%d9%86%d8%b8%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%b5%d8%b1 0

آہ ہمارے استاد-مولانارشید اشرف

حضرت مولانا ابن الحسن عباسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دار العلوم کراچی میں ہمارے ہر دل عزیز استاد مولانا رشید اشرف صاحب کل شام، مسافران آخرت میں شامل ہو گئے، دو سال قبل ان پر فالج کا حملہ ہوا تھا، اس وقت ان کی صحت یابی کی دعا کے لئے درج ذیل ایک شذرہ لکھ کر سوشل میڈیا پر اس ناکارہ نے نشر کردیا تھا:
“حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی جن کتابوں کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہے ان میں ان کے سنن ترمذی شریف کے درسی افادات پر مشتمل کتاب درس ترمذی ہے، سنن ترمذی شریف کی اردو شروح میں جو قبول عام اسے حاصل ہے، شاید ہی کسی اور شرح کو ہو… لاتعداد طلبہ و طالبات نے اس سے فائدہ اٹھا یا اور اٹھا رہے ہیں، اس کے مرتب اور ہمارے ہر دل عزیز استاد مولانا رشید اشرف صاحب گزشتہ چند روز سے شدید علیل ہیں، ان پر فالج کا اٹیک ہوا ہے اور ہسپتال میں داخل ہیں، استاد محترم گزشتہ چالیس سال سے دارالعلوم کراچی میں منصب تدریس کو آباد کیے ہوئے ہیں، اور چند سالوں سے دوسری کتابوں کے علاوہ دورہ حدیث میں ترمذی شریف کا اہم سبق بھی ان کے پاس ہے، بلاشبہ ان کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں میں ہے، وہ حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے خواہر زادہ اور وفاق المدارس کی امتحانی کمیٹی کے رکن ہیں، آج وہ صاحب فراش ہیں، اور دعاؤں کے محتاج…دعا فرمائیں اللہ جل شانہ انہیں جلد شفایاب فرمائے”

مولانا رشید اشرف صاحب 1957 میں پیدا ہوئے ،انیس سال کی عمر میں انہوں نے سند فراغت حاصل کی،1976 میں ان کا دارالعلوم کراچی میں بطور استاد تقرر ہوا،یہ آخری استاد تھے جن کا تقرر مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ نے کیا ،اس طرح تقریبا 45 سال انہوں نے دارالعلوم کراچی میں تدریسی،تصنیفی اور انتظامی خدمات انجام دیں

مولانا رشید اشرف صاحب سے ہم نے درجہ رابعہ میں مقامات حریری اور درجہ خامسہ میں قرآن کریم کے شروع کے دس پاروں کا ترجمہ پڑھا لیکن میرا ان سے خاص تعلق رہا، جوصرف درس گاہ تک محدود نہیں تھا، شروع میں ان کے کمرے اور بعد میں ان کے گھر آنا جانا لگا رہتا اور ان سے علمی اور تربیتی استفادہ جاری رہتا ، وہ بڑے مرنجا مرنج اور شفیق استاذ تھے ، علمی اور تحقیقی ذوق رکھتے تھے ، ان سے طالب علمانہ علمی بحثیں ہوتیں ، دوسرے لفظوں میں یوں کہئے ان کے تحقیقی ذوق کو آواز دینے کے لیے ہم کوئی بحث شروع کردیتے یا کوئی اشکال کردیتے، بس پھر کیا تھا۔۔۔۔سبحان اللہ، ان کی طبیعت کھل جاتی اور جب تک سامنے والے سے مطمئن ہونے کا وہ اعتراف نہ کرا لیتے ، اس وقت تک وہ دلائل کے انبار لگاتےرہتے۔۔۔۔۔۔ وہ بہت ہی پرکشش انداز گفتگو کرتے اور جوں جوں بات بڑھتی، ان کی آواز کا ردھم بھی اسی طرح بڑھتا چلا جاتا، جو ایک خطیبانہ دل کش آہنگ پر جاکر ختم ہوتا۔

وہ اس زمانے میں کتابوں کی مختصر سی تجارت بھی کرتے تھے اور ہم ازراہ تفنن کہتے تھے کہ “استاذ جی! آپ کتاب مہنگی بھی دیتے ہیں اور اس کے ساتھ بندہ سے یہ اعتراف بھی کراتے ہیں کہ یہ سستی ہے” ۔۔۔۔۔۔اس اعتراض کو وہ اپنے مخصوص طرز ادا سے بے جا قرار دیتے ! ۔۔۔وہ طلبہ کو ہدیہ میں بھی بکثرت کتابیں دیتے تھے ، درجہ رابعہ میں انہوں نے ہمیں سب سے پہلے عربی اردو کی مشہور قاموس “المنجد” دی تھی، یہ سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا،

انہوں نے اپنے والد مولانا نور احمد صاحب کی سوانح ” متاع نور ” کے نام سے لکھی ہے ، ان کے کہنے پر یہ مسودہ شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب کی خدمت میں پیش کیاگیا جس پرحضرت نے بہت جاندار مضمون لکھاجو شامل کتاب ہے ، اس زمانے میں میری کتاب ” متاع وقت۔۔۔۔۔” چھپ گئی تھی، دونوں کتابوں کے نام میں لفظ “متاع” مشترک ہے ۔۔۔ مولانا رشید اشرف صاحب سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے کھڑے کھڑے اپنے اسی محققانہ طرز میں ” متاع نور” کی پانچ چھ وجوہ تسمیہ بیان فرمادیں۔

مولانا نور احمد صاحب، مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع صاحب کے خادم خاص اور داماد تھے، یہ اصل میں برما اراکان کے تھے، دیوبند میں حضرت مفتی صاحب کی خدمت میں لگ گئے اور پھر ان کے گھر کا حصہ بن گئے ، مولانا نور احمد صاحب ایک بڑے مہم جو انتھک عالم دین تھے، دارالعلوم کراچی کے قیام میں ان کی بڑی خدمات ہیں، اور وہ اس کے ناظم اول رہے ہیں، مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ کے دیگر کاموں میں وہ ان کے دست و بازو رہے، بعد میں انہوں نے” ادارة القرآن ” کے نام سے اشاعتی ادارہ قائم کیا جو پاکستان کے مشہور کتب خانوں میں سے ایک ہے،

جب ہم دار العلوم کراچی میں داخل ہوئے ،اس وقت مولانا رشید اشرف صاحب۔ وسطانی درجوں کے استاذ تھے اور ان کے علمی اور تحقیقی ذوق کا بڑا شہرہ تھا، اس زمانے میں کئی کتابوں کا تقریری امتحان ہوتا تھا ، ان کے پاس کسی کتاب کا امتحان آتا تو طلبہ بڑے گھبرائے ہوئے ہوتے، ہم درجہ ثانیہ میں تھے ، منطق کی کتاب “ایسا غوجی” کا ششماہی امتحان ان کے پاس آیا، ان کے ہاں امتحان دینے کا یہ پہلا تجربہ تھا ، واقعتا وہ بال کی کھال اتارتے تھے، انہوں نے ہمیں سو میں سے صرف ٧١ نمبر دئےجو جماعت میں سب سے زیادہ تھے

وہ اردو ادب کا بہت اعلی ذوق رکھتے تھے ، اپنے اساتذہ میں مولانا محمد تقی عثمانی صاحب سے بہت متاثر تھے، ان کے بھانجے بھی تھے ، اس لیے اس زمانے میں حضرت کے علم و مطالعہ کی بہت ساری باتیں ہمیں ان ہی سے پتہ چلتی ، وہ نسیم حجازی کے ناولوں کے بڑے مداح تھے، یہ ناول میں نے بھی پڑھ رکھے تھے، ان پر تبصرہ ہوتا، ایک بار” قافلہ حجاز ” کی ایک عبارت دکھائی، فرمایا، حضرات صحابہ کرام کی اس سے زیادہ خوبصورت تعارف نہیں ہوسکتا، وہ کہتے تھے “قیصر و کسری” نسیم حجازی کا وہ ناول ہے جہاں آ کر بس اس نے قلم توڑ دیا۔۔۔ اس میں اسلام سے پہلے زمانہ جاھلیت اور اسلام کے بعد کے دور کی منظرکشی کر کے دونوں ادوار کا تقابل کرایا گیا ہے !۔۔۔۔۔۔میرانیس و دبیر کے مرثیوں کی سلاست اور اس کے ادبی معیار کے بھی وہ بڑے مداح تھے اور انہیں ان مرثیوں کے کئی کئی بند یاد تھے

مولانا رشید اشرف صاحب رحمہ اللہ نے “البلاغ مفتی اعظم نمبر” کےلئے مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ کے مشہور شاگردوں اور ان کی خدمات کے تعارف پر جو مقالہ لکھا ہے وہ بھی خوب ہے،اس میں مفتی صاحب کے تیس سے زائد ممتاز تلامذہ کا تعارف کرایا گیا ہے،اس مقالے کو اضافے کے ساتھ مستقل شائع کردیا جائے تو اہل علم کےلئے مفید رہے گا

وفاق المدارس کی مجلس عاملہ میں کچھ عرصہ قبل طے ہوا کہ دینی مدارس کے نظام تعلیم و تربیت، نظم امور اور ذمہ داریوں سے متعلق قواعد و ضوابط کا ایک لائحہ عمل مرتب کیا جائے، تاکہ مدارس اس سے فائدہ اٹھاسکیں، اس کے لئے جن تین حضرات کا تقرر ہوا، ان میں ایک مولانا رشید اشرف صاحب بھی تھے ، مولانا نے مدرسہ کے مالیاتی اور تربیتی نظام پر لکھا اور حسب عادت انتہائی محنت اور تحقیق سے انہوں نے اپنا حصہ مرتب کیا،بعد میں وفاق کی طرف سے یہ کام میرے حوالہ کیا گیا ، وفاق المدارس کے ریکارڈ میں ان تین حضرات کے کام کے علاوہ اس موضوع پر اکابر علماء کے مرتب کردہ قواعد و ضوابط اور مضامین بھی موجود تھے، میرے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ ان سب تحریروں اور مضامین کو مرتب انداز میں کتابی شکل دے دی جائے، چنانچہ یہ کتاب الحمدللہ مرتب ہوگئی اور وفاق المدارس کے مرکزی دفتر سے ” مدارس وجامعات کا نظام تعلیم وتربیت ” کے نام سے گذشتہ سال شائع ہوچکی ہے۔
مولانا رشید اشرف صاحب نے اصلاح و تربیت کے حوالہ سے جو کچھ لکھا تھا، وہ بھی بہت عمدہ تھا ،اس لیے اسے میں نے الگ مضمون کی صورت میں ماہنامہ وفاق المدارس رمضان ١٤٣٨ میں شائع کروایا، اس موقع پر مولانا سے آخری بار تفصیلی گفتگو ہوئی ، بہت خوش ہوئے ،دعائیں دیں ، یہ فالج کے پہلے حملے کے بعد کا دورانیہ تھا، ان کی آواز اور زبان میں اثر تھا لیکن روبہ صحت تھے، وہ اپنے معمولات نبھانے لگے تھے ، دورہ حدیث میں گذشتہ بارہ تیرہ سال سے سنن ترمذی کا سبق ان کے پاس تھا، اور مدرسہ البنات کا نظم بھی۔۔۔۔۔ابھی چند قبل وہ عمرے کے لیے گئے، واپسی ہوئی۔ 25 دسمبر 2018 کو دوبارہ فالج کا حملہ ہوا،دماغ کی رگ پھٹی، بےہوش ہوئے ،کل تک بے ہوش رہے اور پھر واپس نہیں آئے!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں