ضروری قدم ہے تاکہ نیا سسٹم بہتر طریقے سے کام کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں