٭ منکرات کا دنگل ٭

(مولانا نوفل ربانی )
———————————-
pakistan
کھیل کا مقصد صحتمندانہ تفریح ہوتا ہے اور وہ کسی بھی طریقے سے جو اسلامی اصول سے متصادم نہ ہو لایعنی نہ ہو اسلامی احکام کی بجا آوری میں رکاوٹ نہ بنتا ہو دنیا وآخرت کے فائدے سے عاری نہ ہوکسی بھی انسان کے بنیادی حقوق کے متاثر ہونے کا ذریعہ نہ بنے تو تو اسکو کوئی بھی ناجائز نہیں کہتا لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کرکٹ اب ایک کھیل نہیں منکرات کا دنگل بن چکا
کیا آپ نہیں دیکھتے کہ سٹہ جوا قمار کا بازار گرم ہوتا ہے
ایک ایک بال ایک ایک شاٹ فکس ہوتی ہے کروڑوں کا سٹہ لگتا ہے
نمازوں کے اوقات کا ضیاع ہوتا ہے ائمہ مساجد اس بات کی تصدیق کریں گے کہ میچ کے دن مسجدوں کی حاضری بہت کم ہوتی ہے
مرد وزن کا مخلوط اجتماع ہوتا ہے بے پرد عورتوں کا بے محابانہ آمد ورفت ہوتی ہے
اب تو چئیر لیڈرز کا گند بھی در آیا مردوں کے کھیل میں ہر چھکے چوکے اور وکٹ پر اسٹیدیم ” کوٹھے ” کا منظر پیش کرتا ہے ۔ہزاروں لوگوں کی زندگی اجیرن کردی جاتی ہے سیکورٹی کے نام پر راستوں کا روکا جانا اس انتظامی معاملات میں کتنی ہی ایمبولینسیں روکی جاتی ہیں کتنی ہی فیملیز اور بچوں کو راستے کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے
ایک لمبی چوڑی فہرست ہے
لیکن قابل غور پہلو یہ ہے کہ پوری قوم اس تپ دق میں مبتلاء ہے معززعلماء کرام ان منکرات سے صرف نظر کررہے ہیں بعض ادارے تو چھٹی بھی کئے بیٹھے ہیں کیا وہ ان منکرات میں اپنے طلباء کی شرکت کا سبب نہیں بن رہے ؟؟؟
اسٹیڈیم میں موسیقی کی لعنت الگ سے چھوٹے بچوں کے ذہنوں میں کرکٹرز کا ہیرو بننا پھر انکی نقالی کرنا کیا یہ کم غضب تھا کہ ایک کھلاڑی کسی کی زندگی کا رول ماڈل ہو بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں انکے ذہنوں میں تعلیم سے وابستہ افراد یا ملکی دفاع واسلام کی تشھیر سے متعلق لوگوں کا آئیڈیل بننا چاہیئے نہ کہ چند جواریوں کا
مجھے خود کرکٹ کا شوق ہے دیگر لوگوں کی طرح مجھے بھی کچھ کھلاڑی بھاتے ہیں بنتے ٹوٹتے ریلکارڈز پر میں بھی متاثر ہوتا ہوں لیکن ہم سوچیں تو سہی کہ منکرات کی اس غلیظ آمیزش سے ہم صرف نظر کیسے کرسکتے ہیں ؟؟؟
کیا ہم اس مجرمانہ غفلت کے متحمل ہوسکتے ہیں آپ کل کے بچوں کے اکابر ہیں تو کیا نئی نسل کو یہ شاہراہ دکھاکر جائیں کہ حضرت موسیقی کی دھن میں چئیرلیڈر کے چست وتنگ ٹائیٹ پینٹ میں مچلتی جوانی اور تھرکتے سراپے لہکتے وجود انگڑائی لیتی شباب کے رقص میں پی ایس ایل انجوائے کرتے رہے اور اگر کسی نے ان منکرات کی طرف توجہ دلائی بھی تو اسے ناشناس زمانہ قرار دیا اسکے چیں بجبیں ہونے کو کٹہرے میں کھڑا کردیا
شام برما فاٹا کچی آبادیاں اور اپنے ہم وطنوں کی 70ہزار لاشوں کے انبار پر ان منکرات کے دنگل کی کوئی انسانی اخلاقی شرعی توجیہ ہو تو مجھے ضرور آگاہ کریں
کیسے میرے پڑوس میں روٹی نہیں اور میں گل چھرے اڑاوں
بار بار عمرے حج پر تو اعتراض ہے قربانی پر اشکال ہے لیکن کروڑوں خرچ کرکے تین گھنٹے کے ایک بلکل فضول قسم کی تقریب منکرات پر سب کی باچھیں کھلی ہوئی ہیں کیا مولوی کیا لبرل کیا چھوٹا کیا بڑا کیا متجدد کیا روایت پسند ابھی تو دھماکوں میں شہید ہونے والوں کے کفن بھی میلے نہیں ہوئے اور آپ نے میں نے محفل رقص وسرور بپا کردیا
گناہ کو گناہ نہ سمجھنا بہت خطرناک ہوتا ہے
مجھے معلوم ہے میں‌یہ لکھ کر لاکھوں دل توڑ رہا ہوں لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ کرکٹ میچ نہیں منکرات کا دنگل ہے
کیا میں غلط کہہ رہا ہوں ؟؟؟؟

203total visits,1visits today