تبلیغی جماعت کا مقصد؟

nazir-nasir

تحریر : جنید رضا
دین کی ترویج و اشاعت کے لئے اﷲ رب العزت نے ہردور میں اپنے مخصوص بندوں کا انتخاب فرمایاہے حضرات انبیاء اکرام کا مبعوث ہونا بھی اسی مقصد کی عکاسی کرتاہے انبیاء اکرام میں سب سے آخرمیں آنے والے نبی, امام انبیاء ,تاجدار اختم نبوت جناب حضرت محمد صلٰی اللہ تعالی علیہ وسلم کو بھی اسی مقصد کا مقصود بناتے ہوے عرب کی طرف مبعوث فرمایاآپۖ بھی اپنے مقصد میں کامیابی کا سرٹیفکٹ لیتے ہوے دنیا سے کوچ کرنے سے قبل اپنے صحابہ کرام اور قیامت تک آنے والے تمام اہل مسلم کو اشاعت دین اور امربلمعروف و نھی عن المنکرکو مضبوطی سے تھامنے اوردنیا وآخرت کی تمام کی تمام کامیابیاں اسی میں مضمر قرار دیتے ہوے دارئے فانی سے رحلت فرما کر خالق حقیقی سے جا ملے ،حضورۖ کی رحلت فرما جانے کے بعد آپ کے صحابہ کرام نے دین اسلام کی اشاعت کا حق اور پوری دنیا میں اس دین کو منوایا اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ اﷲ رب العزت نے ہردور میں اسی مبارک محنت اور کام کے لئے اپنے نیک بندوں کا انتخاب فرمایاہے دور حاضر میں بھی مختلف طبقات اور تنظیمیں اسی مبارک محنت کے فریضہ کو سرانجام دے رہی ہے لیکن ایک جماعت جوکہ اس مبارک کام کو سنت رسولۖ اور بعین رسول ۖاورحضرات صحابہ کرام کے طرظ عمل پر مگھن ہے اسے تبلیغی جماعت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اس جماعت کی بنیاد حضرت مولانا الیاس نے1927 میں ہندوستان کے علاقہ میوات میں رکھی, اﷲ رب العزت نے اس جماعت کو اتنی کامیا بی اور فضیلت بخشی کہ آج ملک کے کونے کونے میں اسکا ڈھنکا بجایا ہوا ہے غیر مسلم جوق در جوق دامن اسلام کو تھام رہے ہیں۔ امن ،پیار، محبت اوربھائی چا ر گی کا کردار اپنے وجود دن میں جھلکا تے ہوے اسی مبارک محنت میں مصروف ہے تبلیغی جماعت کے سالانہ2 بڑے اجتماعات ہوتے ہے ایک رائیونڈ میں دوسرا شہرقائد میں، پوری دنیا میں ایک ہی مقام ہے جہاں مسلما ن کڑو ڑوں کی تعداد میں جمع ہوتے ہیں وہ مقام حج ہے اگر مقام حج کے بعد کوئی دوسرا مقام جہاں اہل مسلم کی اتنی کثیر تعداد میں جمع ہونے کو ماناجائے تو وہ تبلیغی اجتماعات ہے۔
(تبلیغی جماعت کی چندمنفرد خصوصیات)
1- تبلیغی جماعت کا کوئی مخصوص نام نہیں ہے۔
لوگ اپنی آسانی کے لیے “تبلیغی جماعت” کہتے ہیں۔
2- دنیا بھر میں کسی بھی تبلیغی مرکز پہ کوئی نام وغیرہ، یا بورڈ نہیں لگا ہوا۔
3- مدرسہ رائیونڈ اور اس کی ذیلی شاخوں سے پڑھنے والے طلبا کو کوئی سند نہیں دی جاتی۔
4- تبلیغی مدارس اور مراکز کے لیے کوئی چندہ یا کھالیں اکٹھی نہیں کی جاتی۔
5- رائیونڈ مرکز اور تبلیغی اجتماعات کے علاوہ دنیا کے کسی تبلیغی مرکز میں کنٹین نہیں ہے۔
6- دنیا کے کسی بھی ادارے میں، خواجہ سرا کو نہیں لیا جاتا، اور نہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جبکہ تبلیغی جماعت میں خواجہ سرا کے لیے الگ شعبہ بھی ہے اور تحفظ اور عزت بھی دی جاتی ہے۔
7- پاکستانی روزگار کمانے پوری دنیا میں جاتے ہیں۔ جبکہ پوری دنیا کے لوگ تبلیغی جماعت میں وقت لگانے پاکستان آتے ہیں۔
8- تبلیغی جماعت کی پرموشن کے لیے۔ کوئی ٹی وی چینل، ویب سائیٹ، حتی کہ اجتماع کے لیے ایک بھی پرچہ نہیں چھاپا جاتا۔
9- تبلیغی اجتماع میں بہت سے لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ بیان کرنے والے عالم کا نام کیا ہے۔
10- حج اجتماع کے بعد بڑے بڑے اجتماع، تبلیغی جماعت کے ہوتے ہیں۔
11- تبلیغی مراکز اور اجتماعات کی سیکیورٹی کلاشنکوف بردار نہیں بلکہ ڈنڈا بردار کرتے ہیں

2017کا پہلا اجتماع2 فروری تا 5 فروری کراچی کے علاقہ اورنگی ٹاون میں ہوا جس میں تقریبا 20 لاکھ کے قریب فرزندان توحید نے شرکت کی،2 فروری بعد نماز عصر شروع ہونے والا یہ تاریخی اجتماع 5 فروری بروز اتوار بعد دعا صبح ١١ بجے اختتام پزیر ہوا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مبلغ اسلام حضرت مولانا طارق جمیل کہاکہ علم اور عمل کی زینت اخلاق ہے ایک میٹھا بول مخاطب کے وجود کو نرم کر دیتا ہے حضورۖ پاکیزہ اخلاق کے مالک تھے پورا قرآن مجید آپ کے اخلاق سے بھرا ہوا ہے حضورۖنے اپنے اخلاق اور میٹھے بول سے قریش کے بڑے بڑے سرداروں کے دل جیت لیں تھے، لیکن آج ہمارا معاشرہ بد اخلاقی کے دلدل میں ڈوبا ہوا ہے باپ بیٹے سے، استاذ شاگرد سے، ملازم نوکر سے اور حکومت دار عوام سے اخلاق سے بات کرنے کو تیار نہیں، کون سی برائی ہے جو آج ہمارے معاشرے کی زینت نہی بن رہی جھوٹ یہاں تو بو لا جاتا ہے، غیبت یہاں کی جاتی ہے، ناپ تول میں کمی یہاں کی جاتی ہے، شراب یہاں سر عام کی جاتی ہے، زنا یہاں رائج ہے ، امن کے گہوار امن کے نام پر بد امنی پھیلانے میں مصروف ہے کوئی پو چھنے والا نہیں، قاتل سرئے عام اکھڑ کر چلتا ہے مظلوم اپنے ظلم کو چھپائے ہوئے بھی پابندل سلاسل ہے اس معاشرے کو بدلا جاسکتا ہے مگر حضورۖ کی مبارک زندگی پر عمل پیراہونے سے۔
مولانا احمد بھاولپوری نے خطاب کرتے ہوے فرمایا تمام کاموں کی ابتدا اور انتھاء اللہ کی طرف سے ہے ہم اگر اللہ کو اپنے دلوں میں بٹھالے تو اللہ بنی اسرائیل کی طرح ہم پر بھی اپنی لا تعداد نعمتوں کے دروازے کھول دینگے اللہ ہماری مدد و نصرت بھی اسی طرح فرمائینگے جس طرح حضرت ابراھیم کی نمرود سے اور حضرت موسی کی فرعون کے مقابلے میں مدد فرمائی تھی۔ ہمارا دل ،دماغ جسم کا ہر ایک ایک حصہ پہ پکارتا رہے کہ اللہ ہی سے ہوتا ہے اللہ کے علاوہ سے نہی ہوتا ۔نماز قرب الہی کا سب سے بہترین ذریعہ ہے ہم اور تمام مسلمان پانچ وقت باجماعت نماز پڑھنے والے بن جائے اسی تڑپ کو لے کر دنیا میں پھرنے کا عزم کرنا ہوگا ۔
مولانا ضیا الحق نے مجمع سے ارشاد فرمایا ہم سب کی پہچان دین اسلام اور مسلمان ہے تمام انسان کو جہنم کی آگ سے بچاکر جنت میں لے جانے والے بن جائے اسی سوچ اور فکر نے ہمیںآج یہاں جمع کیا ہے اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اللہ تعالی نے ہمیں امت محمدیہ میں پیدا فرمایا جس امت میں آنے کے لئے حضرت ابراہیم نے اپنے رب سے درخواست کی تھی ،ائے اﷲ..مجھے خلیل اﷲبننے سے کھی زیادہ نبی آخرالزمان کا امتی بننا پسند ہے، لیکن اللہ نے ہمیںبغیر سوال کے ماں کی گود میں کلمہ طیبہ کے شرف سے مشرف کیا ،آپۖ کا امتی بنایا ،ایک عظیم محبت سے سرشار کیا، نبیوں والی تڑپ ہمارے دل میں منتقل فرمائی آج دعا سے قبل یہ ارادہ کرے دعوت تبلیغ کاکام تاء حیات جاری و ساری رکینگے اس پر اپنا مال اور جان اور وقت لگا کر غیروں تک اس کام کو پہنچائینگہے۔
بروز اتوار بعد نماز فجر مولانا خورشیداحمدصاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا،،اﷲرب العزت نے ہمیں اور تمام عالم انسان کو اپنی عبادت اور بندگی کے لئے پیدا فرمایا ہیںاور انسان خطائوں کا پتلہ ہے اگر کھی کوئی گناہ یا غلطی ہوجایے تو فورا بارگاہ الہی کی طرف رجوع کرنا چاہی ہیں،اﷲتعالی معافی مانگنیے والے بندوں کو اور فعل معافی دونوں کو پسند فرماتے ہے۔
بیان کے بعد دعا سے قبل مولانا ضیاء الحق صاحب نے فی سبیل اللہ خروج کرنے والی تقریبا2ہزار جماعتوں کو خصوصا اور تمام شرکا کو عموما ہدایت فرمائی ہدایت میں مسجد کے آداب نماز کا طرز عمل جماعت کی ترتیب اور وقت کو تقسیم کرنے کی ترتیب اور دعوت کا طریقہ فی سبیل اللہ نقد جماعتوں کے خروج وغیرہ کا طریقہ شامل تھا ،ہدایت کے بعد تمام اہل اجتماع بارگاہ الہی میں سجد بسو کر آنسو کی لہروں میں قاری حبیب الرحمٰن صاحب کی دعائیہ کلمات والفاظ پر آمین کرنے لگے دعا میں دین اسلام کے فریضہ پر عمل پیرا ہونے ، اشاعت اسلام، بھائی چارگی، پیار، الفت اور محبت کو رائج کرنے اور امن و امان کی بہالی اور ملک پاکستان کے لئے خصوص دعائیں مانگی گئی۔
اندھیروں کو وہ نور دیتا ہے ، ذکراسکا دل کو سرور دیتا ہے
اس کے در سے جو بھی مانگو ، وہ اﷲ ہے ضرور دیتا ہے
دعا کے بعد تمام نقد جماعتیں اپنی منزل کی طرف خروج کرنے لگی اور تمام حضرات وراثت نبوّت کا کثیر خزانہ سمیٹ کر اپنے گھروں کی رجوع کرنے لگے۔
Email.junaid53156@gmail.com

361total visits,1visits today