دمادم مست قلندر۔

hamid-mirw

حامد میر (سنئر تجزیہ کار اینکر پرسن )

درویش اور قلندر عام طور پر دنیا کے ہنگاموں سے دور رہتے ہیں لیکن اگر کوئی درویش ناچنے گانے والیوں کے محلے میں ڈیرہ لگا لے تو حیرانی کی بات ہے۔کئی صدیاں قبل سندھ کے علاقے سہون میں ناچنے گانے والی عورتوں کے ایک محلے میں حضرت لال شہباز قلندر ؒ نے ڈیرہ لگایا تو آس پاس رہنے والے کچھ مسلمان بھی حیران رہ گئے۔اس محلے میں ہندوئوں کی اکثریت تھی۔ناچنے گانے والیاں بھی ہندو تھیں جن کا دھندا سہون کے حاکم راجہ جیر جی کی سرپرستی میں چلتا تھا جو مقامی لوگوں میں چوپٹ راجہ کے نام سے مشہور تھا۔اس حاکم کی بدانتظامی اور نا انصافی کے باعث سہون میں اندھیر نگری اور چوپٹ راج تھا۔لال شہباز قلندر ؒ کی یہاں آمد کے بعد ناچنے گانے والیوں کا دھندا بھی چوپٹ ہوگیا۔لال شہباز قلندر ؒاور ان کے مریدوں کی مختصر سی جماعت نے نہ تو یہاں ناچنے گانے والیوں کو کچھ کہا اور نہ ہی سرشام دور دور سے آنے والے تماش بینوں کو روکا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایک قلندر کے آنے کے بعد اس محلے میں تماش بینوں کا آنا خود بخود بند ہو گیا۔ناچنے گانے والیوں کو سمجھ آ گئی کہ یہ سب لال شہباز قلندر ؒ کی وجہ سے ہوا۔ یہ عورتیں اس قلندر کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور انہیں سہون سے کہیں اور چلے جانے کی درخواست کی۔ قلندر نے جواب دیا کہ انہوں نے تو کسی کو نہیں روکا لہٰذا وہ کہیں نہیں جائیں گے۔اب یہ عورتیں چوپٹ راجہ کے پاس شکایت لیکر پہنچیں اور کہا کہ ایک قلندر ان کے محلے میں آ بیٹھا ہے اسے وہاں سے نکالا جائے۔چوپٹ راجہ نے لال شہباز قلندرؒ کو پہلے انعام وکرام کے ذریعہ سہون چھوڑنے پر آمادہ کیا جب بات نہ بنی تو پھر طاقت استعمال کی لیکن قلندر کے آگے اسکی طاقت بھی ماند پڑ گئی۔چوپٹ راجہ زلزلے میں مارا گیا جس کے بعد تمام ناچنے گانے والی عورتیں حضرت شہباز قلندر ؒ کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئیں۔یہ بزرگ افغانستان کے علاقے مروند میں پیدا ہوئے اور عثمان مروندی کہلاتے تھے۔ ’’تحفتہ الکرام ‘‘ کے مصنف شیر علی قانع کے مطابق لال شہباز قلندر ؒ دہلی میں حضرت بو علی قلندر ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے لال شہباز سے فرمایا کہ اس وقت ہند میں تین سو قلندر موجود ہیں آپ سندھ تشریف لے جائیں کیونکہ سندھ کو آپ کی ضرورت ہے۔ اس زمانے میں سندھ کو ہند سے جدا سمجھا جاتا تھا اور سندھ و ہند کی تہذیبوں کا یہ فرق آج بھی موجود ہے۔
بعض صوفیاء اور قلندروں پر یہ اعتراض کیا جاتا رہا ہے کہ وہ احکام شریعت کی پابندی نہیں کرتے۔ حضرت لال شہباز قلندر ؒ پر بھی یہ الزام لگایا گیا اور ملتان کے قاضی قطب الدین کاشانی نے آپ پر ’’فسق‘‘ کا فتویٰ بھی لگا دیا۔ لال شہباز قلندر ؒ اپنے بارے میں خود اعلان کرتے ہیں کہ
منم عثمان مروندی کہ ہار خواجہ منصورم
ملامت می کند خلقے ومن برادر می رقصم
یعنی میں عثمان مروندی ہوں اور خواجہ منصور میرے دوست ہیں۔ ساری دنیا مجھے ملامت کرتی ہے اور میں اس ملامت کے بوجھ کو اٹھائے ہوئے رقص کرتا ہوں۔ خواجہ منصور سے مراد منصور حلاج ہیں لیکن تمام ملامتی صوفیوں کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ جذب و مستی کی کیفیت میں احکام شریعت بھول جاتے تھے۔ ملامتی صوفیوں کے سرخیل حضرت بایزید بسطامی ؒ احکام شریعت کی پابندی کرتے تھے لیکن ظاہر نہیں کرتے تھے۔لال شہباز قلندر ؒپر بھی احکام شریعت کی پابندی نہ کرنے کا الزام ثابت نہیں ہوتا کیونکہ وہ حضرت بہائوالدین زکریا ملتانی ؒ کے مرید اور خلیفہ تھے اور یہ بزرگ اپنے مریدوں کو احکام شریعت کی پابندی کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ درویش اور قلندر ہمیشہ بادشاہوں اور حاکموں سے دور رہتے ہیں۔ بادشاہ، حاکم اور ان کے درباری مولوی عوام میں ان درویشوں کی مقبولیت اور احترام سے ہمیشہ خوفزدہ رہتے ہیں اور ان کے خلاف فتوے جاری کرتے رہتے ہیں۔ ان درویشوں نے تلوار کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے اعلیٰ کردار کے ذریعے اسلام پھیلایا لیکن افسوس کہ ہر دور میں اسلام کے کچھ نام لیوا انہیں اسلام کیلئے خطرہ قرار دیتے رہے۔ یہ درویش اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی عوام میں مقبول ہیں اور ان کی مقبولیت سے حسد کرنے والے آج بھی ان درویشوں کے مزاروں پر حملے کر رہے ہیں۔ 16فروری 2017ء کو جمعرات کے دن سہون میں حضرت لال شہباز قلندر ؒ کے مزار پر حملے کی ذمہ داری داعش نامی تنظیم نے قبول کی ہے جو عراق او رشام میں کئی صوفیاء کے علاوہ صحابہ کرام ؓ کے مزاروں پر بھی حملے کر چکی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ 2003ء میں امریکی فوج بغداد میں داخل ہوئی تو میں اس جنگ کی کوریج کیلئے وہاں موجو دتھا۔ میری موجودگی میں حضرت عبدالقادر جیلانی ؒ اور امام ابو حنیفہ ؒ کے مزاروں پر امریکی فوج نے بمباری کی تھی۔ اس کے بعد جب بھی کسی بزرگ کے مزار پر حملہ ہوتا ہے تو نجانے کیوں مجھے امریکی فوج یاد آ جاتی ہے۔ داعش نے 2016ء میں لسبیلا کے قریب حضرت شاہ بلاول نورانی ؒ کے مزار پر خودکش حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی لیکن داعش کے قیام سے بہت پہلے 2005ء میں اسلام آباد میں حضرت بری امام ؒ کے مزار پر خودکش حملہ ہواتھا۔ اس وقت تحریک طالبان پاکستان بھی وجود میں نہ آئی تھی۔ 2009ء میں پشاور میں رحمان بابا ؒ کے مزار پر حملہ ہوا۔ 2010ء میں پاکپتن میں حضرت بابا فرید گنج شکر ؒ، کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی ؒ اور لاہور میں حضرت علی ہجویری ؒ کے مزار پر حملے ہوئے۔ حضرت علی ہجویریؒ بھی لال شہباز قلندر ؒ کی طرح افغانستان سے آئے تھے اور ان کی مشہور تصنیف ’’کشف المحجوب‘‘ میں طریقت کو شریعت کا پابند قرار دیا گیا ہے لہٰذا ایسے صوفیاء کے مزاروں پر حملے کرنے والے صرف ان صوفیاء کے نہیں بلکہ اسلام کے بھی دشمن ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ امریکی فوج جس خطے میں بھی جاتی ہے وہاں صوفیاء، بزرگوں اور صحابہ ؓ کے مزاروں پر حملے شروع ہو جاتے ہیں ؟ یقیناً ان حملوں میں وہ مسلمان استعمال کئے جاتے ہیں جو زعمِ تقویٰ کے باعث خبط عظمت کا شکار ہو جاتے ہیں اور معصوم مسلمانوں کو قتل کرکے جنت میں جانے کے خواب دیکھتے ہیں۔افسوس کہ ان گمراہ مسلمانوں کو ہمسایہ ملک افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی گئی ہیں لیکن افغان عوام یاد رکھیں کہ پاکستان میں صوفیاء اور قلندروں کے مزاروں پر حملوں کیلئے انکی سرزمین سے آنے والے گمراہ لوگ صرف پاکستان اور افغانستان کے نہیں بلکہ اسلام کے بھی دشمن ہیں۔ حضرت عثمان مروندی ؒ افغانستان سے آئے تھے اور حضرت علی ہجویریؒ کے والد سید عثمان ہجویریؒ کے ہم نام تھے جن کے غزنی میں مزار پر حاضری کا شرف اس خاکسار کو حاصل ہو چکا ہے۔ ان بزرگوں کی درگاہیں پاکستان اور افغانستان کے عوام میں رشتوں کو کبھی ختم نہیں ہونے دیں گی لہٰذا ان بزرگوں کا دشمن جہاں کہیں بھی بیٹھا ہے اسکی سرکوبی کرنا دونوں کی ذمہ داری ہے لیکن اگر ایک ملک کی حکومت یہ سرکوبی نہیں کریگی تو پھر دوسرے ملک کو یہ تو کرنا ہی پڑے گا خواہ کوئی کتنا ہی شور مچائے چوپٹ راج کے خلاف دمادم مست قلندر کی للکار کے ساتھ اعلان جنگ اب ضروری ہو چکا۔

بشکریہ جنگ اخبار

269total visits,1visits today