2 12

العزیزیہ کی دستاویزات پیش کیوں نہیں کی گئیں، اس کا جواب دینا ہوگا: جج

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے دوران فاضل جج نے سوال کیا کہ ملزمان نے العزیزیہ اسٹیل ملز کی دستاویزات کیوں پیش نہیں کیں، اس سوال کا جواب دینا ہوگا، وکلا صفائی نوٹ کرلیں۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں جس کے دوران نیب پراسیکیوٹر واثق ملک کے دلائل کا سلسلہ جاری ہے۔

سماعت کے دوران جج ارشد ملک نے نواز شریف کے وکلا کو ہدایت کی کہ ملزمان نے العزیزیہ کی دستاویزات کیوں پیش نہیں کیں، سپریم کورٹ نے طلب کی تھیں تو وہاں دستاویزات پیش کردیتے، اس سوال کا جواب دینا ہوگا نوٹ کرلیں۔

فاضل جج نے ریمارکس دیے العزیزیہ کے قیام کی وضاحت آگئی تو ہل میٹل کا معاملہ خود حل ہوجائے گا۔

نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان نے العزیزیہ کو چلانے سے متعلق کوئی دستاویز نہیں دی، ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے ہل میٹل کا 88 فیصد منافع نواز شریف کو ملا اور ٹوٹل 97 فیصد رقم پاکستان آئی۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ میں قطری کے پہلے اور دوسرے خط میں تضاد ہے، پہلے خط میں قطری نے صرف اتنا کہا 12 ملین درہم کے بدلے ایون فیلڈ فلیٹس دیے جب کہ دوسرے خط میں ورک شیٹ لگائی اور کہا گیا اپروول کے بعد فلیٹس دیے گئے۔

فاضل جج نے استفسار کیا ‘آپ کیوں کہتے ہیں کہ قطری خطوط میں بیان کی گئی بات غلط ہے، قطری کا رولا چلا کہاں سے اور پہلی بار قطری خط کب پیش کیا گیا؟۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا ‘قطری ملزمان کا گواہ ہے لیکن انہوں نے اسے پیش ہی نہیں کیا، ہم نے قطری کا بیان قلمبند کرنے کی کوشش کی لیکن وہ پاکستان نہیں آیا’۔

نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا متحدہ عرب امارات کے جواب سے بھی پتہ چلتا ہے 12 ملین درہم قطر گئے ہی نہیں اور یو اے ای کے جواب کے بعد قطری خطوط کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔

جج ارشد ملک نے سوال کیا خط میں پہلے فلیٹس کا کہا، پھر ملز سامنے آئیں تو ورک شیٹ میں یہ بھی شامل کرلیا اور جب قطری آیا ہی نہیں تو اس کے خطوط کی کیا حیثیت ہے؟۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا ملزمان کا موقف ہے کہ العزیزیہ اسٹیل مل کے تین شراکت دار تھے، جج نے سوال کیا العزیزیہ اسٹیل مل کے کسی ریکارڈ میں میاں محمد شریف کا نام ہے جس پر پراسیکیوٹر نے کہا العزیزیہ کی کسی بھی دستاویز میں میاں محمد شریف کا نام نہیں ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا العزیزیہ اسٹیل کی فروخت کے معاہدے میں حسین نواز کا نام ہے۔

جج ارشد ملک نے استفسار کیا پاناما کیس میں پہلے دن سے نواز شریف کا ایک ہی وکیل ہے یا تبدیل ہوئے؟، بعض دفعہ وکیل بدلنے سے مؤقف میں بھی تبدیلی آجاتی ہے، عدلیہ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عدالت میں جھوٹ بولنا کلچر بن گیا ہے۔

فاضل جج نے کہا کہ مدعی، وکیل اور ملزم سب جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں اور پھر جج سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ انصاف پر مبنی سچا فیصلہ دے، یہ تو ایسے ہے کسی کو دال چنےکا سالن دے کر کہا جائے اس میں سے بوٹیاں نکالو۔

جج ارشد ملک نے کہا ‘العزیزیہ کی وضاحت آجاتی ہے کہ وہ کیسے لگی تو اگلے کاروبار کا تو آپ کو مسئلہ نہیں ہونا چاہیے’۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا ‘ العزیزیہ کے قیام کی تو وضاحت نہیں کی گئی، ظلم تو ملزمان نے ریاست کے ساتھ کیا، بغل میں ریکارڈ رکھ کر بیٹھے رہے اور کہتے رہے کہ یہ ڈھونڈیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں