3 134

گورنر سندھ سے ملاقات کے بعد کراچی کے تاجروں نے ہڑتال مؤخر کردی

کراچی: تاجر ایکشن کمیٹی نے وفاقی بجٹ میں ٹیکسوں کی بھر مار کیخلاف تین روزہ ہڑتال مؤخر کردی۔

گورنرسندھ عمران اسماعیل سے کراچی تاجر ایکشن کمیٹی کے وفد نے رضوان عرفان کی سربراہی میں گورنر ہاﺅس میں ملاقات کی۔

اس موقع پر رکن سندھ اسمبلی رمضان گھانچی، سلیم میمن اور خرم شیر زمان بھی موجود تھے۔

ملاقات میں تاجروں نے ٹیکس سے متعلق اپنے تحفظات سے گورنر سندھ کو آگاہ کیا۔ گورنرسندھ نے وفد کو تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی جس پر کراچی تاجر اتحاد نے کل سے کی جانے والی 3 روزپ ہڑتال کی کال واپس لینے کا اعلان کیا۔

اس موقع پر پریس کانفرنس کے دوران گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ تاجروں نے ہڑتال مؤخر کردی ہے جس پر ان کا مشکور ہوں، ایک ماہ تک تاجروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی اور تمام مسائل مل بیٹھ کر حل کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تاجر برداری کے 11 مطالبات کے بارے میں چیئرمین ایف بی آر سے بات ہوئی ہے جب کہ شبر زیدی نے ٹیکس کے حوالے سے بات کرنے اور مل جل کر جائز مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جس کے لیے 6 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، اس کمیٹی میں 3 حکومت اور تین نمائندے تاجر برادری سے ہوں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز کراچی تاجر ایکشن کمیٹی نے پیر سے تین روزہ ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

دوسری طرف ملک کی تمام تاجر تنظیموں کا مالی سال کے بجٹ اور ٹیکسوں کی بھرمار پر مشترکہ اجلاس ہوا جس میں حکومت کی عدم توجہی کیخلاف سب نے 13 جولائی کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔

لاہور پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ 30 جون کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کی جس کی منظوری کے لیے حکومت کو 7 جولائی کی ڈیڈلائن دی تھی لیکن حکومت نے 32 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ تسلیم نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ مطالبات پورے نہ ہونے پر احتجاج کا دائرہ پاکستان بھر میں پھیلائیں گے۔

ادھر وزیر اعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ تاجروں کاروزگار نہ چلے تو معیشت کا پہیہ بھی نہیں چلتا، ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین ایف بی آر نے معیشت چلانے کے لیے تاجروں کو انجیکشن لگادیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں