دوائے دل: مدینہ، مدینہ!

مولانامحمد شفیع چترالی(معروف صحافی اور مذہبی اسکالر)
shafi-chatrali”مدینہ“ محض ایک لفظ اور ایک شہر کا نام نہیں ہے بلکہ پانچ حروف پر مشتمل اس چھوٹے سے کینوس میں گویا کائنات کے سارے رنگ سموئے ہوئے ہیں۔مکہ مکرمہ اگر بیت اللہ کے جلال اورانوارات الہی کا مر کزو مہبط ہونے کی بنا پر مرجع خلائق عالم ہے تو مدینہ طیبہ محبوب کل جہاں حضور سروردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی جلوہ گاہ الفت ہونے کے ناتے دنیا کے کروڑوں انسانوں کی عقیدت و محبت کا محور ہے۔مدینہ منورہ کی شان محبوبیت کچھ ایسی نرالی ہے کہ انسانی تاریخ میں شاید ہی کسی شہر یا بستی کی اتنی تعریف ہوئی ہوگی جتنی مدینے کی ہر دور اور ہرزمانے میں ہوئی ہے۔ مدینے کی عظمت مقام کے لیے اتنی بات ہی کافی ہے کہ تاجدار رسالت محبوب کبریاءحضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنا وطن بنایا،اس کے ذرے ذرے سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا اور اپنی آخری آرام گاہ کے طور پر بھی اسی شہر منور کو منتخب فرمایا۔ مدینہ سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے اور آج بھی اگر کسی گنہگار سے گنہگار مسلمان سے اس کی قلبی خواہش پوچھی جائے تو اس کا جواب مدینے جانا اور شہر نبی کی مٹی اوڑھ کر ہمیشہ کی نیند سوجانا ہی ہوتا ہے۔حضرت سید نفیس شاہ الحسینی ؒ کا یہ شعر جو انہوں نے مواجہہ شریفہ میں کھڑے ہوکر کہا تھا، ہر مسلمان کے دل کی ترجمانی کرتا ہے کہ
مدینے میں ہی آکر راحت و تسکین پاتی ہے
دل فرقت زدہ کی ناصبوری یارسول اللہ!
بلکہ بات صرف نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاکلمہ پڑھنے والے خوش نصیبوں تک محدود نہیں ہے، محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے شہر سے اپنی عقیدت کا اظہار بہت سے غیر مسلم شعرا نے بھی اپنے اپنے انداز میں کیا ہے۔ایک ہندو شاعر کا کچھ اس طرح کا شعر کہیں پڑھا تھا کہ
سرمے کی طرح آنکھ میں سالک میں لگالوں
مل جائے اگر مجھ کو کف خاک مدینہ
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو جب مکہ میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے سلسلے میں بے پناہ اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھلکتی آنکھوں کے ساتھ اپنے آباءو اجداد کے شہر کو الوداع کہا تو یہ مدینہ ہی تھا جس نے اپنی دو آنکھیں سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں بچھادیں اور اپنی قسمت پر ناز کرتے ہوئے اور یہ نغمہ گنگناتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنی بانہیں پھیلادیں کہ
طلع البدع علینا
من ثنیات الوداع
وجب الشکر علینا
ما دعا للہ داع
اس شہر بے مثال کی عظمت کے کیا کہنے جہاں 13برس تک جبریل کوصبح شام حاضرہونے کا حکم ملا ہو۔جس کے پہاڑ وں اور بیابانوں پر ہزاروں فرشتوں کے نزول کی قرآن نے گواہی دی ہو۔جس کی مٹی میں ہزاروں پاکیزہ نفوس کا خون شامل ہو اور سب سے بڑھ کر جہاں دو جہاں کے سردار کا دربار سجا ہو۔یہی وجہ ہے کہ اسلام کے ابتدائی ادوار سے ہی مسلمانوں نے مدینہ طیبہ کومرکز الفت اور گلزار نظر بنائے رکھا۔مکہ مکرمہ کے کتنے ہی صاحب ثروت اور عزت و منزلت والے سردار تھے جنہوں نے اپنا گھر بار، کنبہ، جائیداد اور ساری کائنات چھوڑ کر حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے اور آپ کے جوار میں رہنے کی خاطر مدینے کے لیے رخت سفر باندھا اور ہمیشہ کے لیے یہیں کہ ہوکر رہ گئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ کرام ؓ کے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و عقیدت کے دو مظاہر سامنے آئے۔ ایک طرف وہ صحابہ کرام تھے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اور آپ کے پیغام پر عمل کرتے ہوئے اسلام کا علم جھنڈا لے کر اکناف عالم میں گئے اور بہت تھوڑے عرصے میں دنیا کے تین بر اعظموں میں اسلام کا پیغام پہنچا دیااور دوسری طرف وہ حضرات تھے جنہوں نے
ومن عادتی حب الدیار لاہلہا
وللناس فیمایعشقون مذاھب
کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے جوار رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ کے لیے منتخب کرلیا اور مدینہ طیبہ میں ہی داعی¿ اجل کو لبیک کہا۔ ان میں وہ صحابہ کرام بھی شامل ہیں جو خود عہد رسالت میں فوت ہوئے یا خلعت شہادت سے سرفراز ہوئے اور جنت البقیع یا مدینہ منورہ کے دیگرقبرستانوں کے ابدی انوارات کے مستحق بنے۔
ہم میں سے جو بھی شخص مدینے جانے کی سعادت حاصل کرلیتا ہے اور جنت البقیع میں حاضری کا شرف پالیتا ہے تو اسے ایک فطری تجسس ہوتا ہے ان صحابہ کرامؓ کے بارے میں جو وہاں جوار رسالت میں مدفون ہیں۔امت کے علماءاور مورخین نے بڑی محنت کر کے ان خوش قسمت اصحاب کے نام اور حالات قلمبند کر رکھے ہیں جو بقیع کی جنت کے مکین ہیں۔معروف عرب عالم مصطفی بن محمد بن عبد اللہ بن علوی الرافعی کی کتاب” عنوان النجابہ فی معرفة من مات فی المدینة من الصحابہؓ“ اسی سلسلے کی ایک خوبصورت کڑی ہے۔اللہ جزائے خیر دے ہمارے فاضل دوست مولانا حضرت حسین شاکر کو کہ انہوں نے اپنی کتاب کو بنیاد بناکر ”نجوم ہدایت“ کے نام سے ایک خوبصورت کتاب لکھ کر اردو دان طبقے کے لیے بھی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان کرلیا ہے۔کتاب میں آسان زبان میں ان صحابہ کرامؓ کے قابل رشک اور قابل تقلید حالات بیان کیے گئے ہیں جو ارض طیبہ میں مدفون ہیں۔اللہ تعالیٰ اس عظیم خدمت پر مولانا کو اجر جزیل عطا فرمائے اور ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبول عطا فرمائے۔

516total visits,1visits today