جسٹس شوکت صدیقی

nazir-nasir
تحریر :مہتاب عزیز


اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جج جناب شوکت عزیز صدیقی اس وقت لبرل انتہا پسندوں کے نشانے پر ہیں۔ ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے تاریخی فیصلہ اور اب سوشل میڈیا پر توہین رسالتﷺ اور صحابہ و اہل بیت رضوان اللہ اجمعین کی گستاخی کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لینے پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
میڈیا میں موجود ایک لابی یہ پراپوگنڈا کر رہی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے کیس کے حوالے سے جذبات کا اظہار کھلے بندوں کر رہے ہیں، لہذا اس کیس میں اُن سے غیر جانبدارانہ فیصلے کی توقع نہیں ہے۔ اس لئے انہیں اس کیس سے الگ کر دیا جائے۔ دوسری جانب کچھ لوگ جج بننے سے پہلے اُن کی جماعت اسلامی سے وابستگی کو اس انداز میں پیش کر رہے ہیں کہ گویا وہ آج بھی فیصلے اپنی ماضی کی وابستگی کی بنیاد پر دے رہے ہیں۔
ان دونوں کی نسبت زیادہ خطرناک گروہو وہ ہے جو براہ راست جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی ذات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ گزشتہ دو روز سے یہ لوگ مسلسل میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے پراپوگنڈا کر رہے ہیں کہ معزز جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کرپشن کا کیس چل رہا، جس کا بس فیصلہ آنے ہی والا ہے۔ باقاعدہ طعنے دیے جا رہے ہیں کہ عاشق رسولﷺ جج تو کرپشن کے کیس میں نا اہل ہونے والا ہے۔ اس لئے ضروری ہے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف کیسز کی حقیقت واضع کر دی جائے۔
شوکت عزیز صدیقی جڑواں شہروں کے نمایاں اور انتہائی دبنگ وکیل رہے ہیں۔ انہوں نے لال مسجد آپریشن کے بعد مولانا عبد العزیز اور دیگر آسیران کا کیس اُس وقت لڑا جب کوئی وکیل اس کے لئے تیار نہیں تھا، اور پوری ریاستی مشینری اُنہیں سزا دلانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے تھی۔ لیکن اس سب کے باوجود شوکت عزیز صدیقی صاحب کی پیروی کے نتیجے میں مولانا صاحب بلآخر تمام مقدمات سے بری ہو گئے تھے۔ اسی طرح مشرف دور میں اہل ایمان پر بنائے گئے درجنوں دیگر کیسز کی کامیاب پیروی کی۔

اسی لئے جب انہیں میرٹ پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج نامزد کیا گیا تو لبرل انتہا پسندوں نے ان کے خلاف محاذ کھڑا کر دیا۔ ایک سال کے لئے بطور ایڈہاک جج تقرری کے بعد جب ان کی مستقل تعناتی کا مرحلہ آیا تو اُس وقت کے صدر آصف ذرداری نے سمری کو التوا میں ڈالے رکھا۔ یہاں تک کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی بطور ایڈہاک جج معیاد ختم ہو گئی اور انہیں کیسوں کی سماعت روکنا پڑی۔ جس کے بعد سپریم کورٹ کے سخت سٹینڈ لینے پر انہیں مستقل کیا گیا تھا۔

مستقل جج اسلام آباد ہوئی کورٹ تعنات ہونے کے بعد انہیں اسلام آباد میں سرکاری گھر الاٹ کیا گیا۔ جس کی حوالگی سے پہلے سی ڈی اے کی جانب سے اس کی ضروری مرمت اور رنگ و روغن کیا گیا۔ جس پر ایک لابی کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کو درخواست دی گئی کہ سی ڈی نے اس گھر کی مرمت پر روٹین سے زیادہ رقم خرچ کی ہے۔ اس لئے تحقیق کی جائے کہ کہیں جج کی جانب سے دباو ڈال کر تو سی ڈی اے سے کام نہیں کروایا گیا ہے۔ اس درخواست کا علم ہونے پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک خط لکھ کر استدا کی کہ ججز کے خلاف کیسز کی سماعت خفیہ ہوتی ہے لیکن انکے خلاف دائر درخواست کی سماعت کھلی عدالت میں کی جائے۔ تاکہ کیس کے متعلق حقائق میڈیا سمیت سب کے علم میں آجائیں۔ تاہم 6 سال گزرنے کے باوجود سپریم جوڈیشل کونسل نے اس درخواست کو سماعت کے لئے مقرر ہی نہیں کیا ہے۔ دوسری جانب سی ڈی اے میں کسی زاہد رقم کے استعمال کے حوالے سے کوئی محکمانہ یا آڈٹ اعتراض بھی نہیں ہوا ہے۔

یہ ہے وہ ساری کرپشن اور کیس جس کے سب افسانے بنائے جا رہے ہیں۔

بشکریہ دی ٹرتھ انٹرنیشنل

294total visits,1visits today