پیپلزپارٹی کے رہنما شرجیل میمن کی گرفتاری کے بعد رہائی

768832-sharjeelmemon-1489878336-632-640x480

اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن کو وطن واپس پہنچنے پر نیب نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر حراست میں لیا تاہم ضمانتی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔ پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن رات گئے دبئی سے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے تو نیب راولپنڈی کی ٹیم نے انہیں حراست میں لے لیا جب کہ اس موقع پر ان کے ہمراہ سندھ حکومت کے تین وزرا اور ایک معاون خصوصی بھی تھے جن میں امداد پتافی، مکیش چاؤلہ، فیاض بٹ اور تیمور تالپور شامل ہیں۔ اس موقع پر شرجیل میمن نے حراست میں لیتے وقت نیب اہلکاروں سے مزاحمت بھی کی لیکن اہلکار انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھا کر اپنے ہمراہ دفتر لے گئے۔نیب کی جانب سے پوچھ گچھ کے دوران شرجیل میمن نے اپنی ضمانتی دستاویزات پیش کیں جن کی مفصل جانچ پڑتال اور دستاویزات کی تصدیق ہونے کے بعد نیب نے انہیں رہا کردیا۔ ذرائع کے مطابق شرجیل میمن کے وکلا نے 3 روز قبل اسلام آباد ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت کرا رکھی تھی اور انہیں 20 مارچ کو عدالت میں پیش ہونا تھا جس کی وجہ سے وہ کراچی کے بجائے اسلام آباد پہنچے۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما امداد پتافی نے شرجیل میمن کی گرفتاری سے متعلق کہا کہ شرجیل میمن سندھ اسمبلی کے رکن ہیں اور ان کے پاس ضمانت کے کاغذات تھے لیکن انہیں حراست میں لئے جانے کے دوران اس بات کا بھی خیال نہیں رکھا گیا، شرجیل میمن کو اس طرح سے حراست میں لیا جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔واضح رہے کہ شرجیل میمن سندھ حکومت کے وزیراطلاعات رہے ہیں اور ان پر اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں، نیب نے شرجیل میمن کے خلاف کرپشن کا ریفرنس دائر کررکھا ہے اور ان کا نام بھی ای سی ایل میں شامل ہے۔ کراچی آپریشن میں شدت کے بعد شرجیل میمن دبئی روانہ ہوگئے تھے جہاں پونے دو سال رہنے کے بعد وہ وطن واپس پہنچے تھے۔

151total visits,1visits today