بے بسی اور اجتماعی بے حسی کے آنسوں

nazir-nasirتحریر:محمد نزیر ناصر


انسان کا سب سے محبوب ترین رشتہ والدین بھائی بہن اور پھر قرابت دار ودیگر ہیں جب ہمارے والدین رشتہ دار اقارب یا ہمارے کیخلاف کوئی بھی مہم جوئی یا گستاخی ہوتی ہے تو ہم مہم جو کیخلاف ہر حد پھلانگنے کو تیار ہوجاتے ہیں مگر ہر مسلمان کے نزدیک یہ رشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے مقابلے میں ادنی درجہ بھی نہیں رکھتے جب ان رشتوں کیخلاف بولنے والوں کیلئے ہمارے اتنے جزبات ہوتے ہیں تو پھرحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین میں بھونکنے والی زبان ، لکھنے والے قلم، سوچنے والے گٹر آلود دماغوں کیخلاف ہمارے کیاجذبات ہونے چاہیے۔
گزشتہ روز جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے ہائی کورٹ میں سوشل میڈیا میں گستاخانہ مواد کے حوالے سے ریمارکس دیتے ہوئے جو آنسو بہائے وہ ہر مسلمان کے دل کی ترجمانی تھی یہ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن لوگوں میں ایمان موجود ہے اور جس نے ملحدین کی جانب سے سوشل میڈیا میں اپ لوڈ کیے جانے والے مواد کو دیکھا ہے وہی سمجھتاہے کہ بے بسی اور مسلم حکمرانوں کی بے حسی کا درد آنکھوں کے راستہ کیسے بہہتاہے.
سوشل میڈیا میں موجود کچھ دوستوں نے دانستہ وغیر دانستہ طور پر جسٹس شوکت صدیقی کے ان ریمارکس کو جزباتی ریمارکس سے تعبیر کیا جو میری نظر میں ان کے جذبات کی توہین اور ایمانی کمزوری کے سواء کچھ بھی نہیں ہے ، میں سمجھتاہوں اور تسلیم کرتاہوں ان کے ریمارکس جذبات کی ترجمانی نہیں بلکہ ایمان کی ترجمانی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار تھے ، ان کے آنسوؤں نے ہر مسلمان کی دل کی ترجمانی کی ہے
،میری نظر میں جذبات آنسوں بن کر تب بہہ نکلتے ہیں جب جسم میں سہنے کی صلاحیت سے بڑھ کر کوئی غم یا خوشی کا بوجھ آتاہے ، یہ درد شوکت عزیز صدیقی کے اندر موجود ایمان کی حرارت سے پیدا ہوا اور وہ اپنے آنسوں کو نہ روک پائے.
کیا ہمیں سوچنے کی ضرورت نہیں کہ ایسا ملک جو اسلام کے نام پر معارض وجود میں آیا جس کیلئے بزرگوں نے لاکھوں قربانیاں دی اس میں تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون کیخلاف سازشیں کیسے ہورہی ہیں، کون لوگ ایسا چاہتے ہیں ،کیا پارلیمنٹ میں موجود اراکین مسلمان نہیں ان کے اندر جذبہ ایمانی نہیں ، آخر کیوں اس قانون پر عملدرآمد کے بجائے قانون کے غلط استعمال کا نعرہ لگاکر قوم کو گمراہ کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں ، کوئی گستاخان رسول کیخلاف کاروائی کے مطالبات کیوں نہیں تسلیم کرتا، کیوں اتنی بے حسی اور بے بسی چھائی ہوئی ہے ،اس پر ہر اہل ایمان کا دل خون کے آنسو روتاہے
شوکت عزیز جسٹس بعد میں سب سے پہلے وہ ایک مسلمان ہیں اسی اجتماعی بے حسی اور بے بسی پران کے آنسو نکلے جو یقیناًڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دلوں کی ترجمان ہیں ، ہمیں امید ہے جب تک عدالت میں جسٹس شوکت عزیز جیسے لوگ موجود ہیں قانون تحفظ رسالت کیخلاف کوئی بھی سازش نہیں کرسکتا، اب ہمارا کوئی بھائی کوئی دوست غازی ممتازاور عامر چیما شہید کے راستے چلنے پر مجبور نہیں ہوگا،

234total visits,1visits today