4 0

ٹرمپ کا ڈیموکریٹکس خواتین ارکان کانگریس کو امریکا چھوڑنے کا مشورہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین رکنِ کانگریس کو امریکا چھوڑنے کا مشورہ دے دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی ان خواتین رکنِ کانگریس کو ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا جن میں سے زیادہ تر امریکا میں ہی پیدا ہوئیں۔

ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ واپس جائیں اور مکمل طور پر تباہ حال ان علاقوں کی مدد کریں جہاں سے آپ آئے ہیں۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ بہت دلچسپ لگتا ہے جب ترقی پسند ڈیموکریٹک خواتین ارکان کانگریس جو درحقیقت ان ممالک سے آئی ہیں جہاں کی حکومتیں مکمل طور پر مصیبت میں ہیں، وہ بیہودگی سے امریکا کے لوگوں کو بتارہی ہیں کہ ہماری حکومت کو کیسے چلایا جائے۔

ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں کسی رکن کا نام شامل نہیں کیا لیکن ان کا اشارہ الیگزینڈرا کورٹیز، الہان عمر، ایانہ پرسلی او راشدہ طلیب کی طرف سمجھا جارہا ہے۔

ایک اسکواڈ کے طور پر پہچانے جانے والا ان خواتین ارکان کانگریس کا گروپ ٹرمپ پر شدید تنقید کرتا رہا ہے۔

ڈیموکریٹس کی جانب سے ٹرمپ کے بیان کو نسل پرستی سے تعبیر کرکے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ٹرمپ کی ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن کانگریس الیگزینڈرا کورٹیز نے کہا کہ مسٹر پریزیڈنٹ وہ ملک جہاں سے میں آئی ہوں اور وہ ملک جس کا ہم حلف لیتے ہیں وہ امریکا ہے۔

انہوں نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس لیے خفا ہیں کہ ہمیں شامل کرکے امریکا کا تصور نہیں کرسکتے، آپ اپنے تخت کے لیے ایک دہشت زدہ امریکا پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

کیلی فورنیا کی ڈیموکریٹ ہاؤس اسپیکر نینسی پیلوسی نے امریکی صدر کے بیان پر ڈیموکریٹکس کا دفاع کیا اور ٹرمپ کے بیان کو غیر ملکیوں سے نفرت پر مبنی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ جب ٹرمپ چار امریکی کانگریس خواتین کو واپس ان کے ملک جانے کا کہتے ہیں، وہ ’ امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے‘ کے اس منصوبے کو دہرا رہے ہیں کہ امریکا کو دوبارہ سفید فاموں کا ملک بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں