3 0

ٹریفک کے مسائل سے چھٹکارا پانے کیلئے فلائنگ ٹیکسی سروس کا منصوبہ

ٹیکنالوجی کا استعمال انسانی زندگی میں انسان کے خود پیدا کیے ہوئے مسائل کے حل کے لیے بھی کیا جاتا ہے جیسے سڑکوں پر ٹریفک سے برا حال۔ اس لیے ٹریفک میں پھنسا ہوا شخص شاید آسمان پر اپنی گاڑی اڑانے کی خواہش کرتا ہوگا۔

مشہور آن لائن ٹیکسی سروس فراہم کرنے والا ادارہ اوبر اسی خواہش کو عملی جامہ پہنانے جا رہا ہے۔

اوبر کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا اس فلائنگ ٹیکسی سروس اوبر ائیر کی پہلی عالمی مارکیٹ ثابت ہوگا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈلاس اور لاس اینجلس کے بعد ملبورن کا انتخاب اپنے تیسرے ائیر ٹیکسی پراجیکٹ کے لیے کیا ہے۔

کمپنی کی ترجمان کے مطابق ٹیسٹ فلائٹس 2020 سے کرنے کا ارادہ ہے جس کے بعد 2023 میں اس کی تجارتی بنیادوں پر پیش کردیا جائے گا۔

اوبر کا کہنا ہے کہ ائیر ٹیکسیز سے شہروں میں ٹریفک کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

کمپنی کے ایوی ایشن ڈویژن اوبر الی ویٹ کے گلوبل ہیڈ ایرک ایلیسن نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ بڑے شہروں میں ذاتی گاڑیوں کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے جو کہ کامیاب نہیں رہ پائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 19 کلو میٹر کا سفر میلبورن کے مرکزی تجارتی ڈسٹرکٹ سے ائیر پورٹ تک 10 منٹ میں طے ہو سکے گا جب کہ یہ مسافت زمین پر گاڑی کا استعمال کرتے ہوئے ایک گھنٹے میں طے ہوتی ہے۔

اوبر اپنے فلائنگ ٹیکسی پراجیکٹ پر ناسا اور امریکی آرمی کے ساتھ ساتھ دو جہاز بنانے والے اداروں ایمرار اور پیپیسٹرل ائیر کرافٹ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ان ٹیکسیز کے لیے پیرس میں ایک لیبارٹری بھی قائم کرنے کا سوچ رہا ہے۔

اس وقت کئی کمپنیاں فلائنگ ٹیکسیز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوشاں ہیں۔دبئی کی ایک کمپنی نے ڈرون ٹیکسی سروس کا تجربہ 2017 میں کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں