اپریل فول

تحریر: مولانامحمدطارق نعمان گڑنگی
غیروں کے رسم ورواج نے آج مسلمانوں کوگمراہی کی دلدل میں پھنسادیاہے مسلمان ان کے کاموں کوآج ثواب کی نیت سے کر رہے ہیں عارضی خوشی کے لیے دوسروں کوحادثات اورناگہانی واقعات کی جھوٹی اطلاعات دینے سے لاکھوں افراداپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں موبائیل فون کے دور میں اس فضول تہوار سے ہونے والی قیمتی جانوں کانقصان بہت زیادہ ہوچکاہے اپریل فول ایک ایسی بیہودہ اورقبیح رسم ہے جوآج یورپ میں بھی متروک ہوتی جارہی ہے لیکن مسلمان ہنسی خوشی اس رسم کونبھارہے ہیں اپریل فول کافروں کاتہوار،مناناگناہ کبیرہ ہے۔
سوال یہ پیداہوتاہے کہ یہ مذاق ہے یاامن وسکون کی تباہی ؟صرف دل لگی یابھونڈی غلط بیانی؟صرف انجوائمنٹ یااخلاق وکردارکی پامالی تما م پہلوؤں سے اگر دیکھاجائے تواپریل فول جھوٹ کاعالمی دن نظر آتاہے ۔نبی کریم ﷺ کاپاک ارشاد ہے کہ بیشک سچائی میں سکون اورجھوٹ میں بے سکونی ہے
اس رسم کی ابتداء کے بارے میں مختلف مؤرخین کے بیانات ملتے ہیں
(۱)فرانس میں سترہویں صدی سے پہلے سال کاآغازجنوری کے بجائے اپریل سے ہواکرتاتھااس مہینے کورومی لوگ اپنی دیوی وینس(venus)کی طرف منسوب کر کے مقدس سمجھاکرتے تھے وینس کاترجمہ یونانی زبان میں Aphroditeکیاجاتاتھاشایداسی یونانی نام سے مشتق کر کے مہینہ کانام اپریل رکھ دیاگیا(برٹانیکاپندرہواں ایڈیشن ص،292ج،8)
(2)یکم اپریل سال کی پہلی تاریخ ہواکرتی تھی اس کے ساتھ ایک بت پرستانہ تقدس بھی وابستہ تھا اس لیے اس دن کو لوگ جشن مسرت منایاکرتے تھے اسی جشن مسرت کاایک حصہ ہنسی مذاق تھاجورفتہ رفتہ ترقی کر کے اپریل فول کی شکل اختیار کر گیابعض لوگ کہتے ہیں کہ اس جشن مسرت کے دن لوگ ایک دوسرے کوتحفے دیاکرتے تھے ایک مرتبہ کسی نے تحفہ کے نام پر کوئی مذاق کیاجو بالاخر دوسرے لوگوں میں بھی رواج پکڑگیا
(3)برٹانیکامیں اس رسم کی ایک اور وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ 21مارچ سے موسم میں تبدیلیاں آنی شروع ہوجاتی ہیں ان تبدیلیوں کوبعض لوگوں نے اس طرح تعبیر کیاکہ (معاذاللہ)قدرت ہمارے ساتھ مذاق کر کے ہمیں بیوقوف بنارہی ہے لہذالوگوں نے بھی اس زمانے میں ایک دوسرے کوبیوقوف بناناشروع کر دیا(برٹانیکا ص,496,)
(4)انیسویں صدی کی معروف انسائیکلوپیڈیا’’لاروس‘‘نے بیان کیاہے اوراسی کوصحیح قرار دیاگیاہے وہ وجہ یہ ہے کہ دراصل یہودیوں اورعیسائیوں کی بیان کردہ روایات کے مطابق یکم اپریل وہ تاریخ ہے جس میں رومیوں اور یہودیوں کی طرف سے حضرت عیسیٰ ؑ کوتمسخر اور استہزاء کانشانہ بنایاگیاموجودہ نام نہاد انجیلوں میں اس واقعہ کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں ۔لوقا کی انجیل کے الفاظ یہ ہیں ’’اور جوآدمی اسے(یعنی حضرت مسیح ؑ کو)گرفتار کیے ہوئے تھے اس کو ٹھٹھے میں اُڑاتے اور مارتے تھے اور اس کی آنکھیں بند کر کے اس کے منہ پر طمانچے مارتے تھے اور اس سے یہ کہہ کر پوچھتے تھے کہ نبوت(یعنی الہام)سے بتاکہ کس نے تجھ کومارا؟اور طعنے مار مار کر بہت سی اورباتیں اس کے خلاف کیں
(5)اپریل فول کی دردناک حقیقت
عیسائی فوج نے جب اسپین کوفتح کیاتواس وقت اسپین کی زمیں پرمسلمانوں کااتناخون بہایاگیاکہ فاتح فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے توان کی ٹانگیں گھٹنوں تک مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوتی تھیں جب فاتح فوج کویہ یقین ہوگیاکہ اب کوئی مسلمان بھی نہیں بچاتوانہوں نے گرفتار مسلمان فرمانرواکویہ موقع دیاکہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ مراکش چلاجائے جہاں سے اس کے اباؤاجدادآئے تھے۔قابض فوج غرناطہ سے کوئی بیس کلومیٹردورایک پہاڑی پر اسے چھوڑکر چلی گئی ۔جب عیسائی افواج مسلمان حکمراں کواپنے ملک سے نکال چکیں توپھرحکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے رہے کہ کوئی مسلمان نظرآئے تواسے شہید کردیاجائے ۔جومسلمان بچ گئے تھے وہ دوسرے علاقے میں جابسے تھے اوروہاں جاکراپنے گلوں میں صلیبیں ڈال دی تھیں اوراپنے نام عیسائیوں کے نام پہ رکھ دیے تھے۔اب بظاہراسپین میں کوئی مسلمان نظر نہیں آرہاتھامگرعیسائیوں کواب بھی یقین تھاکہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے کچھ چھپ کراوراپنی شناخت چھپاکرزندہ ہیں تب مسلمانوں کوباہرنکالنے کی تراکیب سوچی جانے لگیں بلآخرایک منصوبہ بنایاگیا۔وہ یہ کہ پورے ملک میں اعلان ہواکہ یکم اپریل کوتمام مسلمان غرناطہ میں اکھٹے ہوجائیں تاکہ انہیں ان ممالک میں بھیجاجائے جہاں وہ جاناچاہیں ۔اب چونکہ ملک میں امن قائم ہوچکاتھااورمسلمانوں کوکود ظاہر ہونے میں کوئی خوف محسوس نہ ہوا۔مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے ۔الحمراء کے نزدیک بڑے میدانوں میں خیمے نصب کر دیے گئے ،جہازآکر بندرپہ لنگرانداز ہوتے رہے ۔مسلمانوں کوہرطریقے سے یقین دلایاگیاتھاکہ انہیں کچھ نہیں کہاجائے گا۔جب مسلمانوں کویقین ہوگیاکہ اب ہمیں کچھ نہیں کہتے تووہ غرناطہ میں اکھٹاہوناشروع ہوگئے اس طرح حکومت نے تمام مسلمانوں کوایک جگہ اکھٹاکرلیااوران کی خوب توضع کی۔یکم اپریل کادن آیاتوتمام مسلمانوں کوبحری جہاز وں میں بٹھایاگیامسلمانوں کواپنے وطن چھوڑتے ہوئے بڑی تکلیف ہورہی تھی مگر اطمینان تھاکہ چلوجان بچ جائے گی ۔دوسری طرف عیسائی حکمران اپنے محلوں میں جشن منانے لگے ۔جرنیلوں نے مسلمانوں کوالوداع کیااورجہاز وہاں سے چل دیے ان مسلمانوں میں بوڑھے ،جوان ،خواتین ،بچے اور کئی مریض بھی تھے جب جہاز سمندر کے عین وسط میں پہنچے تومنصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبودیااوریوں وہ تمام مسلمان سمندرکی گہرایوں میں ابدی نیندسوگئے اس کے بعد اسپین بھر میں جشن منایاگیاکہ ہم نے کس طرح مسلمانوں کوبیوقوف بنایاپھر یہی دن اسپین سے نکل کر پورے یورپ میں فتح کاعظیم دن بن گیااوراسے انگلش میں First April Fool کانام دیایعنی’’یکم اپریل کے بیوقوف‘‘آج بھی عیسائی دنیااس دن کی یاد بڑے اہتمام سے مناتی ہے اورلوگوں کوجھوٹ بول کہ بیوقوف بنایاجاتاہے افسوس!کہ آج ہمارے مسلمان بھائی بھی مارچ میں یہ سوچناشروع کر دیتے ہیں کہ یکم اپریل کوکس کس کوبیوقوف بنائیں۔۔۔۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ اپنے آپ کوجھوٹ سے بچاؤکیونکہ جھوٹ نہ سنجیدگی کی حالت میں جائز ہے نہ ہنسی مذاق میں ،کوئی شخص اپنے بچے سے ایساوعدہ نہ کرے کہ پھر اسے پورانہ کرے کیونکہ جھوٹ نافرمانی تک لے جاتاہے اورنافرمانی جہنم تک لے جاتی ہے اور سچ نیکی تک لے جاتاہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے اورسچے شخص کے لیے کہاجاتاہے کہ اس نے سچ کہابھلائی کی جبکہ جھوٹے کے لیے کہاجاتاہے کہ اس نے جھوٹ بولااور نافرمانی کی ،خبردار!بندہ جھوٹ بولتارہتاہے یہانتک کہ اللہ کے ہاں جھوٹالکھاجاتاہے (سنن ابن ماجہ ج،اول)
دوستو یکم اپریل آرہاہے خود بھی ہوشیار رہیں اور دوسروں کو بھی ہوشیار رکھیں ۔۔۔کہانی کوئی بھی ہو،جھوٹاکوئی بھی ہوسوال یہ پیداہوتاہے کہ کیاہم سمجھتے ہیں کہ جھوٹ بولنااچھی عادت ہے؟
کیاہم میں سے کوئی پسند کرتاہے کہ اس کامذاق اُڑایاجائے؟کیاہم پسند کرتے ہیں کہ کوئی ہم سے جھوٹ بولے ؟کیاجھوٹ بولنے کی ہماراپیارامذہب اجازت دیتاہے ؟یقیناہم جھوٹ کواور جھوٹ بولنے والے کواچھانہیں سمجھتے توپھر کلمہ پرھنے والے اپریل فول کیسے مناسکتے ہیں ۔آئیے اگر کسی نے فرسٹ اپریل منانے کافیصلہ کیاہے رب کے حضور معافی مانگ لے وہ بہت مہربان ونہایت رحم کرنے والاہے ۔

441total visits,1visits today