جنت کا جمعہ بازار

جنیدرضا(متعلم جامعہ بنوریہ عالمیہ)
nazir-nasir
قدیم زمانوں سے یہ دستور چلا آرہا ہے کہ ہر مذہب کے چند تہوار ہوتے ہیں،یہ ایام خاص مذاہب کی ترجمانی کا کردار ادا کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی اس مذہب کے ماننے والوں کے نزدیک ایک خاص اہمیت ہوتی ہے،وہ اپنے تہواروں کا بے صبری سے انتظار اور اس کی تاریخ سے واقف ہوتے ہیں اور وہ ان تہواروں کو اپنا اور مناکر اپنے مذہب کی پہچان وتعلق کو برقراررکھتے ہیں۔دنیا میں بے شمارمذاہب ہیں، حضرت آدم علیہ السلام کی تشریف آوری سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اعلانبوّت تک جتنے مذاہب تھے وہ تمام کے تمام اپنے محدود وقتوں تک عند اﷲسرخروئی و کامیابی کا زریعہ تھے ،حضورصلی اللہ علیہ و سلم کے اعلان کے بعد ایک نیا مذہب معرض وجود میں آیا ،اب عند اﷲاگرکوئی مذہب سرخروئی ، کامیابی،جہنم سے خلاصی اور جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے تو وہ صرف دین اسلام ہے۔ دین اسلام اگرچہ تہواروں اور نمائش کا دین نہیں،اسی لیے اس میں سالگرہ ،برسی وغیرہ کا بھی کوئی تصور نہیں ،البتہ دونوں عیدوں کی طرح ایک عظیم تہوار جمعہ کا دن ہے جوکہ ہر ہفتے مسلمانوں کو نصیب ہوتا ہے،جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے، یہ دن عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ سے افضل ہے۔
اس کی فضیلت ومرتبے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کئی احادیث وارد ہیں،چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ:
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام میں مجھے،، مہینوں میں رمضان کو، راتوں میں شبِ قدر کو اور ایام میں روز جمعہ کو فضیلت دی ہے۔
تفسیر در منشور میں ہے کہ :جمعہ ہی کے دن آسمان و زمین بنائی گئی ،اسی دن جنت اور جہنم کو تخلیق کیا گیا ،اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کو خالقِ کائنات نے پیدا کیا،اس دن میں ایک ساعت ایسی ہوتی ہے جب دعا قبول ہوتی ہے۔
اس کے ساتھ اس دن کی ایک اوربڑی فضیلت یہ ہے کہ اہل جنّت کا جنّت کے بازاروں میں داخل ہونا اسی دن کے ساتھ خاص کیا گیا ہے ،جیسا کہ امام مسلمؒ روایت کرتے ہیں :
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : جنت میں ایک بازار ہے جس میں جنتی ہر جمعہ کو آیا کریں گے ، پھر شمال کی طرف سی ایک ہوا چلے گی جس سے ان کے چہرے اور کپڑے بھر جائیں گے اور ان کا حسن اور جمال اور بڑھ جائے گا ، پھر وہ اپنے اہل کی طرف لوٹ جائیں گے تو وہ کہیں گے : اللہ کی قسم ! ہمارے پاس سے جانے کے بعد تمہارا حسن اور جمال بہت زیادہ ہو گیا ہے ، وہ کہیں گے : اللہ کی قسم ! ہمارے بعد تمہارا حسن اور جمال بھی بہت زیادہ ہو گیا ہے ۔(صحیح مسلم ج 17 ص 170 )
امام ترمذیؒ روایت کرتے ہیں :
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ملاقات کی ،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا : میں اللہ تعالی سے سوال کرتا ہوں کہ وہ ہم دونوں کو جنت کے بازار میں اکٹھا کرے ۔حضرت سعید بن مسیب نے پوچھا : کیا اس میں بازار ہوں گے ؟ حضرت بو ہریرہؓ نے فرمایا : ’’ جی ہاں!ہوں گے ،مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جنت میں بازار ہوں گے (جنتی جب بازاروں میں داخل ہوں گے تو اپنے اعمال کی فضیلت کے مطابق اس میں اتریں گے پھر دنیاوی جمعہ کے دن کے برابر وقت میں اجازت دی جائے گی تو یہ لوگ اپنے رب کی زیارت سے مشرف ہوں گے ، ان کے لیے عرش الہٰی ظاہر ہو گا اور اللہ تعالی جنت کے باغات میں سے ایک باغ میں تجلی فرمائے گا ، جنتیوں کے لیے منبر بچھائے جائیں گے جو نور ، موتی ، یاقوت ، زبرجد، سونے اور چاندی کے ہوں گے ، اس میں سے ادنیٰ جنتی مشک اور کافور کے ٹیلے پر بیٹھیں گے اور وہاں کوئی شخص ادنیٰ نہیں ہو گا )وہ کرسیوں پر بیٹھنے والوں کو اپنے سے افضل نہیں سمجھیں گے ،پھر انہوں نے طویل حدیث ذکر کی ، آگے چل کر اس حدیث میں ہے : پھر ہم بازار میں آئیں گے جہاں فرشتے ہی فرشتے ہوں گے ، ایسا بازار نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا ،نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال گزرا ہو گا ، جو چیز ہم چاہیں گے ہماری طرف اٹھائی جائے گی اور خرید و فروخت نہ ہو گی ، اس بازار میں جنتی ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : بلند مرتبے والا آگے بڑھ کر ادنیٰ مرتبے والے سے ملے گا اور وہاں کوئی ادنیٰ درجہ کا نہ ہو گا ، وہ اس کا لباس دیکھ کر پریشان ہو جائے گا ، ابھی ان کی گفتگو ختم ہوگی کہ اپنے جسم پر اس سے بھی خوبصورت لباس دیکھے گا، یہ اس لیے کہ وہاں کسی کو رنج و غم نہ ہو گا ۔(ترمذی رقم الحدیث : 2549 )
اﷲرب العزت ہمیں اس مبارک دن کی اہمیت و فضیلت کو سمجھنے اوردنیا کی زندگی میں نیک اعمال کرکے ان فضائل ومناقب کا مستحق بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

392total visits,4visits today