1

کراچی سرکلر ریلوے بحال چاہیے، راستے میں جو آئے سب توڑ دیں، چیف جسٹس

کراچی: چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے حکم دیا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے چاہیے، جو راستے میں آتا ہے سب توڑ دیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کراچی رجسٹری میں کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی سمیت مختلف کیسز کی سماعت کی۔

کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن، میئر کراچی وسیم اختر اور چیف سیکریرٹری سندھ ممتاز علی شاہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے جبکہ تجاوزات نہ ہٹانے سے متعلق بیان دینے پر سابق وزیر بلدیات سعید غنی توہینِ عدالت نوٹس کیس میں پیش ہوئے۔

اس موقع پر سپریم کورٹ کے باہر سندھ گورنمنٹ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے الاٹیز اور دیگر نے احتجاج کیا جس پر چیف جسٹس نے مظاہرے کا نوٹس لیتے ہوئے مظاہرین سے درخواستیں طلب کرلیں جو سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل میں بھیجی جائیں گی۔

کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے معاملے کی سماعت میں چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی سے متعلق کس نے کیا عملدرآمد کیا اورکیا پیش رفت ہوئی؟۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ ماضی کا سرکلر ریلوے بحال کرنا ممکن نہیں، 24 گیٹ تھے جن میں سے بیشتر پر قبضے ہو چکے، زمین وزارت ریلوے نے دینا تھی، اب تک ہماری ذمہ داری نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ معاہدے کے تحت وزارت ریلوے نے اپنا کام نہیں کیا، لیکن اگر ریلوے وزرات نے کچھ نہیں کیا تو آپ نے کیا کیا، آپ لوگوں کو اپنا سیاسی ایجنڈا دیکھنا ہوتا ہے، آپ کبھی نہیں بنائیں گے، کمشنر صاحب، آپ جائیں، آج ہی ساری عمارتیں گرائیں، حسن اسکوائر پر جائیں، پورے علاقے پر قبضہ ہے، ریلوے ٹریک نہیں ریلوے زمین پر سے تمام قبضے خالی کریں، ہمیں کچھ نہیں سننا، کراچی سرکلر ریلوے کب بنائیں گے، کمشنر صاحب، سن لیں ایک ہفتے میں ریلوے کی زمین سے قبضے ہٹائیں، مئیر صاحب، کراچی کے اصل سربراہ تو آپ ہیں، آپ بتائیں، آپ نے کیا کیا، جو کچھ راستے میں آتا سب توڑ دیں، ریلوے کی ہاؤسنگ سوسائٹیز ہوں یا پیٹرول پمپ سب گرائیں، ہمیں اصل حالت میں کراچی سرکلر ریلوے چاہیے۔

عدالت نے سیکرٹری ریلوے سے تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ اگرعدالت کو مطمئن نہ کر سکے تو سب کو توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کریں گے۔

عدالت میں الہ دین پارک سے متصل زمین پر تعمیرات کے معاملے کی بھی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ اس زمین کا مالک کون ہے؟َ۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ یہ زمین حسین ناصر لوتھا کے نام ہے۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بتائیں، ایک غیر ملکی کو زمین کس قانون کے تحت دی گئی؟۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ یہ زمین بورڈ آف ریونیو کی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ زمین کس محکمے کی ہے یہ بعد کی بات ہے، آپ نے کس طرح زمین الاٹ کی وہ طریقہ کار غلط تھا، کیا کسی اور ملک میں آپ کو اس طرح زمین مل سکتی ہے۔

عدالت نے الہ دین پارک سے متصل اراضی کی منتقلی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی لیز بھی منسوخ کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں