07 113

لاہور ، مدرسہ جیت گیا کالج ہار گیا ٭

تحریر نوفل ربانی
———————-
جدید سیکولر تعلیمی اداروں کے فاضلین وکلاء اور ڈاکٹر ز کے مابین لاہور میں خوں ریز تصادم ، ہمارے نظام تعلیم پر ایک سوالیہ نشان ؟؟
جس طرح علماء اسلامی تہذیب وتمدن کے علمی نمائندے اور اسلامی علمیت کا خارج میں اظہار ہوتے ہیں اسی طرح وکیل سرمایہ دارانہ نظام کا علمی نمائندہ ہوتا ہے کیونکہ اس وقت سرمایہ دارانہ علمیت برٹش لا اور ہیومنزم سے پھوٹتی ہے اور وکلاء برٹش لا ہی کے فاضلین ہوتے ہیں ۔
اسی طرح ڈاکٹرز جنکا پیشہ ہی ان سے اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ وہ انتہائی تحمل کے حامی ہوں۔لیکن یہ درد مند تو کیا ہوتے یہ تو درد دہندہ بنے ہوئے ہیں مہنگی فیسیں دے کر انہوں نے بھی چھریاں تیز اور قینچیاں بڑی بڑی رکھی ہوتی ہیں انہیں غرض فیس سے ہوتی ہے نہ کہ مریض کے علاج معالجے سے لیبارٹیوں اور فارما سوٹیکل کمپنیوں کے یہ ننگے دلال ہوتے ہیں ۔
حالیہ شہر لاہور کے واقعہ نے اس پورے نظام کے بودے پن اور انسانیت سوزی کو واضح کردیا جس میں اپنے اپنے پیشے کی وردیاں پہن کر ایک دوسرے پر حملے کئے ۔ اور دل کے ہسپتال کو میدان جنگ بنادیا صرف اس بات پر کہ وکلا کی شان میں ایک طنزومزاح پر مبنی ویڈیو سوشل میڈیاء پر وائیرل ہوئی جس سے وکلا کے تکبر اور نخوت کو چوٹ پہنچی ۔ اور ڈاکٹرز کے گھمنڈ کا بھونڈا اظہار تھا
خیر ۔۔۔۔۔۔
وکلاگردی یا ڈاکٹر گردی اس سے بحث نہیں سوال یہ ہے کی اس بھیانک جنگ میں عام خاتون شہری سمیت 6 لوگوںکی موت واقع ہوئی اور کئی مریضوں کو سخت اذیت اٹھانی پڑی ۔ آئی سی یو اور ایمرجنسی اور سی سی یو میں توڑ پھوڑ کرتے رہے ایک دوسرے کو لوہے کے راڈوں سے مارتے رہے اسلحہ لہراتے رہے کالے کوٹوں اور سفید کوٹوں نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ۔
انتقام خداوندی کا مظہر قہر ربی کا مظاہرہ غضب الہی کا منظر یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ وزیراعظم عمران احمد نیازی کے متعفن گٹر کے بھبھوکوں سے زبان تر کرنے والے بدتمیز اعظم بھانڈ چوہان کی پٹائی ہوئی میں ایک مدرسے کا وظیفہ خوار چوہان کو پڑنے والی مار کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اور اسے کسی طور بھی جسٹیفائی نہیں کرتا خدا یہ ذلت کسی دشمن کو بھی نہ دکھائے لیکن یہ عمران نیازی کا بوئی ہوئی حنظل کی فصل ہے جسے چوہان اور فواد جیسوں نے خون جگر سے سینچا ہے اور اب وہی کاٹ رہے ہیں ۔ ہماری سیاست میں یہ غلاظت عمران نیازی کی پیدا کردہ ہے
وکیلوں سے دھکے مکے کھانے اور بال نوچوانے والے رنگین بیان بازی کے زبان دراز وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے چند دن قبل ہی مدارس کے خلاف بیان دیا تھا کہ مدارس کے ختم ہونے سے ہی پاکستان میں ترقی ہوگی
چوہان صاحب مدارس کے طلباء 1400 سالہ تاریخ رکھتے ہیں ۔اس طویل دورانیئے میں اس طرح کی درندگی کا مظاہرہ کبھی نہیں کیاگیا کیونکہ مدارس میں صرف تعلیم ہی نہیں تربیت دے کر انہیں اعلی اخلاقی اقدار کا بہترین انسان بھی بنایا جاتا ہے ۔ جبکہ آپکے سیکولر نظام تعلیم کالجوں یونیورسٹیوں کے فضلاء ایک دوسرے کو درندوں کی طرح نوچتے ہیں ۔ آئے روز کالجوں میں لسانی صوبائی تعصب کی بنیاد پر قتل وغارت ہوتی ہے اساتذہ کو طلباء مارتے ہیں ۔
یہ کس مدرسے کے طلباء تھے ؟؟؟یہ تعلیم یافتہ لوگ تھے یا جہالت کی فیکٹریوں کی پراڈکٹس
کیا اب بھی مدارس کا نصاب ہی بدلنا ہے ؟؟؟ یا سیکولر تعلیمی اداروں کو کچھ انسانی اقدار بھی سکھانی ہیں
ایم بی بی ایس بمقابلہ ایل ایل بی
جی ہاں سفید کوٹ بمقابلہ کالا کوٹ
نتیجہ شہریوں کی ہلاکت
لیکن گالی پگڑی ٹوپی والے کو
اور کہنا یہی کہ مدارس کا نصاب بدلنا ہے ۔
وزیراعظم اور مقتدر قوتیں مدارس کی فکر چھوڑ یں مدارس نے ہمیشہ ملک کی خاطر افغانستان کشمیر اور کارگل میں جانیں دی ہیں ابھی حال ہی میں مدرسہ کے ایجوکیٹ جمعیت علماء اسلام کے لوگوں نے مولانا فضل الرحمان صاحب کی سربراہی میں لاکھوں کی تعداد میں احتجاج کیا ایک گملہ بھی نہیں ٹوٹا کوئی شیشہ متاثر نہیں ہوا سڑک بلاک نہیں ہوئی اگرچہ پلان بی کے تحت کچھ سڑکیں بند کی گئی لیکن اس میں بھی مریضوں اور خواتین کا پورا پورا خیال رکھا گیا سرکاری عمارات کو سگنلز کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا ہسپتال بند نہیں ہوئے لیکن سیکولر تعلیمی نظام کے لوگ چند درجن جمع ہوئے اور دل کے ہسپتال کو میدان جنگ بنادیا سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا پولیس کی گاڑی جلائی ہمارے ٹیکس کے پیسوں سے بنی سرکاری گاڑیاں ہسپتال توڑے گئے
وکلا ء یوں تیاری کے ساتھ ہسپتال حملہ کرنے جارہے تھے جیسے پانی پت کا میدان مارنے جارہے ہوں دھمکیاں دیتے بھبھکیاں مارتے انگریزی تہذیب کے گماشتے بھپرے سانڈوں کیظرح مریضوں پر ٹوٹ پڑے ۔
سوچیں اور فکر کریں مدارس کے نظام سے استفادہ کرتے ہوئے کالج یونیورسٹیوں میں اسلامی اخلاقی تعلیم دی جائے مدرسے کے ملا کو کالج یونیورسٹی میں لے جاو تاکہ ان شتر بے مہاروں کومعاشرتی لگام دے اور اخلاقی زیور سے آراستہ کرے ۔
آجاو مدرسہ کی آغوش میں تمھیں انسانیت سے روشناس کرایا جائے آجاو اس مسکین ملا کے پاس تاکہ تمھیں انسانیت سے آشنا کیا جاسکے دعوت عام ہے آو اسلام کے قلعے مدارس کے دامن میں تاکہ تمھیں شرافت کا درس دیا جاسکے تمھاری انا کے پہاڑ کا گھمنڈ توڑیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں