8 0

رسول کریمﷺ سے قبل سے آج تک غلاف کعبہ کے سات رنگوں کا قصہ

جب سے حضرت ابراہیم السلام علیہ السلام نے مکہ کی بے آب وگیاہ اور چٹیل وادی میں قدم رکھا تب سے آج تک بلکہ تا قیامت یہ ودای انسانوں کے لیے کعبہ اللہ اور مسلمانوں کے لیے قبلہ کا درجہ اختیار کر گئی۔
e1
حضرت ابراہیم علیہ السلام اوران کے شیر خوار نے اپنی ام ھاجر کے ساتھ وادی میں قدم رکھا۔ ابراہیم علیہ السلام کے چلے جانے کے بعد ھاجرہ اپنے شیر خوار کے لیے پانی کی تلاش میں اس وادی میں چکر لگانے لگیں۔ اچانک ننھے اسماعیل کی ایڑھی کے نیچے سے پانی کا ایک فوارا پھوٹ پڑا۔ اسے زم زم کا نام دیا گیا اور وہ آج تک جاری وساری ہے۔
e2

حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ واپس ہوئے تو اس وقت ان کے بیٹے اسماعیل کی عمر 30 سال ہو چکی تھی۔ طبری اور تاریخ الامم الملوک کے مطابق دونوں باپ بیٹے نے اللہ کے حکم سے خانہ کعبہ کی بنیادیں کھڑی کیں۔ تاریخی کتب میں وارد ہے کہ انہوں‌ نے کعبہ کا غلاف بھی تیار کیا۔ اس وقت کعبہ ایک چھوٹی سے عمارت تھی۔ ‘تُبع’ بادشاہ نے غلاف کعبہ تیار کیا۔ پہلی بار خانہ کعبہ میں دروازہ لگایا۔ تاریخی کتب کے مطابق ‘تبع’ نے چمڑے کا غلاف تیار کرایا جس کا گہرا بھورا رنگ تھا۔
e3

غلافہ کعبہ کے سات رنگ
تاریخی روایات کے مطابق کعبہ شریف کے غلاف کے رنگوں کی تعداد سات تک ملتی ہے۔ خاکی، سرخ، سفید، زرد، سبز، سیاہ اور سنہری رنگوں کے غلاف بنائے گئے۔ سیاہ غلاف کعبہ شریف کی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصے تک استعمال ہوا۔
e4
بعض اوقات ایک ہی وقت میں ایک سے زاید رنگوں کا غلاف بھی بنا۔ ایک بنیادی رنگ اور دوسرا اس کی تزئین وآرائش کے لیے استعمال کیا گیا۔ سیاہ کپڑے پر سنہرے رنگ کا دور اسلام کے بعد کا دور ہے۔ سیاہ کپڑے پر قرآنی آیات یا دیگر مقدس عبارات تحریر کی جاتیں۔ اس وقت غلاف کعبہ کے دو رنگ سفید اور سرخ استعمال اس کی تزئین کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یمنی کپڑے کا رنگ سفید اور سرخ ہوتا ہے۔
8

e5

غلاف کعبہ کے خالص ریشمی کپڑا تیار کیا جاتا ہے۔ غلاف کے اوپر تلے مختلف پرت بنائے جاتے ہیں اور یہ اچھا خاصہ وزنی ہوتا ہے جسے اٹھانا آسان نہیں رہتا۔

خانہ کعبہ پر غلاف رکھنے کا عرصہ بھی مختلف رہا ہے۔ حالیہ عرصے میں ہر سال غلاف کعبہ تبدیل کیا جاتا ہے۔ ماضی میں بعض دفعہ غلاف کعبہ کو سال میں تین تین بار بھی تبدیل کیا جاتا رہا ہے۔

غلاف کعبہ کی تبدیلی کی مشہور تاریخوں میں یوم عاشور، یکم رجب، 27 رمضان، یوم الترویہ اور قربانی کا دن زیادہ مشہور ہیں۔

نبی اور صحابہ کرام کا تعامل
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فاتح مکہ کی حیثیت سے شہر میں داخل ہوئے تو اس وقت قریش مکہ کا تیار کردہ غلاف کعبہ کی زینت تھا۔ آپ صلی اللیہ علیہ وسلم نے اسے تبدیل نہیں کیا بلکہ اسے باقی رکھا گیا۔ جب خانہ کعبہ میں خوشبو چھڑکنے والی ایک خاتون کے ہاتھوں غلاف کعبہ کا کچھ حصہ جل گیا تو آپ نے سفید اور سرخ رنگ کا یمانی کپڑے کا نیا غلاف بنوایا۔

آپ کے بعد آپ کے خلفا حضرت ابو بکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما نے سفید رنگ کا غلاف کعبہ تیار کرایا۔ اسے قباطی کا نام دیا جاتا تھا۔ یہ بہت پتلا کپڑا تھا جسے مصر میں تیار کیا جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں بیت المال سے سال میں دو بار غلاف بنایا اور تبدیل کیا جاتا۔ ان کے دور میں تبدیلی کے بعد پہلا غلاف شیبہ بن عثمان الحجی کے پاس رکھ دیا جاتا تھا۔
e6

فاطمی دور میں غلاف کعبہ زرد رنگ کا رہا۔ محمد بن سبکتگین کے دور میں زرد ریشمی کپڑے کا غلاف بنایا گیا۔ عباسی خلاف ناصر نے سبز ریشم اور اس کے بعد سیاہ ریشم استعمال کیا جو آج تک جاری ہے۔

غلاف کعبہ کا کارخانہ
سنہ 1346ھ میں سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود نے غلاف کعبہ کے لیے الگ سے ایک ادارہ اور کارخانہ قائم کرنے کا حکم دیا۔ غلاف کعبہ کی نگرانی وزیر خزان عبداللہ بن سلیمان کو سپرد کی گئی۔ ان کے دور میں سال میں تین بار غلاف کعبہ تبدیل ہونے لگا۔

سعودی عرب میں غلاف کعبہ کے لیے کارخانے کے قیام کے بعد اس کا ریشم اور دیگر تمام ضروری اشیاء وہیں تیار کی جاتی ہیں۔ غلاف کعبہ کو آیات قرآنی سے سنہرے پانی کے ساتھ مزین کیا جاتا ہے۔ سنہرا رنگ پر سیاہ رنگ غالب ہے مگر یہ دونوں حصے خالص ریشمی کپڑے سے تیار کیے جاتے ہیں تاہم غلاف کعبہ کا اندرونی حصہ سبز یا سفید کپڑے سے تیار کیا جاتا ہے اور اس کی تبدیلی یوم عرفہ کو عمل میں لائی جاتی ہے۔

e7

پرانےغلاف کہاں جاتے ہیں؟
پرانے غلاف کعبہ کو حرم مکی کے قریب موجود میوزیم میں رکھا جاتا ہے یا تحفے کے طور پر کسی دوسرے مسلمان ملک کو دے دیا جاتا ہے۔ محفوظ رکھنے کے لیے اتارے جانے والے غلاف کو کھول کر اس کے حصے الگ الگ کیے جاتے ہیں۔

(بشکریہ اردو عربیہ )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں