اورلی حملہ آور “اللہ کے لئے مرنے” آیا تھا: نیا انکشاف

b975d81d-de6e-4daa-8930-82eb9b144bd5_16x9_600x338

پیرس کے ‘اولی ہوائی اڈے’ پر گذشتہ روز ایک خاتون پولیس اہلکار سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کرنے کے بعد پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شخص کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اسلحہ چھینتے وقت چیخ رہا تھا کہ میں “اللہ کے لیے مرنا” چاہتا ہوں۔
استغاثہ کا کہنا تھا کہ اس شخص کی شناخت 39 سالہ زیاد بن بلقاسم کے نام سے ہوئی اور بظاہر وہ مسافروں پر فائرنگ کا ارادہ رکھتا تھا۔ یہ شخص خاتون اہلکار سے جب اسلحہ چھیننے کی کوشش کر رہا تھا تو وہاں موجود دیگر دو سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کر کے اس شخص کو ہلاک کر دیا۔
اس واقعے کے بعد ہوائی اڈے کو فوری طور پر خالی کروا لیا گیا اور سیکڑوں ایسے افراد جو اپنے عزیزوں کو لینے کے لیے ہوائی اڈے پر موجود تھے شدید افراتفری کا شکار نظر آئے۔
پولیس نے اس واقعے کے محرکات کے بارے میں تفصیل فراہم نہیں کی لیکن پیرس کے استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس کی تحقیقات انسداد دہشت گردی ڈویژن کر رہا ہے۔
مشتبہ شخص کے والد اور بھائی کو پولیس نے کچھ دیر کے لیے تحویل میں لیا تھا جو حکام کے مطابق ایسے واقعات کی تفتیش کے لیے ایک معمول کی کارروائی ہے۔
وزیر داخلہ برونو لی روکس اب تک کی تفتیش کے بارے میں بتایا کہ زید کو پولیس نے پہلے پیرس کے شمالی مضافات میں ہفتہ کو علی الصبح بغیر لائٹس کے تیز رفتار ڈرائیونگ پر روکا تھا، وہاں زیاد نے ایک ریوالر سے فائرنگ کر کے ایک پولیس افسر کو زخمی کر دیا۔

28total visits,1visits today