7 14

‘داعش’ انسانی تاجر بن گئی، 400 ڈالر میں بچے فروخت ہونے لگے!

عراق میں سرگرم شدت پسند گروپ “داعش” نے اپنے ہاں یرغمال بنائے شہریوں کو فروخت کرنے کا نیا غیرانسانی دھندہ شروع کردیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق “داعش” کے جنگجو عراق میں مُغوی بچوں کو فروخت کررہےہیں اور ایک ایک بچے کی قیمت 400 ڈالر تک وصول کی جا رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق موصل کی ایک مقامی عدالت نے ‘داعش’ کی جانب سے فروخت کی گئی ایک بچی کے کیس کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق داعشی جنگجوئوں نے ایک بچی 400 ڈالر میں فروخت کردی تھی۔

عراقی سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بچی ایک خاتون نے خرید کی ہے۔ ملزمہ کے شوہر نے بھی اعتراف کیا ہے کہ 2014ء میں اغواء کی گئی ایک بچی انہوں نے خرید کی تھی۔

اس نے بتایا کہ نینویٰ گورنری جب ‘داعش’ کے زیرتسلط آگئی تو اس کی بیوی کی داعش کی ایک عدالت میں ایک درخواست دی تھی جس میں کہا تھا کہ وہ باہنج ہے اور بچے جنم نہیں دے سکتی۔ وہ کسی بچی یا بچے کو گود لینا چاہتی ہے اور بچے کے عوض وہ رقم ادا کرے گی۔

خاتون کے شوہر کا کہنا ہے کہ وہ یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کی بیوی کسی داعشی جنگجو سے بچی خرید کرنا چاہتی ہے۔

داعشی بچے بیچتے تھے

بچی کی خریداری کرنے والی عورت نے بتایا کہ تلعفر پرداعش کے قبضے کے بعد داعش کے جنگجوئوں نے یزیدی قبیلے کے بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد یرغمال بنا لی تھی۔ جنگجو بچے فروخت کرتے تھے۔ میں چونکہ بچے پیدا کرنے سے قاصر ہوں، اس لیے میں بھی ایک خریدار بن کر داعش کے پاس گئی اور ان کو بتایا کہ میں بانجھ ہوں اور کوئی بچہ خریدنا چاہتی ہوں۔ اس کی ایک داعشی جنگجو کے ساتھ ڈیل ہوئی جس کے تحت اس نے ایک چار ماہ کی بچی 400 ڈالر میں فروخت کرنے کا یقین دلایا۔ میں نے وہ بچی خرید لی اور اس کا نام”عائشہ” رکھا۔

ملزمہ نے کہا کہ “داعش” کے شہر سے نکل جانے کے بعد وہ بچی کو اس کے والدین کو واپس کرنا چاہتی تھی۔ اس نے اس بارے میں شوہر کے والد سے بات بھی کرلی تھی۔ اس دورانن اچانک عراقی انٹیلی جنس حکام گھر میں داخل ہوئے اور انہوں نے بچی مجھ سے لے کراس کے ورثاء کو دے دی۔

خاتون کا کہنا ہے کہ مجھ پر انسانی تجارت کے لیے بچی کی خریداری کا الزام بے بنیاد ہے۔ میں بچی کو گود لینا چاہتی تھی اور میں اس کے عوض داعش کو پیسے دیے تھے۔ کسی بچی یا بچے کو گود لینا انسانی تجارت کے زمرے میں نہیں آتا۔

خیال رہے کہ عراق میں داعش کے قبضے کے عرصے کے دوران سیکڑوں بچے لاپتا ہوئے اور ان میں سے بہت سوں کا ابھی تک کوئی علم نہیں۔ عراق میں بچوں کی خریدوفروخت کے دھندے کی خبریں روز کامعمول ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے اس مجرمانہ عمل کے پیچھے داعش کا ہاتھ ہے جو پیسے بٹورنے کے لیے مغوی بچوں کوفروخت کررہےہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں