8 88

’جج نے فیصلے کی طرح تیار شدہ پریس ریلیز پر بھی مجبوری میں دستخط کیے ہوں گے‘

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی پریس ریلیز کے ردعمل میں کہنا ہے کہ سمجھ سکتی ہوں آج بھی آپ نے فیصلے کی طرح تیار شدہ پریس ریلیز پر مجبوری میں دستخط کیے ہوں گے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے گزشتہ روز پارٹی صدر شہباز شریف اور پارٹی کے دیگر سینئر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں مبینہ طور پر احتساب عدالت کے جج ارشد ملک ناصر بٹ نامی شخص سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں نواز شریف کو دی جانے والی سزا میں دباؤ کا ذکر کر رہے ہیں۔

اس پریس کانفرنس کے خلاف اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے پریس ریلیز جاری کی جس میں انہوں نے ن لیگ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی۔

پریس ریلیز کے ردعمل میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا اپنی ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ جبر و بلیک میلنگ کا شکار ہو کر اپنے ضمیر کے خلاف فیصلہ دینے والے جج صاحب، میں سمجھ سکتی ہوں کہ آج بھی فیصلے کی طرح تیار شدہ پریس ریلیز پر آپ نے مجبوری میں دستخط کیے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ تھینک یو ویری مچ، آپ نے ویڈیو کا انکار نہ کر کے ہمارے مؤقف کی تصدیق کردی۔

جج صاحب پارٹی نہ بنیں کیونکہ وہ خود اس ویڈیو میں ملوث ہیں: ترجمان ن لیگ
ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب نے نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے وضاحتی بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلے کی طرح جج صاحب کی پریس ریلیز بھی دباؤ کا نتیجہ ہے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جج صاحب پارٹی نہ بنیں کیونکہ وہ خود اس ویڈیو میں ملوث ہیں، جج صاحب مظلوم ہیں، بار بار دباؤ ڈال کر ان سے یہ چیزیں کرائی جائیں گی۔

ترجمان (ن) لیگ نے کہا کہ نواز شریف کے لوگوں نے جج صاحب کو رشوت کی پیشکش اور دھمکیاں دیں تو ٹرائل میں کیوں نہیں بتایا؟

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے کہہ دیا ہے کہ ویڈیو کو جس فورم پر لے جانا چاہیں لے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں