e7 0

پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ میں پہلا لیور ٹرانسپلانٹ کا کامیاب آپریشن

لاہور: پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ میں پہلا لیور ٹرانسپلانٹ کا کامیاب آپریشن کیا گیا ہے۔

سرجن ڈاکٹر فیصل سعود ڈار کی سربراہی میں 3 رکنی ٹیم نے رحیم یار خان کے 31 سالہ ندیم کا جگر ٹرانسپلانٹ کیا اور آپریشن ساڑھے 12 گھنٹے تک جاری رہا۔

اسپتال ذرائع کے مطابق شہری ندیم کو اس کی اہلیہ کی بھانجی نے جگر دیا ہے جو موبائیل ٹھیک کرنے کا کام کرتا ہے۔

ندیم کا بالکل مفت آپریشن کی گیا، وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کامیاب سرجری پر کہا کہ کامیاب آپریشن جگر کے مرض میں مبتلا مریضوں کے لئے بہت بڑی خوشخبری ہے۔

وزیر صحت پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ جگر کے مریضوں کو لاکھوں روپے خرچ کر کے علاج کے لیے بیرون ملک نہیں جانا پڑے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ دور حکومت میں اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لاہور میں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ ( پی کے ایل آئی) منصوبے کی بنیاد رکھی جس پر مبینہ بے ضابطگیوں پر سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس(ر) ثاقب نثار نے از خود نوٹس لیتے معاملہ نیب کو بھجوا دیا اور پی کے ایل آئی کے صدر ڈاکٹر سعید اختر کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے انہیں بیرون ملک جانے سے بھی روک دیا۔

سپریم کورٹ نے 28 فروری کے اپنے فیصلے میں ادارے کے ایکٹ کو بحال کرنے کے احکامات دیے اور پی کے ایل آئی کو پرانی مینجمنٹ کے تحت چلانے کے احکامات جاری کیے۔

سپریم کورٹ نے ادارے کو کمیٹی کے ذریعے چلانے کے 13 ستمبر 2018 کے فیصلے کو بھی ختم کیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکٹ کے تحت ڈاکٹر سعید اختر پی کے ایل آئی کے بورڈ کے صدر اور سی ای او تھے اور وزیراعلیٰ پنجاب کے پی ایل آئی کے پیٹرن چیف ہیں۔

ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے ڈاکٹر سعید اختر کو اب تک بطور سی ای او بحال نہیں کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں