news-pic-from-jamia-binoria-site-10-12-2018 61

مدارس کی محنت تمغے یا تھپکی کیلئے نہیں اللہ کی خوشنودی کیلئے ہے ، علماء کرام

الزامات سے بے پروا ہ علمی مہارت سے سازشوں کو مات دینا مدارس کی امتیازی شان ہے
جامعہ بنوریہ عالمیہ تقریری مقابلوں اور پیغام مدارس کانفرنس سے مفتی محمد نعیم ،مولانا ڈاکٹر عادل خان ، مولانا منظور احمد مینگل ودیگر علماء کا خطاب
کراچی ()مدارس دینیہ کیخلاف کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوگی ،الزامات سے بے پرواہ علمی مہارت سے سازشوں کا مات دینا مدارس کی امتیازی شان ہے، ، مدارس کی محنت کسی تمغے یا تھپکی کیلئے نہیں اللہ کی خوشنودی کیلئے ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا پیغام عالم دنیاکیلئے امن کا پیغام ہے ،مدارس کے طلبہ عربی اور اردو کی طرح دیگر زبانوں میں بھی مہارت حاصل کریں، ،طلبہ امانت ہیں جس بھی صلاحیت کے ساتھ آتے ہیں اعلی صلاحیت واخلاق کا حامل بنانا مدارس اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں ،تقریری مقابلے میں طلبہ نے بہترین کارکردگی کا اظہار کیا ،کسی بھی شاگر د کی کامیابی درحقیقت استاد کی کامیابی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ میں منعقدہ اردو عربی تقریری مقابلے اور پیغام مدارس کانفرنس سے جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمدنعیم ، صاحبزادہ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ ڈاکٹر عادل خان ،مولانا منظور احمد مینگل سمیت دیگر علماء کرام نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی عبدالحمید خان غوری ، مولانا عزیز الرحمن عظیمی ، مولانا حسین صدیقی ، مولانا سیف اللہ جمیل ، مولانا مولا بخش ،مولانا رشید احمد سواتی،مولاناغلام رسول ،مولانا سلیمان ،مولانا سیف اللہ ربانی ، مولانا نعمان نعیم ، مولانا فرحان نعیم ودیگر علماء وطلبہ مدارس شریک تھے ۔تقریری مقابلے میں حصہ لینے والے طلبہ کو خصوصی انعامات سے نوازا گیاجبکہ عطورات الحرمین ملابسک کلکشن کی جانب سے بھی خصوصی انعامات دیئے گئے ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رئیس شیخ الحدیث مفتی محمد نعیم نے کہاکہ موجودہ دور میں فن خطابت اسلام کی نشروع و اشاعت کا بہترین ذریعہ ہے ،طلبہ اسلام کے پیغام امن کو دنیابھر میں پھیلانے کے لیے وعظ وتقریرپرعبورحاصل کریں اورتصادم کے بجائے مثبت اندازمیں سیرت کوعام کریں۔انہوں نے کہاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا پیغام عالم دنیاکیلئے امن کا پیغام ہے ، اس پیغام کو پھیلانے کیلئے ہی تقریری مقابلوں کا انعقاد کیا جاتاہے تاکہ طلبہ میں وہ پوشیدہ صلاحتیں نکھر کر آئیں ۔ انہوں نے کہاکہ مدارس بے لوث ہوکر دین اسلام کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں عالم اسلام کو مبلغ ، مقرر محدث اور مفسر دے رہے ہیں ان کے خلاف دہشت گردی کا الزام عالم اسلام کو اسلامی تعلیمات سے دور کرنا کیلئے تھا الحمد اللہ دشمن ناکام رہے آج مدارس پہلے سے زیادہ ترقی کررہے ہیں ۔مولانا ڈاکٹر عادل خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مدارس کیخلاف کوئی بھی سازش برداشت نہیں کرسکتے مدارس خالص تعلیمی ادارے ہیں،ہم نے اپنے مدارس کے دروازے سب کیلیے کھول رکھے ہیں وہ آئیں دیکھیں مدارس اپنا کام کررہے ہیں ہمیں کسی کے تمغے اور فنڈ شاباش کی ضرورت نہیں بلکہ ہمارا یہ کام اللہ کو خوشنودی کیلئے ہے،مدارس نے ہر دور میں بے بنیاد الزامات سے بے پروا ہوکر تعلیمی کارکردگی اور علمی مہارت کے ذریعے سازشوں کو مات دی ،مدارس کو جتنا دبانے کی کوشش کی گئی اتنی ہی ترقی کررہے ہیں، انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنی تمام صلاحیتوں کو تعلیم میں صرف کریں،عربی اردو کی طرح انگریزی اور دیگر زبانوں پر بھی عبور حاصل کریں ،طلبہ مدارس کی امانت ہیں جس صلاحیت کے حامل بھی طلبہ آتے ہیں ہماری ذمہداری ہے ہم اس کو اعلی صلاحیت واخلاق کا عامل بنائیں، تقریری مقابلوں کا انعقاد جامعہ بنوریہ عالمیہ کی اچھی کاوش ہے جو ابھی دیگر مدارس میں معدوم ہوتی جارہی ہے ، بیان کا سلیقہ آجائے تو بات کو قبولیت حاصل ہوتی ہے ،اگر اس کی اہمیت نہ سمجھے توجہ نہ دی تو ساری زندگی پریشان رہیں گے۔استاد الحدیث مولانا منظور مینگل نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ طلبہ کے لیے ضروری ہے وہ اپنے اوقات کو قیمتی بنائیں تاریخ اور اسلاف کی زندگیاں گواہ ہیں بعض طلبہ محنت سے اپنے اساتذہ سے بھی آگے بڑھے ہیں اسی لیے کہتے ہیں شاگر د کی کامیابی درحقیقت استاد کی کامیابی ہے ، انہوں نے کہاکہ تبدیلی کبھی نعروں یا وعدوں سے نہیں آتی تبدیلی دلوں کو بدلنے سے آتی ہے، مدارس دلوں کی تبدیلی کے ادارے ہیں یہاں جو بھی آتا ہے نکھر کر جاتاہے، مدارس نے قرآن وحدیث کو عام کرنے میں کردار ادا کرنے کے ساتھ دین کے پیغام امن کو بھی دنیا میں پھیلایا ہے۔جامعۃ الرشید کے مولانا ندیم الرشید نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ طلبہ سوشل میڈیا سے زیادہ کتب پر توجہ دیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں