49135374_1634389269994371_8403147774261985280_n 124

علماء کا دورہ میران شاہ کی حقیقت!!!

تحریر :محمد نزیر ناصر
گزشتہ مہینوں آرمی چیف جنرل قمر باجواہ صاحب نے ہر شہر کے جید علما کرام بشمول مفتی تقی عثمانی ،مفتی منیب الرحمن،عبدالرزاق اسکندر سمیت دیگر علما سے ملاقاتیں کیں تھیں جس کامقصد ہائیبرڈ وار سے علما کو آگاہ اور ان کا تعاون حاصل کرنا تھا
انہی ملاقاتوں میں آرمی چیف نے کھل کر علما کرام سے بات کی اور ان کو کھل کر بات کرنے کی اجازت دی اسی میں علما نے ختم نبوت کے ایشوز آسیہ مسیح کیس اور بہت سے گلے شکوے جس میں ماضی میں فوج کی جنگی حکمت عملی پر تنقید بھی کی اور سوالات بھی کیے گئے ۔
ایک سوال یہ بھی تھا کہ جن ایریاز میں آپریشن ہوئے لوگوں کو بے گھر کیا گیا ان کا کیا بنا کیا منظور پشتین سمیت دیگر کی اٹھنے والی آوازیں سچ ہیں؟
اس پر کہا گیا کہ’’ سب پروپیگنڈہ اور جھوٹ کا پلندہ اور پاک آرمی سے عوام کو بدظن کرنے کی ایک عالمی مہم کے تحت کیا جارہاہے تاکہ عالمی سطحی پر پاکستان اور پاکستانی قوم کو دنیا کے لیے خطرناک قرار دیا جاسکے‘‘
پھر سوال اٹھا جناب دہشتگردی کی جنگ میں کھنڈر کا منظر پیش کرنے والے میران شاہ سمیت دیگر علاقوں کا کیا بنا؟
جواب آیا انشا اللہ ’’اس کا بھی آپ کو دورہ کرائیں گے آپ دیکھ لیجئے گا اگر آپ کو کچھ غلط لگتاہے تو ہمیں بتا دیں ہم مزید بہتر کریں گے‘‘اسی سلسلے میں گزشتہ روزکچھ علماء کو پہلے اسلام آباد پھر وہاں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے میران شاہ لیجایا گیا وہاں فوج کی جانب سے علما کو مکمل بریفنگ دی گئی، انہیں بتایا گیا کہ اسلام کے نام پر جو لوگ ملک کیخلاف ماضی میں لڑے ان کی اصلیت یہ تھی کہ وہ’’ را‘‘ سمیت دنیا بھر کی ایجنسیوں کی مدد سے پاکستان کے خلاف سرگرم تھے پاک فوج نے جواں مردی کا مظاہرہ کرتے ہئے ان کاقلعہ قمعہ کردیا، دہشتگردی کی جنگ میں پوری قوم نے بے شمار قربانیاں دی جس کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی اور اسی قربانی کے نتیجے میں ملک کو 2016تک ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی باتیں کرنے والے دشمنوں کے عزائم بھی خاک میں مل گئے اور دنیا پاک فوج کی ان عظیم کامیابیوں پر آج بھی ششدر ہے ۔
علما کو میران شاہ کی وہ تعمیرات اور ترقی بھی دیکھائی گئی جو فوج کررہی ہے،وہ بنکر نما غار بھی دیکھائے گئے جہاں بیٹھ کر ملک دشمن عناصر دیگر حصوں میں بم دھماکوں اور دہشتگردی کی پلاننگ کرتے تھے.
فوج نے علما کو اس لیے مدعو کیا کہ ماضی میں ان علاقوں میں دہشتگردوں نے علما کا خوب سہارہ لیا تھا اسی بل بوتے پر بہت سے نیٹ ورک کام کررہے تھے تاکہ اگر کوئی ایسا ہے تو وہ سمجھ لے علما پاک فوج کے شانہ بشانہ ہیں۔
علما کے ذریعے قوم کو یہ پیغام پہنچانا تھا کہ جو لوگ فوج پر تنقید کرتے ہیں یا منظور پشتین جیسوں کو سپورٹ کررہے ہیں وہ اپنے علما سے آنکھوں دیکھا حال سنیں،اور کسی سازش کا شکار نہ بنیں
تعجب ہورہا ہے خبر کے وائرل ہوتے ہی ہرشخص ایسے تبصرے کررہا ہے جیسے علما نے اپنے ملک کی فوج دعوت پر دورہ نہ کیا ہو بلکہ دشمن فوج سے جا ملے ہوں۔
یہ وہی لوگ ہیں جو ماضی میں دہشتگردی ہر واقعے کو علما سے ملانے کی کوشش کرتے اور علما کو فوج کا دشمن قرار دینے کی سعی کرتے رہے ہیں آج جب علما فوج کی دعوت پرکسی دورے پر یا اجلاس میں جاتے ہیں تو بھی ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔
پاک فوج آخر ہمارے ہی ملک کی فوج ہے ہم جس دھرتی میں پیدا ہوئے اسی کی سرحدات کے محافظ ہیں رہی بات جنگی غلطیوں اور کوتاہیوں کی اور اس خمیازے کی جو قوم نے بھگتا ہے، تو کیا ہم اپنی فوج کیخلاف اسلحہ اٹھاکر اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچائیں یا پھر تنقید برائے تنقید کرکے جگ ہنسائی کا سامان فراہم کریں،ساتھ چلیں گے مشاورت کریں گے اصلاح کریں گے تو اصلاح ہوگی.اداروں سے ٹکراکر اصلاح نہیں زندگیاں اسلحہ ہوجاتی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں