1 30

ٹیم بنا کر کھیلنے والے بچے ذہنی مسائل کا کم شکار ہوتے ہیں: تحقیق

بچپن سے لڑکپن اور پھر جوانی تک کا سفر بہت سے ذہنی مسائل کے ساتھ طے ہوتا ہے، اگر ہر مرحلے پر ان مسائل سے نہ نمٹا جائے تو پھر ہر مرحلہ بہت مشکل اور تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔

امریکہ میں 2016 میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ نوجوانوں میں 37 فیصد ڈپریشن کا مسئلہ بڑھ گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر بچوں کو ضروری مدد نہیں ملتی جو انہیں ڈپریشن سے نمٹنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔

حالیہ ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مل جل کر ایک ٹیم کے صورت میں کھیلے جانے والے کھیلوں کا تعلق دماغ کے لمبے عرصے تک یاداشت محفوظ رکھنے اور جذباتی رد عمل دینے والے حصے ‘ہپو کیمپال’ سے ہے۔

بالغوں میں ڈپریشن کی وجہ سے ذہن کا یہ حصہ سکڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ تحقیق میں ٹیم اسپورٹ میں شامل 9-11 سال کی درمیانی عمر کے لڑکوں میں ڈپریشن کی شرح کم دیکھی گئی۔

امریکی انسٹی ٹیوٹ آف پیڈیا ٹرکس کی ڈاکٹر سنتھیا روبیلا کا کہنا ہے کہ مل جل کر کھیلے جانے والے کھیل کی وجہ سے ایروبک معمول کا حصہ بن جاتا ہے جس سے نہ صرف حافظے، یاداشت بلکہ مزاج میں بھی بہتری آتی ہے۔

ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ٹیم اسپورٹس سے بچے بہتر طریقے سے سماجی رویے سیکھ سکتے ہیں اور اسی دوران انہیں ڈپریشن سے بچنے کا موقع بھی ملتا ہے۔

اس تحقیق میں 9-11 سال کی درمیانی عمر کے 4,191 بچے شامل تھے۔ والدین سے ان کے بچوں کے حوالے سے ایک سوالنامہ بھروایا گیا جس میں ان کے بچوں کی مختلف قسم کی سرگرمیوں میں ان کی شمولیت اور ڈپریشن کی علامات کے بارے میں پوچھا گیا تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں