طریق واردات!

تحریر:دلیل خان (ایڈیٹر دلیل ڈاٹ پی کے)


daleel-khanلمز میں ایک مذاکرے میں ایک سیکولر نے تجویز دی تھی کہ مسلم معاشرے میں سیکولرزم کے نام سے کام نہیں ہو سکتا، خاص کر مذہبی معاملات جیسے توہین رسالت، حدود آرڈیننس وغیرہ، ان قوانین کا جواب فقہ میں تفردات کے ذریعے دیا جائے، یہ زیادہ مؤثر رہے گا، یعنی اسلام کو ”اسلام ” کے ذریعے زیر کیا جائے، آئیڈیا تو اچھا ہے مگر ایک لحاظ سے اعتراف شکست ہی ہے، اور تاریخی تعامل اس کے پیچھے ہے، کہ مسلم معاشرے میں اسلام اور مسلمانوں کو آپ جتنا دبا لیں، قرآن، اذان، حجاب، شعائراسلام پر پابندی لگا دیں، رسم الخط ہی بدل ڈالیں، اور نظر آئے کہ بس اب کوئی نام لیوا نہ رہے گا، اس راکھ میں سے بھی نجم الدین اربکان اور طیب اردگان سامنے آ جاتے ہیں، اور سیکولرزم اور اس کے حاملین دیکھتے رہ جاتے ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ جتنا دبایا تھا، اس سے کہیں زیادہ ابھر آیا ہے۔ یہاں پاکستان میں کتنی فنڈنگ اور کتنے شور شرابے سے کسی ایشو پر رائے ہموار کے لاکھ جتن کیے جاتے ہیں، اور ایک ذرا سی بات اس ساری محنت پر پانی پھیر دیتی ہے۔

خیر ان صاحب کے مشورے کے تناظر میں سیکولرزم کی فکری اقدار پر یقین رکھنے والے بعض احباب نے اس حقیقت کو مان کر یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ وہ سیکولرزم اور اسلام کی جاری کشمکش میں اسلامی علم الکلام کے پیرائے میں بات کیا کرتے ہیں، ترویج مگر سیکولرزم کی مقصود ہوتی ہے۔ اعتراف شکست میں چھپا یہ طریق واردات نہیں معلوم کہ کتنا مؤثر ہوتا ہے، ماضی مگر بتاتا ہے کہ اس کا انجام بھی دیگر طریقوں جیسا ہی ہوگا۔

توہین رسالت سے جڑے معاملات میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ سیکولر احباب مثال حضور نبی کریم ﷺ کی دیا کرتے ہیں، سبحان اللہ۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر ایسے اقراری کیفیت ہو جائے تو پھر جھگڑا کاہے کا رہے گا، مگر ظاہر ہے کہ حقیقتا ایسا نہیں ہے، اصلا توہین رسالت کے بعد کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کےلیے یہ عفو و درگزر یاد آیا کرتا ہے۔ اور ایک مسلمان کے گرم جذبات کو حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹھنڈا کرنے کی سبیل کی جاتی ہے۔ ارے بھائی! سیکولرزم کی تعلیمات میں اتنی جان ہے، اور آپ اس پر دل و جان سے ایسے فدا ہیں اور آپ انھیں باعث نجات تصور کیا کرتے ہیں، تو ڈٹ کر کھڑے ہو جائیے اور آزادی اظہار رائے کے حق پر جم جائیے، سر دھڑ کی بازی لگا دیجیے۔ یہ تو پرلے درجے کی بزدلی اور منافقت ہوئی کہ جس اسلام کے خلاف آپ فکری طور پر برسرپیکار ہیں، پناہ بھی اسی میں ڈھونڈھنا چاہتے ہیں۔ نرم سے نرم الفاظ میں اسے نیا طریق واردات کہا جا سکتا ہے، حب رسول کی آڑ میں مزید گستاخی کا لائسنس۔ حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر کہیں ہے، تو اسے اس وقت جاگنا چاہیے جب آقا کی شان میں گستاخی ہوتی ہے، مگر آپ نے نہیں دیکھا ہوگا کہ اس پر دو لفظ کہیں سے آتے ہوں، ایسے گستاخوں کو منع کیا جاتا ہو، یا اس سے اظہار برات ہی کیا جاتا ہو، الٹا اظہار رائے کی آزادی کا واویلا ہوتا ہے۔ اسلامی علم کلام کا راستہ اختیار کرنے والے حضرات بھی لمبی تان کر سوتے ہیں، اور کوئی جگانے کی کوشش کرے تو فرمایا کرتے ہیں کہ علم میں نہیں، دیکھا نہیں، دکھا دیا جائے تو اسے تعصب پر مبنی شرارت قرار دیا کرتے ہیں۔ ارے بھائی لعنت ہے ایسی آزادی اور ایسے جواز پر جو توہین رسالت سے ہو کر گزرتا ہے۔ کئی سیکولر لوگوں کو ضرور لعنت کے لفظ کا استعمال برا لگا ہوگا، مگر یہ وہی صاحبان ہیں جنھیں توہین پر ذرہ برابر تپش محسوس نہیں ہوتی۔

کچھ دیر پہلے برادر مجاہد حسین کی تحریر نظر سے گزری کہ سیکولر اور اسلامسٹوں کا عقائد عبادات اور اخلاقیات میں کوئی اختلاف نہیں ، تو پھر اختلاف کس بات پر باقی رہا، اصل معاملہ تو نمٹ گیا۔ ان کے اس جملے پر حیرانی ہوئی کہ سیکولر لوگ پانچ کے بجائے تین نمازوں کی تبلیغ تو نہیں کرتے، مطلب پانچ کی کیا کرتے ہیں؟ دلیل خان کے لیے اس ساری بحث میں یہ انکشاف تمام چیزوں پر بھاری رہا۔ رہے نام اللہ کا ۔ کیسے کیسے مغالطوں کا ہم شکار ہوتے اور دوسروں کو مبتلا کرتے ہیں۔ اخلاقیات کے معاملے میں تو شاید بات کہیں درست ہو، اگرچہ وہ بھی طرز معاشرت میں الٹ ہو جاتی ہے۔ مثلا زنا اور شراب اسلام میں حرام ہیں، سزائیں مقرر ہیں، سیکولرزم میں سب حلال ہے۔ عقائد اور عبادات کو سیکولرزم مانتا ہے تو ڈکشنری میں اس کی تعریف از سر نو وضع کرنا پڑے گی۔ ویسے اس سارے معاملے میں جب سے پیجز کا معاملہ چل رہا ہے، کسی سیکولر خیالات کے حامل دوست نے اس کی مذمت کی ہو یا منع کیا ہو، یا اظہار برات کیا ہو تو احباب کو ضرور ٹیگ کرنا چاہیے، ہمیں ان کے خیالات جان کر خوشی ہوگی۔ البتہ ایسے کئی مل سکتے ہیں جو دبے اور کھلے لفظوں میں آزادی اظہار رائے کے پردے میں حمایت کرتے نظر آئے۔اختر شیرانی یاد آئے، اسلامی علم کلام کا راستہ اختیار کرنے والے سیکولر حضرات میں ایک اختر شیرانی بھی نہیں۔ صد افسوس!

723total visits,2visits today