10 28

تجربہ گاہ میں تیار شریانیں گردے کے مریضوں میں منتقل

ڈائیلسِس کے عمل میں خون کے اندر فاسد مواد مشینوں کے ذریعے صاف کیا جاتا ہے، لیکن اس عمل کو تیز کرنے کے لیے ایسی شریانوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جو زیادہ چوڑی اور پریشر برداشت کرسکیں، مطالعے میں شامل تمام افراد اس عمل کے لیے غیرموزوں تھے اور اسی بنا پر ان میں تجربہ گاہ میں تیارشدہ رگیں لگائی گئیں۔

چار سال کے دوران 13 مریضوں کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ رگیں مستقل شکل اختیار کرگئیں اور ان کے زخم ازخود تیزی مندمل ہوگئے، یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر قدرتی شکل اختیار کرگئی۔

ماہرین پرامید ہیں کہ اس کامیابی کے بعد دل کے مریضوں کی متاثرہ شریانوں کو بھی خود مریضوں کے خلیات سے بناکر ان کے دل کی مرمت کی جاسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں