قیدیوں کا قتل عام، امریکا کا ایران کے خلاف مذمتی قرار داد پرغور

a3061614-c41a-42d0-ac42-93df147e699d_16x9_600x338

امریکی ایوان نمائندگان میں دونوں جماعتوں ری پبلیکن اور ڈیموکریٹس ارکان، خارجہ، نیشنل سیکیورٹی اور اخلاقیات کمیٹیوں کے سربراہان نے ایک ایرانی رجیم کے ہاتھوں قیدیوں کے قتل عام کے خلاف ایک نئی مذمتی قرارداد کی منظوری پر غور شروع کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مجوزہ قرارداد میں سنہ1988ء میں ایرانی رجیم کے ہاتھوں جیلں میں بے رحمی کے ساتھ قتل کیے گئے مجاھدین خلق، بائیں بازو کی تنظیموں کے کارکنان اور قوم پرست جماعتوں کے کارکنوں کے وحشیانہ قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کی جائے گی۔
امریکی ایوان نمائندگان میں زیرغور قرارداد کی نقل العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بھی ملی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سنہ 1988ء میں ایران میں قیدیوں کے قتل عام میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائیکرتے ہوئے مقتولین کے ورثاء کو انصاف دلایا جائے۔
ایوان نمائندگان نے ارکان نے امریکی حکومت اور امریکا کےاتحادیوں پر بھی سرکاری سطح پر ایران میں قیدیوں کے بے رحمانہ قتل عام کی مذمت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران مقتولین کے ورثاء کو قتل کیےگئے افراد کےبارے میں مکمل معلومات فراہم کریں۔ مقتولین کے ورثاء کو بتایا کہ آیا ان کے پیاروں کو قتل کے بعد کہاں دفن کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایوان نمائندگان میں زیرغور قرارداد کو’اسلامی جمہوریہ ایران کے ہاتھوں سنہ 1988ء میں سیاسی قیدیوں کے قتل عام کی مذمت اور مقتولین کے ورثاء کو انصاف کی فراہمی‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ ایوان نمائندگان کی قرارداد میں ایران میں قیدیوں کے قتل عام کو سنگین جنگی جرم قرار دیا گیاہے۔
ایوان نمائندگان نے ایران میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سربراہ سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ قیدیوں کے قتل عام کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیشن قائم کرے جو ایرانی جیلوں میں بے رحمی سے قتل کیے گئے سیاسی کارکنوں کے قاتلوں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلانے کی مہم شروع کرے۔
ادھر دوسری جانب ایوان نمائندگان کی سیکیورٹی کمیٹی کے چیئرمین مائیکل میک کال اور خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین الیوٹ انگل نے قرارداد کےمسودے کے بارے میں صحافیوں کو بریفنگ بھی دی ہے۔
مائیکل میک کال کا کہنا ہے کہ ایرانی رجیم نے آج تک سنہ 1988ء کے بے گناہ قیدیوں کے قتل عام کی تردید نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوان نمائندگان کی جانب سے ایران کے خلاف مذمتی قرارداد کی منظوری کا مقصد سنہ 1988ء کے قتل عام میں ملوث عناصر کو کٹہرے میں لانا اور مقتولین کے ورثاء کو انصاف دلانا ہے۔

34total visits,1visits today