2 19

چین کے ‘کوانٹم سیٹ لائٹ’ سے لی گئی 24.9 بلین پکسلز کی تصویر کی حقیقت

ان دنوں سوشل میڈیا اور مختلف ویب سائٹس پر ایک حیرت انگیز تصویر کا چرچا ہے اور اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک چینی سیٹ لائٹ سے کوانٹم ٹیکنالوجی کے ذریعے 24.9 بلین پکسلز کی تصویر لی گئی ہے۔

یہ وائرل تصویر 360 ڈگری کی برڈ آئی ویو کی تصویر ہے اور اسے اس قدر زوم ان کیا جا سکتا ہے کہ آپ سڑکوں پر چلنے والے لوگوں کی شکلیں اور گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں پر درج باریک سے باریک تفصیلات بھی واضح پڑھ سکتے ہیں۔

اس تصویر کی خاص اور حیران کن بات یہ ہے کہ آپ جتنا بھی زوم ان کریں آپ کو وہاں موجود چیزیں اور لوگ مزید واضح ہوتے چلے جائیں گے۔

آپ خود اسے اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔

دی ٹائمز ناؤ سمیت کئی بڑی ویب سائٹس نے لکھا کہ یہ تصویر ‘کوانٹم ٹیکنالوجی’ کا شاہکار ہے جو کہ ایک چینی سیٹ لائٹ میں نصب ہے۔

حالانکہ درحقیقت سیٹ لائٹ اور کوانٹم ٹیکنالوجی جیسے الفاظ اس لیے استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ تصویر کو وائرل کیا جا سکے۔

ایک ٹوئٹر صارف نے تصویر کو سمجھے بغیر ٹوئٹ کیا کہ یہ سیٹ لائٹ سے لی گئی ہے۔ تاہم، تھوڑی تحقیق کے بعد جلد ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے دوبارہ ٹوئٹ کیا کہ یہ تصویر ایک اسٹوڈیو ‘بگ پکسل ٹیکنالوجی کارپوریشن’ نے بنائی اور اسے شنگھائی کے اورینٹل پرل ٹاور کی چھت سے لیا گیا۔ بگ پسکل کا کہنا ہے کہ یہ تصویر 195 گیگا پکسل کی ہے۔


تو اس حیران کن تصویر کی حقیت کیا ہے اور اس کے پیچھے کیا سائنس چھپی ہے؟

نہیں، یہ تصویر سیٹ لائٹ سے نہیں لی گئی ہے!
یہ شنگھائی شہر کی تصویر ہے اور اسے جنگکن ٹیکنالوجی جو کہ کلاؤڈ ڈیٹا پروسیسنگ اور تخلیقی فوٹوگرافی میں پیش پیش ہے، نے بنایا ہے۔

یہ تصویر مذکورہ کمپنی نے شنگھائی نیوز کی دعوت پر 2015 میں شنگھائی کے اورینٹل پرل ٹاور سے بنائی تھی۔

کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ تصویر 195 ارب پکسلز کی ہے، شنگھائی شہر کی خوبصورتی کو واضح کرتی یہ تصویر ایشیا کی سب سے بڑی اور دنیا کی تیسری بڑی تصویر ہے۔

اس تصویر کو دنیا بھر میں خوب پذیرائی ملی اور صرف ایک سال میں 82 لاکھ مرتبہ اسے وزٹ کیا گیا۔

یہ بڑی پینوراما تصویر چھوٹی چھوٹی متعدد تصاویر کو جوڑ کر بنائی گئی ہے۔ اس تصویر کو بنانے میں کوئی سیٹ لائٹ استعمال نہیں کیا گیا بلکہ یہ بہت ہی ہائی ریزولوشن کیمروں اور ‘امیج اسٹچنگ (تصویر کو جوڑنے والی) ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے۔

دلچسپ مگر پھر بھی پریشان کن
یہ تصویر بلاشبہ دلچسپ اور حیرت انگیز ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پریشان کن ہے کیونکہ جتنی تفصیلات اس تصویر میں ظاہر ہوتی ہیں وہ نجی زندگی کی سیکیورٹی کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیتی ہیں۔

عین ممکن ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں جائے گی تو لوگوں کی پرائیویسی کو اس سے شدید خطرات لاحق ہوں گے کیونکہ کوئی بھی شخص کئی سو کلومیٹرز سے آپ کو واضح دیکھ سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں