2 14

سپریم کورٹ نے راؤ انوار کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست مسترد کردی

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم سابق سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) راؤ انوار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی درخواست مسترد کردی۔

راؤ انوار نے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ وہ ضمانت پر ہیں اور عمرے کے لیے جانا چاہتے ہیں، لہذا ان کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے۔

راؤ انوار کا مزید کہنا تھا کہ ‘میرے بچے بھی ملک سے باہر ہیں، مجھے ان سے بھی ملنا ہے، عدالت جب بھی بلائے گی حاضر ہوتا رہوں گا’۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے آج راؤ انوار کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ‘راؤ انوار بری کیسے ہوگیا؟’

جس پر وکیل نے بتایا کہ ان کے موکل بری نہیں ہوئے، ضمانت پر ہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘اگر ضمانت پر ہے تو ضمانت پر رہنے دیں’۔

ساتھ ہی جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ‘ہمیں پتا ہے کہ کس طرح راؤ انوار کو پکڑوایا تھا، کیا راؤ انوار ریاست کے لیے اتنا اہم ہے کہ اس کے ساتھ اتنا خصوصی سلوک ہو رہا ہے’۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ‘راؤ انوار باہر جانے کی بات کر رہا ہے، اس کا پاسپورٹ ضبط ہونا چاہیے’۔

جس پر وکیل نے کہا کہ ‘ان کے کچھ گھریلو مسائل ہیں، جس کہ وجہ سے وہ جانا چاہتے ہیں’۔

تاہم چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘گھر والوں کو کہیں راؤ انوار سے یہاں آکر مل لیں’۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ‘ایک جوان بچہ نقیب اللہ مار دیا گیا، راؤ انوار یہاں سے کمایا ہوا پیسہ باہر منتقل کرنا چاہتا ہوگا’۔

اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے راؤ انوار کی ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست مسترد کردی۔

کمرہ عدالت میں موجود مقتول نقیب اللہ کے والد نے راؤ انوار کی درخواست مسترد ہونے پر عدالت کا شکریہ بھی ادا کیا۔

نقیب اللہ قتل کیس

واضح رہے کہ راؤ انوار رواں ماہ ہی اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد ایس ایس پی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔

راؤ انوار سروس کے آخری سالوں میں زیادہ تر ایس ایس پی ملیر کے عہدے پر تعینات رہے اور اس دوران انہوں نے کئی مبینہ پولیس مقابلے کیے جن میں سے ایک گزشتہ سال جنوری میں بھی سامنے آیا جس میں قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود کو ہلاک کیا گیا۔

راؤ انوار کو نقیب اللہ کیس میں مرکزی ملزم نامزد ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا جبکہ ان کا نام بھی ای سی ایل میں شامل کردیا گیا تھا۔

نقیب اللہ قتل کیس کے بعد راؤ انوار اچانک منظر سے غائب ہوگئے تھے جبکہ ایک مرتبہ ان کی اسلام آباد ایئرپورٹ سے بیرون ملک فرار کی کوشش بھی ناکام ہوئی۔

سپریم کورٹ نے جعلی پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کا ازخود نوٹس لے رکھا تھا، جس کے بعد راؤ انوار اچانک عدالت میں پیش ہوئے تھے، جہاں چیف جسٹس پاکستان نے راؤ انوار کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے جس پر انہیں عدالت عظمیٰ سے ہی گرفتار کرلیا گیا۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں راؤ انوار کے خلاف مقدمات زیرِ سماعت ہیں تاہم سابق پولیس افسر ضمانت پر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں