3 289

یتیم ونادار بچوں کی کفالت،اسلامی نقطہ نگاہ سے

ghulam-rashool
تحریرغلام رسول شیخ،چیرمین البشری نیٹ ورک،فائونڈیشن
معاشرہ میں رہنے والے قبیلے، خاندان اور برادریاں گو بہ طور شناخت ایک دوسرے سے ممتاز ہوتی ہیں، ان کی رہائش، معاش اور ان کا تمدن جداگانہ ہوتا ہے تاہم بحیثیت معاشرت سبھی ایک ہوتے ہیں۔ غم اور خوشی میں شریک ہونا ان کا اخلاقی فریضہ ہوتا ہے۔ حوادث ِزمانہ کے تھپیڑے کھائے ہوئے لوگوں کی دیکھ بھال اور ان کی ضروریات کی تکمیل کو وہ اپنی سماجی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور کم وبیش سماج کے لوگ اس ذمہ داری کو اس لیے بھی نبھاتے ہیں کہ وہ ان کیلئے گراں بار نہیں ہوتے لیکن آج کے دور کا سب سے بڑا مسئلہ سماج کے یتیم بچوں کی کفالت ہے۔معاشرہ کے صاحب حیثیت اور متمول حضرات کے بھی قدم اس موڑ پر آکر رک جاتے ہیںکیونکہ ان کے سامنے یتیموں کا صرف پیٹ بھرنا ہی ایک ضرورت نہیںبلکہ ان کی مکمل نگہداشت، تعلیم وتربیت اور ساری ضروریات کی تکمیل ایک لمبے عرصہ کی متقاضی ہوتی ہے۔ یہی سوچ کر گویا ہر ایک اپنے کو بری الذمہ قرار دیتا ہے، جس کے نیتجہ میں ان بچوں کی زندگیاں یوں ہی ضائع ہوجایا کرتی ہیں۔
اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ اس میں ہر ایک کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے۔ اللہ پاک نے کسی کو بے یار ومددگار نہیں چھوڑا۔ ہر ایک کیلئے ایسے اسباب وذرائع مہیا کردئیے ہیں کہ وہ آسانی کے ساتھ اللہ کی زمین پر رہ کر اپنی زندگی کے ایام گزار سکے۔ یتیم ،نادار اور لاوارث بچوں کے بھی معاشرتی حقوق ہیں۔ ان کی مکمل کفالت ان کے حقوق کی پاسداری ہے اور اس سے منہ موڑلینا ان کے حقوق کی پامالی ہے۔
یتیم ونادار بچوں کی دو حیثیتیں ہوسکتی ہیں(1)ان کے پاس مال ہو(2)ان کے پاس مال تو نہ ہو لیکن ان کے عصبات، قریبی رشتہ دار یا ذوی الارحام میں سے کوئی موجود ہو۔ پہلی صورت میں یعنی اگر ان کے پاس مال ہے، تو ان کی پرورش وکفالت ان کے مال ہی سے کی جائے گی خواہ ان کا کفیل کوئی قریبی رشتہ دار یا ذوی الارحام یا کوئی غیر ہو۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ پوری احتیاط کے ساتھ ان کا مال ان پر خرچ کرے اور ان کی تربیت وغیرہ کا بھی خاص خیال رکھے۔ قرآن کریم نے تاکید کی ہے کہ ان کا مال پوری ایمانداری کے ساتھ انھیں پر خرچ کرو، اپنی ذات میں ہرگز ان کا مال استعمال نہ کرو۔ ولاتاکلوا اموالھم الی اموالِکم اِنہ کان حوبا کبیرا (سورہ نسا ئ)اور جب بالغ ہوکر سوجھ بوجھ والے ہوجائیں، نفع ونقصان کی تمیز ان کے اندر آجائے تو ان کا مال ان کے حوالہ کردو۔ فِاِن انستطعتم مِنھم رشدا فادفعوا اِلیھِم اموالھم (سورہ نسائ)
دوسری صورت انکے پاس مال نہیں ہے : لیکن ان کے عصبات یا ذوی الارحام موجود ہیں، تو پھر ان کی پرورش وپرداخت کے ذمہ دار یہی حضرات ہوں گے البتہ ان میں یہ ترتیب ہوگی کہ عصبات میں زیادہ حقداروہ ہوں گے جورشتہ میں زیادہ قریب ہوں گے اور اگر عصبات موجود نہ ہوں توذوی الارحام ان کی کفالت کریں گے اور ان میں بھی قریبی رشتہ داری کو ترجیح دی جائے گی۔ واذلم یکن للحاضن احد ممن ذکر انتقلت الحضان لذوی الارحام فی احد الوجھین وھو الاولی، لان لھم رحما وقراب یرثون بھا عند عدم من ھو اولی، فیقدم ابوم، ثم امھاتہ، ثم اخ من م، ثم خال۔ (الموسوع الفقہیہ )ہاں اگر عصبات اور ذوی الارحام میں سے کوئی موجود نہ ہو تو پھر حاکم وقت ان کو کسی مسلمان کے سپرد کردے گاتاکہ وہ اس کی پرورش کرے۔اور اس کا خرچ بیت المال برداشت کرے گا۔البحرالرائق میں ہے کہ اگر والدین فقیر ہوں تو باپ لوگوں سے بھیک مانگ کر اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرے گا۔ اور ایک قول یہ ہے کہ باپ کو بھیک مانگنے کی ضرورت نہیںبلکہ ان بچوں کا نفقہ بیت المال کے ذمہ ہے۔ ان کان فقیرین فعند الخصاف ان الاب یتکفف الناس وینفق علی اولادہ الصغار، وقیل نفقتھم فی بیت المال(البحرالرائق)معلوم ہوا کہ مذکورہ ترتیب کے اعتبار سے اگر ان لاوارثوں کی کفالت کے ذرائع موجود نہ ہوں تو ان کی کفالت بیت المال کے ذمہ ہے لیکن پاکستان جیسے ممالک میں بیت المال کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ان کی کفا لت کا مسئلہ قابل غور ہے۔ بیت الما ل کے بجائے مذہبی تنظیمیں الحمد للہ پاکستان کے طول وعرض میں کسی نہ کسی شکل میں امت کے مسائل پر نظر رکھ رہی ہیں اور مسلمان اس امارت کے تابع ہوکر احکام شریعت پر عمل کرتے ہیں۔ لہذا اس صورت میں شرعی امارتوں کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ ان یتیم بچوں کی کفالت کا انتظام کرے، خواہ اس کیلئے جوبھی مناسب شکل اختیار کرنی پڑے۔ مثال کے طور پر ان بچوں کو اپنی تنظیم کے تحت چل رہے کسی ہوسٹل ویتیم خانہ میں رکھ کر ان پر امت مسلمہ کی طرف سے آئی ہوئی رقم خرچ کرے۔ یا پھر جہاں وہ بچے ہیں وہیں کے کسی فرد مسلم کو متعین کردے کہ وہ ان کی دیکھ بھال اور پرورش کرے اور ان بچوں پر خرچ کرنے کیلئے ہفتہ، مہینہ یا سال کے اعتبار سے رقم اس شخص کو ادا کرے۔ غرض سرکاری سطح پربیت المال نہ ہونے
کی بنا پر مذہبی وغیرسرکاری این جی اوزان کا انتظام کریں گی۔
اور اگر مذہبی تنظیمیں اوراین جی اوزبھی نہ ہوں یا ان کی طرف سے اس طرح کا انتظام نہ ہوسکتا ہو، تو بھی ایسے بچوں کی کفالت خود اسی علاقہ کے مسلمانوں کے ذمہ داری ہوگی جہاں اس قسم کے یتیم ونادار بچے موجودہیں۔ ا للہ پاک نے فرمایا من ذاالذی یقرض اللہ قرضاحسنا فیضاعفہ لہ اضعافا کثیرا (الای)کون ہے جو اللہ پاک کو بہترین قرض دے تاکہ اللہ اس کیلئے اسے اور بھی زیادہ بڑھا دے۔ یتیما ذا مقربا (الای)ای قراب کما ان الصدق علی الیتیم الذی لاکافل لہ افضل من الصدق علی الیتیم الذی یجد من یکفلہ (الجامع لاحکام القرآن)عن ابن عباس ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم انا وکافل الیتیم لہ ولغیرہ فی الجن ھکذا واشار بالسباب والوسطی وفرج بینھما شیئا(بخاری )ای ان الیتیم سوا کان الکافل من ذوی رحمہ وانسابہ او کان اجنبیا لغیرہ یکفل بہ (شرح الطیبی )یہ ساری آیات واحادیث اگرچہ یتیم کی کفالت کے سلسلہ میں ترغیب وفضائل کی ہیںتاہم منجملہ ان سے یہ بات ضرور سمجھ میں آتی ہے کہ اس طرح کے نادار، لاوارث اور یتیم بچوں کی کفالت مسلمانو ں کے ذمہ ہے۔ اور حسب سہولت علاقہ اور محلہ کے افراد پر یہ ذمہ داری عائد ہوگی۔ ان بچوں کو یوں ہی ضائع ہونے نہیں دیا جائے گا۔ اگر کچھ لوگ اس ذمہ داری کو بہ طور کفایہ نبھا لیتے ہیں تو سب بری الذمہ ہوجائیں گے ورنہ سب کے سب مسئول ہوں گے۔سب سے اللہ کی طرف سے مواخذہ ہوگا۔واللہ اعلم باالصواب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں