“سکیورٹی رسک؟؟؟”

bilal-khan1
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد بلال خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
20 فروری کو علی الصبح والد محترم کو عمرے کے سفر پر رخصت کرنے کیلئے بینظیر انٹرنیشنل ائیر پورٹ اسلام آباد جانا ہوا، وقت کی پابندی کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ہم جہاز کی روانگی سے تین گھنٹے قبل ہی ائیرپورٹ کی جانب روانہ ہوئے، تین مختلف گھروں کے افراد کو رخصت کرنے کیلئے چار افراد کے ساتھ جانے کا مشورہ ہوا تو معاملہ یہ درپیش ہوا کہ حال ہی میں “سیکیورٹی رسک” کی وجہ سے ایک فیملی کیساتھ رخصت کرنے والا ایک ہی فرد ائیرپورٹ میں داخل ہوسکتا ہے، سو یوں باقی دو افراد کو چھوڑ کر ہم دو ساتھ چلے ، ائیر پورٹ کی حدود میں داخل ہونے سے قبل ائیرپورٹ روڈ پر واقع پہلی چیک پوسٹ کے قریب پہنچے تو گاڑیوں کی ایک لمبی قطار تھی، ٹیکسی ڈرائیوروں اور دیگر گاڑیوں سے ایک ایک فرد کو اتار کر سامان وغیرہ کی تفصیلی چیکنگ کی جا رہی تھی، ڈرائیور اور ہر سواری کے شناختی کارڈ کے ذریعے اندراج کیا جارہا تھا، اور باقاعدہ پوچھا جارہا تھا کہ ساتھ کتنے افراد جارہے ہیں؟ اگر کسی گاڑی میں غلطی سے ایک فیملی کے ساتھ دو افراد ہوتے تو ایک کو فوراً اتار دیا جاتا تھا، ایک ایک گاڑی پر قریباً دس منٹ لگ رہے تھے،

کافی انتظار کے بعد ہماری گاڑی کا نمبر آیا، سیکیورٹی اہلکاروں نے ڈرائیور سے کچھ پوچھا، ڈرائیور نے کہا “ایم پی اے صاحب کی گاڑی ہے ” اہلکاروں نے ایک سیلیوٹ مارا، اور آگے بڑھنے کو کہا، جبکہ بعد میں آنے والی عام گاڑیوں کیساتھ بدستور وہی سابقہ سلوک کیا جارہا تھا، چیکنگ کے تین مراحل سے گزرے، اور جب آخری مرحلہ آیا کہ جہاں سے آپ بالکل انٹرنیشنل پروازوں کے لانچ کے قریبی گیٹ سے داخل ہوتے ہیں، جہاں انتہائی سخت چیکنگ ہوتی ہے، جدید اسلحہ ٹریکنگ میشن کے ذریعے گاڑی کی تفصیلی چیکنگ ہوتی ہے، وہاں پہنچے تو وہی سابقہ حال تھا، ٹیکسیوں ، کاروں اور دیگر گاڑیوں سے سواریوں کو اتار کر چیک کیا جارہا تھا، اکثر بیگ کھول کر دیکھے جارہے تھے، لیکن جیسے ہی ہم پہنچے، ڈرائیور نے وہی جملہ دوہرایا “ایم پی اے صاحب کی گاڑی ہے” ائیرپورٹ حکام نے معمولی ٹارچ لگائی، دور سے اسلحہ ٹریکنگ مشین کے ذریعے گاڑی کو ایسے ادب سے چیک کیا ، جیسے دور بیٹھ کر ٹی وی کا ریمورٹ ہاتھ میں رکھا ہو اور چینل بدلنے کی کوشش کی جارہی ہو، بہر کیف اس دس سیکنڈ پر محیط “ہوائی چیکنگ” کے بعد ہم عالمی پروازوں والے حصے میں پہنچ چکے تھے، ایک سیکیورٹی گارڈ نے ڈرائیورسے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ “وی آئی پی پارکنگ” اس جانب ہے، سو ڈرائیور صاحب “وی آئی پی پارکنگ ” میں گاڑی پارک کرکے اترے، ہم سب آگے بڑھے، اور اور والد محترم و دیگر کو رخصت کرکے واپسی ہونے لگے تو میرے ذہن میں بار بار خیال آرہا تھا کہ ہمارا سیکیورٹی کا نظام اس قدر بدترین اور ناکام ہے کہ آج ہم ایم پی اے کے ڈرائیور کے ساتھ بغیر کسی چیکنگ کے ساتھ ائیر پورٹ میں داخل ہوئے، اور واپس لوٹ آئے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے ایم پی اے کے نام پر ائیر پورٹ حکام کو دھوکہ دیا ، بلکہ گاڑی واقعی ہمارے والد محترم کے دوست ایم پی اے صاحب کی ہی تھی، لیکن نہ تو اس گاڑی پر ایم پی اے کی نیم پلیٹ لگی تھی، نہ اس میں ایم پی اے صاحب خود تشریف فرما تھے، بس ایم پی اے صاحب کی نئی نویلی پراڈو کی کرامات تھیں کہ ڈرائیور کا ایک جملہ ہی لائسنس تھا،

اس انتہائی اہم ترین ائیرپورٹ پر سیکیورٹی سسٹم کی اس قدر بے احتیاطی سے چند باتیں ذہن میں آرہی ہیں، ایک تو یہ کہ ہمارے سیکیورٹی پر مامور افسران اشرافیہ سے ہی نہیں بلکہ ان کے نام سے ہی مرعوب ہوجاتے ہیں،ان پر قوانین کو لاگو کرنے میں ہچکچاہٹ اور خوف محسوس کرتے ہیں، جبکہ دیگر افراد سے ان کے مقابلے میں انتہائی سختی کیساتھ پیش آتے ہیں، آخری گیٹ میں داخل ہوتے وقت اس اہلکار یا افسر نے اتنا ہی پوچھا کہ گن مین تو ساتھ نہیں ہیں ؟ ڈرائیور نے جواب دیا نہیں، سو بغیر دیکھے، بغیر چیک کئے جانے دیا گیا، اور اسی طرح جو جو بھی کسی کالی یا سفید چمکتی ہوئی پراڈو، پک اپ یا بڑی گاڑی والا داخل ہوتا تو ایک تابعدارانہ سیلیوٹ کے ساتھ اندر داخل کیا جاتا تھا،

یہ حال ہے پاکستان کے دارالحکومت کے انٹرنیشل ائیر پورٹ کی سیکیورٹی کا، تو ہم مزاروں، بازاوروں، ہسپتالوں، پارکوں اور تعلیمی اداروں کے حال پر سوائے ہر گرتے لاشے کے بعد ماتم ہی کرسکتے ہیں، اس ائیرپورٹ پر بھی ہمارے پورے ملک ک طرح غریب اور امیر کے لئے قانون بالکل مختلف ہے، غریب اور متوسط طبقہ قانون کا پابند ، جبکہ اشرافیہ مبرا ہے، اگر پ اشرافیہ نہیں ہیں تو اشرافیہ کی گاڑی میں بیٹھ کر بھی آپ اشرافیہ جیسی سہولیات پاسکتے ہیں، ہے کوئی پوچھنے والا کہ اگر خدا نخواستہ ایسی ہی گاڑی میں کوئی تخریب کار آئے، آئے، اور اس پر ایم پی اے یا ایم این اے کی جعلی نمبر پلیٹ بھی لگی ہو، تو کیا یہ حکام اسی طرح ایم پی اے کا نام سن کر ہی بصد احترام جانے دیں گے ؟ جیسے یہاں ایم پی اے کی گاڑی پر بغیر ایم پی اے کی نیم پلیٹ لگی گاڑی وک جانے دیا ۔۔۔۔؟؟

ہم کیا خاک تحفظ کریں گے مساجد کا، سکولوں کا، یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں کا کہ، جہاں کوئی بھی امن دشمن عناصر چتے پھرتے کار روائیاں کرتے رہتے ہیں، شاید میں یہ بلاگ کبھی نہ لکھتا ، کہ مجھے کراچی ائیرپورٹ اور کامرہ ائیر بیس جیسے بدترین اور بھیانک حادثات یاد نہ ہوتے، کسی کو یاد ہے کہ کراچی اور کامرہ ائیر بیس میں حملہ آور کیسے داخل ہوئے تھے ؟ اور سابق طالبان کمانڈر حکیم اللہ محسود جب اسلام آباد سے روڈ پہ چلتے چلتے ایک انتہائی اہم شخصیت کو اس کی پراڈو سمیت وزیرستان لے گیا تھا؟ جس کے بدلے اسے بہادری کی داد دیتے ہوئے اہم عہدہ دیا گیا۔۔۔؟ خاکم بدہن کہ جس طرح آج کل کے حالات ہیں، اگر عسکریت پسندی دہشتگردی کے ارادے سے کسی اچھی گاڑی والے کو پھڑکا دیں اور اس کی گاڑی لیکر کسی ائیر پورٹ میں داخل ہو جائیں تو اس حادثے کا ذمہ دار وکن ہوگا۔۔۔۔؟ اور اس کے بعد ہم سہولت کاروں کو ڈھونڈتے پھریں گے، لاشوں کے اعضاء ٹیسٹ کئے جائیں گے، دو چار بیانات لگیں گے، ایک دھمکی آمیز خطاب اور پھر عوام خدا کے آسرے پر۔۔۔۔؟؟

خدارارا اپنے معاملات درست کیجئے، اور اپنی ذمہ داریاں نبھانا سکیھیں، قانون جب تک ٹیکسی اور پراڈو والے اور ایم پی اے سے لیکر چپراسی تک ، صدر سے لیکر خاکروب تک سب کیلئے یکساں نہ ہو تو نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے، شاید اشرافیہ سے مرعوب ہونا اور انہیں اہمیت دینا ہماری فطرت ثانیہ بن چکی ہے کہ جب ایک جانب سیہون میں ستر لاشے تڑپ رہے تھے تو بہت سوں کو آصف زرداری کے استقبال کیلئے پہل کرنی کی سوجھ رہی تھی، اور ہوا بھی یوں کہ وزیراعلیٰ صاحب لاشوں پر بعد میں پہنچے، جبکہ پہلے جناب اشرف الاشرافیہ کے چرن چھوئے ، پاکستان کے تمام اداروں میں واحد آرمی کے اداروں کے باقی تمام اداروں کی سیکیورٹی انتہائی ناقص اور قابلِ افسوس حد تک ناکام ہے، آپ پارلیمنٹ ہاؤس سے لے کر سپریم کورٹ اور ائیرپورٹ تک بھی بآسانی سیکیورٹی کی حالتِ زار اور انتہائی عامیانہ انداز دیکھ سکتے ہیں، شائد اسی لئے امن دشمن عناصر ہماری اسمبلیوں تک تو پہنچ چکے ہیں، اب باقی جو کچھ رہ چکا ہے، اس کا محافظ اللہ ہی ہے، اس تمام تر صورتحال میں “سیکیورٹی رسک” خود وہی ذمہ داران بن رہے ہیں، جن کے ذمے ملک کے اہم اداروں اور املاک کی سیکیورٹی ہے، لیکن وہ کیا ہے ناں صاحب !اب ملک کی ہماری سیکیورٹی سخت سے سخت کردی گئی ہے، کیونکہ جن کی اسمبلیوں میں اینکر پرسن اسلحے سمیت گھس گیا، اور انہیں خبر تک نہ ہوئی، وہاں رات کو بھی مدرسے اور مسجد کے دروازے کھلے چھوڑ کر دنیا و مافیہا سے بے خبر سونے والے کو “سیکیورٹی رسک” قرار دیا گیا ہے

1142total visits,1visits today