پاک بھارت مندوبین کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

2015-11-10-1447127690-5907728-united_nations_general_assembly_hall_3e13801268866541

جنیوا : اقوام متحدہ میں پاکستانی اور بھارتی مندوبین کے درمیان تلخ جموں کا تبادلہ ہوا۔ بھارتی مندوب کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے جبکہ پاکستانی نمائندے نے کہا کہ کشمیر میں نئی دہلی کی بے تحاشا طاقت کا استعمال کھلی بربریت ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق جنیوا میں ہونے والے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 34 ویں اجلاس میں بھارت کے مستقل رکن نے کہا کہ پاکستان بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں نہ صرف دہشت گردی کو پھیلا رہا ہے بلکہ دہشتگردوں کی اعانت بھی کر رہا ہے انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ اور کسی تیسرے فریق کو اس مسئلے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا اب آہستہ آہستہ یہ تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی اعانت کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ ہے اور کسی بھی تیسرے فریق کو اس میں گھسنے کی اجازت نہیں دی جائے گی انہوں نے کہا کہ کشمیر میں منتخب حکومت ہے اور ریاست کے لوگوں نے اسمبلی الیکشن میں حصہ لے کر بڑھ چڑھ کر رائے اپنی رائے دہی کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھارت پر الزامات لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہئے اس موقع پر پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو تحریری طور پر بھارتی مداخلت کے ثبوت دیئے اور کہا کہ سمجھوتا ایکسپریس دہشت گردی میں اسیم آنند کا بیان اہم ہے واقعہ میں کرنل پروہت کی سہولت کاری کو بھارت مسترد نہیں کر سکتا۔ جولائی 2016 سے لے کر اب تک 20 ہزار سے زائد نہتے کشمیریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان نے کشمیر میں بچوں، خواتین اور بزرگوں پر پیلٹ گن کے بے دریغ استعمال کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کھلی بربریت ہے بھارت مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرے۔

35total visits,1visits today