1 0

وزیراعظم نے بھارت سے مزید مذاکرات کا امکان مسترد کردیا

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت سے مزید مذاکرات کے کوئی امکان نہیں اور اب اس کا کوئی فائدہ نہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت سے مزید بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہے، پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقت ہیں اور دونوں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہیں۔

وزیراعظم کا کہناتھا کہ خدشہ ہے کہ یہ کشیدگی اور بڑھےگی اور دوایٹمی طاقتوں کے درمیان یہ تناؤ دنیا کے لیے بھی باعث فکر ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے اور کچھ بھی ہوسکتا ہے لہذا امریکی صدرٹرمپ کو انتہائی تباہ کن صورتحال کےخدشےسےآگاہ کردیا ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ مودی ایک فاشسٹ اور ہندو بالادستی پر یقین رکھنے والےحکمران ہیں جو کشمیر میں مسلم اکثریت کاصفایا کر کےخطے میں ہندو آبادی کو بسانا چاہتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ نئی دلی حکومت نازی جرمنی جیسی ہے جس کے باعث 80 لاکھ کشمیریوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے امن فوج اور مبصرین بھیجنے کا مطالبہ بھی کیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ بیان آج مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر ظلم کے شکار افراد کا عالمی دن ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر ظلم کے شکار افراد سےاظہار یکجہتی کر رہی ہے، ہم دنیا کی توجہ ظلم و بربریت کا شکار لاکھوں کشمیریوں کی طرف دلانا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق اور آزادی سے محروم رکھا جا رہا ہے، بھارتی فوج نے کشمیریوں کو عیدالضحیٰ سمیت مذہبی عبادات نہیں ادا کرنے دیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ دنیا مقبوضہ کشمیر میں متوقع نسل کشی کو روکنے کے لیے کردار ادا کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں