458

ادب اطفال کے روح رواں

محمد اسامہ قاسم
ایک ماہ قبل مجھے اپنے چند دوستوں کے ساتھ ای لائبریری لاہور میں ہونے والی ایک تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا جس سے ہمیں ایک تو ای لائبریری کا تعارف ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ محترم جناب اظہر عباس صاحب کی طرف سے یہ دعوت بے ملی کے 23 دسمبر بروز اتوار کو کاروان ادب اطفال پاکستانکے زیر اہتمام ملک پاکستان کے چار درویش محترم جناب امان اللہ شوکت نیئر محترم جناب افق دہلوی محترم جناب شریف شیوہ محترم جناب امتیاز عارف صاحب کی قلمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ان کے اعزاز میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے وقت کے ساتھ ساتھ اس پروقار تقریب کی تشہیری مہم کا باقاعدہ آغاز ہوا .
ہم نے بھی بچپن سے ادبی کہانیاں پڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنا بھی شروع کردیا تھا اس حوالے سے اب تک بچوں کے ادب کو پڑھنے اور بچوں کے ادیبوں سے ملنے کا بے حد شوق رہتا ہے حافظ ابن یوسف کے ساتھ میرا جانے کا پروگرام بنا مگروہ کسی عذر کی بنا پر شریک نہ ہو سکے ہم دعوت کے مطابق مقررہ وقت پر ای لائبریری لاہور کے کانفرنس ہال میں پہنچے تو وہاں پر پہلے سے ہی مہمان حضرات موجود تھے جو کہ چند مہمان گرامی کا انتظار کر رہے تھے .
پروگرام کا باقاعدہ آغاز ملتان سے آئے ہوئے مہمان نامور قلم کار محترم جناب قاری محمد عبداللہ صاحب کی تلاوت سے ہوا اس کے بعد عبدالصمد مظفر صاحب نے نعت رسول مقبول پیش کی
میری قسمت کے مجھے کانفرنس ہال میں بڑے نامور ادیبوں کے درمیان بیٹھنے کا موقع ملا میرے ساتھ محترم جناب حافظ مظفر محسن صاحب صدارتی ایوارڈ یافتہ علی عمران ممتاز قاری محمد عبداللہ اور ڈاکٹر ریاض طارق کے درمیان بیٹھ کر پروگرام سنا
کاروان ادب اطفال کے اس پروگرام میں صرف باذوق اور قلم قبیلہ سے تعلق رکھنے والے احباب ہی تشریف لائے تھے
سب سے پہلے محترم جناب آصف بلال صاحب نے ای لائبریری لاہور کے حوالے سے تعارف کرایا
اس کے بعد کاروان ادب اطفال کا تعارف محترم جناب اظہر عباس اور وسیم کھوکھر صاحب نے کرایا اس کے بعد بالترتیب مہمانان گرامی نے ان چار درویشاں قلم و کتاب کے حالات و واقعات قلمی کردار اورادبی خدمات کے ساتھ ساتھ ان شخصیات کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا
ناصر زیدی صاحب مزمل صدیقی صاحب قاسم گورایہ صاحب نے ان حضرات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان شخصیات کی چند قلمی تحریریں اور انکے لکھے اشعار سنا کر محفل کو گرمایا
عائشہ بنت امان اللہ شوکت نیئر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ بچوں کا ادب اتنا آسان نہیں جتنا پڑھنے میں سہل ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ وہ ایک نامور ادیب کی بیٹی ہے
مجھے بہت خوشی ہوئی کہ کاروان ادب اطفال پاکستان نے ان شخصیات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس پر وقار تقریب کا اہتمام کیا
عبد الصمد مظفر عبد الطیف کھوکھر علی عمران ممتاز صاحب نے بھی انتہائی دلچسپ انداز میں گفتگو کی
ڈاکٹر طارق ریاض صاحب نے اپنی گفتگو میں ‏ ان چار شخصیات کی مشترکہ صفات اور کردار کو پیش کیا
نیئر شوکت انصاری صاحب اوراسد نقوی نے انتہائی شاندار انداز میں کھل کر اظہار خیال کیا اور محفل کو ہنسانے کے ساتھ ساتھ اردو ادب کے ایسے روح رواں شخصیات کی قدر دانی کے حوالے سے بہترین انداز میں رہنمائی کی
ماہ نور نعیم صاحبہ جو کہ امان اللہ نیئر شوکت صاحب کی دعوت پر بکھر سے تشریف لائیں تھی انہوں نے بتایا کہ وہ بچوں کے ادب سے منسلک ہیں اور ان حضرات سے خصوصا امان اللہ شوکت صاحب سے رابطے میں رہتی ہیں ان چاروں ادیبوں کو انہوں نے سلامی عقیدت پیش کیا
نادر کھوکھر اور طفیل اختر نے بھی انتہائی مختصر وقت میں گفتگو کرتے ہوئے حاضری کو یقینی بنایا
نجم سحر بنت امتیاز عارف صاحبہ نے اپنے ابا جان کے حوالے سے بتایا اور کہا کہ میں اس بات پر فخر محسوس کرتی ہوں کہ میں ایک ادیب کی بیٹی ہوں
محترم جناب حافظ مظفر محسن صاحب نے سب پہلے ادب اطفال کے خصوصی ایڈیشن پر خوشی کا اظہار کیا جو کاروان ادب والوں نے ان چار درویشوں کے حوالے سے خصوصی ایڈیشن نکالا
اسکے بعد انہوں نے کہا کہ یہ تقریب پذیرائی اور ان شخصیات کی تخلیقات کو خراج تحسین پیش کرنا حکومت کا کام ہے مگر اسے اظہر عباس وسیم کھوکھر اور کاشف بشیر اور ناصر زیدی صاحب نے کیا ہے میں انہیں بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں
اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے محترم جناب اشفاق احمد صاحب جوکہ سابقہ ایڈیٹر رہ چکے ہیں ماہنامہ تعلیم و تربیت کے انہوں نے اپنی گفتگو میں کے ساتھ اپنے تعلق اور انکی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ چاہئے تو یہ تھا کہ ان میں سے ہر ایک درویش کے لئے الگ الگ محفل سجائی جائے
ان مہمانان گرامی کی گفتگو کے بعد ان چار درویشوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا
محترم جناب امتیاز عارف صاحب محترم جناب افق صاحب دہلوی محترم جناب شریف شیوہ صاحب اور امان اللہ نیئر شوکت صاحب نے مختصر وقت میں اپنے چند اشعار گزرے واقعات اور شرکاء کی رہنمائی کرتے ہوئے کہا اب ہم تو بوڑھے ہو چکے اس میدان کو اب آپ نے سنبھالنا ہے جو کہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے
ادب اطفال ہی سے بچوں کی ذہنیت اور تربیت ہوتی ہے لہذا اس کام کو سنجیدگی اور تسلسل کرنے کی ضرورت ہے
انکے بعد محترم جناب کاشف بشیر کاشف جرنل سیکرٹری کاروان ادب پاکستان نے اپنے اس عظیم قافلے کے کردار بانیان اور اس تقریب کے انعقاد سے وابستہ جذبات کا اظہار کیا اور آخر میں اظہر عباس نے مرحوم ادیب و دانشور ابصار عبد العلی صاحب کی مغفرت و بخشش کے لئے تقریب کی اختتامی دعا کے لئے قاری عبد اللہ صاحب کو دعوت دی
دعا کے بعد ان چار درویشوں کو ایوارڈز مہمان خصوصی اشفاق احمد صاحب اور وسیم کھوکھر صاحب کے ہاتھوں دئے گئے
تقریب کے بعد میزبان حضرات کو مل کر اشفاق احمد صاحب کے ساتھ انکی گاڑی میں واپسی ہوئی مجھے مسلم ٹاؤن اتارنے کے بعد جوہر ٹاؤن کی طرف روانہ ہوئے
آج کی اس شاندار تقریب میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور ادب اطفال کے ذوق میں اضافہ ہوا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں