مدارس کا سائبان

na-26

تحریر :قائد جمیعت حضرت مولانا فضل الرحمن


میں نے جب آنکھ کھولی تو اپنے قبلہ گاہ والد بزرگوار حضرت مولانا مفتی محمود رحمة الله تعالى عليه کو تین حوالوں سے پہچانا ۔ایک جامعہ قاسم العلوم ملتان میں بحیثیت مدرس جب وہ شیخ الحدیث کے منصب پر فائز تھےدوسرا جمعیت علمائے اسلام کے حوالے سے ان کا مصروف عمل ہونا
اورتیسرا وفاق المدارس العربیه سے متعلق آپ کے مشاغل
وفاق المدارس العربیه کے حوالے سے میں نے دو شخصیات کو ان کے قریب تر دیکھا ایک مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ اور دوم مولانا خیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ
مدارس کو ایک منظم پلیٹ فارم مہیا کرنا اور دینی مدارس کے اندر پڑھایا جانے والا نصاب ریاست کی سطح پر تسلیم کرانا ان کی زندگی کے بڑے مقاصد میں سے ایک تھا
وفاق المدارس العربیہ پاکستان ،ہمارے مکتب فکر کے دینی مدارس کا ایک ایسا مشترکہ تعلیمی ادارہ اور امتحانی بورڈ ہے جس کی افادیت و ضرورت کوآج سے ساٹھ سال قبل ہمارے بزرگوں اور اکابر نے محسوس کیا اور اس کی بنیاد رکھی،ان بزرگوں کی بڑی دور رس نگاہ تھی ، اس وقت سے لے کر آج تک وفاق المدارس الحمد للہ اپنے اغراض و اہداف میں کامیابی کے ساتھ رو بہ ترقی ہے، ٰ سب سے پہلے اس تنظیم کی تجویز حضرت مولاناشمس الحق افغانی صاحبؒ نے پیش کی تھی،حضرت مولانا خیر محمد جالندھری صاحبؒ نے اس کی تائید فرمائی تھی،… .اس کے بعد حضرت مولانا خیر محمد جالندھری رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا شمس الحق افغانی رحمۃ اللہ علیہ مختلف اجلاسوں میں اس موضوع پر غور و خوض کرتے رہے ، اور ان بزرگوں کی باہمی مشاورت سے بالآخر ۱۸ اکتوبر ۱۹۵۹ء کو وفاق المدارس کا قیام عمل میں آیا ، اس کے پہلے صدر حضرت مولانا شمس الحق افغانی رحمۃ اللہ علیہ اور پہلے ناظم اعلی والد بزرگوارٰ حضرت مولانامفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ قرار پائے۔
ابتدا میں مدارس کو اس کی اہمیت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ان بزرگوں نے بہت محنت کی، مالی وسائل نہیں تھے،بڑی کسمپرسی کے عالم میں ان اکابر نے اسے قائم رکھنے اور آگے بڑھانے کے لیے جدوجہد کی ، اس کا اندازہ آپ اس مضمون سے لگا سکتے ہیں جو ’’ وفاق المدارس کے پہلے امتحان کی سرگزشت ‘‘ کے عنوان سے قبلہ والد بزرگوار حضرت مولانا مفتی محمود ؒ نے تحریر فرمائی ہے اورا س مجموعہ کے اندر شامل ہے ، یہ بڑا ایمان افروز مضمون ہے ، اس میں ملک گیر امتحان کے لیے رہنما اصول بھی لکھے گئے ہیں،ضرورت و اہمیت بھی بیان کی گئی ہے اور امتحانی روداد بھی ہے، اب تو اللہ کے فضل وکرم سے وفاق المدارس ایک بار آور مستحکم ادارہ بن چکا ہے،یہ ہماے بزرگوں اور اکابر کی محنتوں اور جلیل القدر مساعی کا ثمرہ ہے۔
ضرورت اس بات کی تھی کہ وفاق کی تاریخ ، اس کے لیے اکابر کی جدوجہد ، اس کے ادارتی نظام کے اصول و ضوابط، اس کے ارتقائی مراحل کی تفصیل مرتب کی جائے ، اس اہم کام کی ذمہ داری مولانا ابن الحسن عباسی صاحب کے حوالہ کی گئی ، انہوں نے بڑی محنت کے ساتھ ،شروع سے لے کر اب تک اس کی تاریخ مرتب کردی ہے، ریکارڈ میں موجود اکابرین وفاق کی تحریروں کو سلیقے کے ساتھ جمع کردیا ہے اور پورے ادارتی نظام اور اس کی جدوجہد کی تاریخ آٹھ ابواب میں مرتب کرکے یہ عظیم کتاب تیار کرلی ہے جس میں اعتدال بھی ہے اور جامعیت بھی !مجھے امید ہے کہ یہ کتاب عصری تعلیمی اداروں اور شعبوں کے لیے بھی ایک علمی رہنمائی اور تعارف فراہم کرے گی ،اللہ جل شانہ اسے نافع بنائے اور مرتب کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ،آمین

213total visits,1visits today