13 7

انٹیلی جنس ایجنسیاں اور مولوی

رعایت اللہ فاروقی

13
چین کے مسئلے کو ایک بار پھر ہوا دی جا رہی تو مجھے اپنے گھر یعنی مولویوں کی فکر پڑ گئی ہے۔ اس لئے لازم ہے کہ ایک حساس سی پوسٹ کرلی جائے تاکہ مولویوں کے کام آ سکے۔

مولوی جی ! ایک بات سمجھ لیجئے کہ اسے سمجھنا ملک و قوم کے بہت مفاد میں ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیاں جب کسی پڑھے لکھے اور سمجھدار بندے سے کام لینا چاہتی ہیں تو اسے قابو کرنے کے لئے ان کی جیب میں زبیدہ آپا کی طرح بے شمار ٹوٹکے پڑے ہوتے ہیں اور یقین کیجئے کہ اس کرہ ارض پر ایسا کوئی بندہ موجود نہیں جسے قابو کرنے کی ان کے پاس کوئی بھی ترکیب نہ ہو کیونکہ ہر شخص کے مفادات ہوتے ہیں اور ہر شخص کی جذباتی کمزوریاں ہوتی ہیں اور یہ دونوں چیزیں انسان کی وہ دکھتی رگیں ہیں جن کے لئے درکار ہر طرح کا مرہم انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جیب میں ہوتا ہے۔ اس دنیا سے ایسے لوگ بھی بڑی تعداد میں رخصت ہوئے ہیں جنہیں مرتے دم تک خبر نہ تھی کہ وہ فروخت ہوچکے تھے اور وہ زندگی بھر ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے لئے خدمات انجام دیتے رہے۔ بے شمار ترکیبیں تو پڑھے لکھے سمجھدار آدمی کے لئے ہوتی ہیں، مولوی کو قابو کرنے کے لئے وہ دو ہی ترکیبیں استعمال کرتے ہیں۔

سب سے پہلے وہ یہ دیکھتے ہیں کہ مطلوبہ مولوی براہ راست معاملات پر آمادہ ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ اگر براہ راست معاملات ممکن ہوں تو اس صورت میں اس سے براہ راست صاف صاف بات کرلی جاتی ہے لیکن اگر وہ براہ راست معاملات سے قابو آنے والا نہ ہو تو پھر یوں ہوتا ہے کہ ایک روز نماز کے بعد مالدار سا مقتدی شرعی مسئلہ پوچھنے کے لئے اس کے قریب آجاتا ہے اور مسئلہ پوچھ کر چلا جاتا ہے۔ دو تین دن بعد وہ پھر ایک مسئلہ پوچھنے آجاتا ہے۔ چونکہ ایک بار پہلے آمنا سامنا ہوچکا ہے لھذا اس بار اس کے امام صاحب کے قریب پہنچنے سے قبل ہی دونوں میں مسکراہٹ کا تبادلہ ہوجاتا ہے۔ یہ مسکراہٹ ایسی ظالم چیز ہے کہ اب یہ مقتدی دو ماہ بعد بھی امام صاحب کو ٹکرے گا تو انہیں یاد رہے گا۔ مسکراہٹ چہرے کو دل و دماغ پر سکین کرکے محفوظ کرلیتی ہے۔ اب تیسری بار یہی مقتدی دو تین ہفتے بعد ملے گا تاکہ مولوی صاحب چونکیں نہیں کہ اس بندے کو ہر دوسرے دن شرعی مسائل کیوں پیش آنے لگے ہیں۔ تیسری بار جب وہ آپ کے قریب آتا ہے تو آپ بے تکلف ہو کر فرماتے ہیں

“خیریت تو ہے اب کیا شرعی مسئلہ لے آئے ؟”

وہ بے اختیار ہنس کر کہتا ہے

“نہیں امام صاحب ! آج کوئی مسئلہ پوچھنے نہیں آیا بس مصافحے کی سعادت حاصل کرنے آیا ہوں”

یوں آپ اچانک خود کو تقدیس کے پہلے آسمان پر محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اس بار آپ کا یہ عقیدت مند آپ کو اپنا نام بھی بتا دیتا ہے اور آپ سے آپ کا فون نمبر بھی مانگ لیتا ہے جو آپ فورا دیدیتے ہیں کیونکہ بندہ مالدار دکھتا ہے۔ چند دن بعد وہ کال کرکے آپ سے کہتا ہے

“امام صاحب ! میری خواہش ہے کہ آپ میرے ساتھ کہیں باہر چل کر کھانا کھائیں، کیا آپ یہ سعادت مجھے عطاء کریں گے ؟”

اسے یقین ہوتا ہے کہ یہ سعادت آپ اسے عطاء کرکے ہی رہیں گے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ شوہر کے بعد مولوی ہی وہ دوسری ہستی ہے جس کے دل کا راستہ اس کے معدے سے ہو کر جاتا ہے۔ آپ توقع پر پورا اترتے ہیں اور یہ دعوت والا مرحلہ بخوبی سر ہو جاتا ہے۔ اب چونکہ آپ اس کا نمک کھا چکے تو وہ آپ سے بکثرت ملنے لگتا ہے۔ پھر ایک دن وہ آپ کو عمرے پر بھیجنے کی بھی سعادت حاصل کر لیتا ہے۔ اس کے بعد تو آپ خود ہی ہر نماز کے بعد دل ہی دل میں اس کی درازی عمر کی دعاء مانگنے لگتے ہیں۔ اتنے میں رمضان آجاتا ہے۔ وہ رمضان میں یہ کہہ کر آپ کو پانچ دس لاکھ روپے دیدیتا ہے کہ

“امام صاحب ! میری تو سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ کون زکوٰۃ کا مستحق ہے اور کون نہیں، مجھے آپ پر اعتماد ہے، آپ میری طرف سے یہ مستحقین میں بانٹ دیجئے”

آپ گھر پہنچ کر ایک ہاتھ سے وہ رقم اپنی بیگم کی جھولی میں ڈال کر اسے مالک بنا لیتے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے اٹھا کر سیدھے جا کر اپنے بینک اکاؤنٹ میں ڈال آتے ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ سیٹھ صاحب کو کیا پتہ کہ رقم آپ نے خود رکھ لی لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ یہ رقم اکاؤنٹ میں ڈلتے ہی سیٹھ صاحب جان لیتے ہیں کہ اس کے سیریل نمبروں والے سارے نوٹ آپ کے اکاؤنٹ میں جا چکے۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ پھنس چکے ہوتے ہیں۔ اگر آپ حرام خور نہ ہوں تو اس صورت میں آپ کو گاڑی وغیرہ کا تحفہ دے کر پھنسایا جاتا ہے۔ اب تک کی پیش رفت کے نتیجے میں آپ کا وہ عقیدت مند آپ پر مکمل گرفت پا چکا ہے۔ اب آپ اسے خوش رکھنے کی فکر میں مرے جاتے ہیں اور اس سے زیادہ آپ اس کے عقیدت مند بن چکے ہوتے ہیں۔ مولوی جی ! پھر یوں ہوتا ہے کہ ایک دن وہ آپ سے پوچھتا ہے

“آپ ماشاءاللہ بریلویوں کے خلاف اتنی زبردست تقریریں کرتے ہیں، یہ کام آپ بڑی سطح پر کیوں نہیں کرتے ؟”

“بڑی سطح ؟ کیا مطلب ؟”

“میرا مطلب ہے آپ کوئی تنظیم کیوں نہیں بنالیتے جس کے سٹیج سے شہر شہر، قریہ قریہ مشرکین کے خلاف لوگوں کو بیدار کریں اور ان کے عقیدے ٹھیک کریں ؟”

“ارے صاحب ! اس کام کے لئے بڑے وسائل درکار ہوتے ہیں، میں غریب کہاں یہ کر سکتا ہوں”

“حضرت ! میں ہوں نا ! آپ حکم کیجئے جتنا میرے بس میں ہے وہ میں کر لوں گا اور مزید ضرورت ہوئی تو میرے کچھ مزید دوست بھی ہیں ان سے بھی بات کر لیں گے، انشاءاللہ اچھے وسائل جمع ہوجائیں گے”

آنے والے دنوں میں بظاہر ڈونر دکھنے والے تین چار اور افراد آپ کے قریب آ چکے ہوتے ہیں اور یوں آپ کے گرد حصار مکمل ہوجاتا ہے۔ اب آپ کسی بھی لمحے مشرکین کے خلاف اعلان جنگ کرنے والے ہوتے ہیں۔ بس آپ یہ نہیں جانتے کہ یہ اعلان جنگ درحقیقت آپ نہیں بلکہ سی آئی اے یا را کرنے جا رہی ہے اور آپ کی تنظیم درحقیقت انہی کی فرنچائز ہوتی ہے۔ اس پوسٹ میں سمجھانے کی غرض سے ایک لگا بندھا طریقہ دکھایا گیا ورنہ حالات کی مناسبت سے حکمت عملی میں رد و بدل بھی ہو سکتا ہے۔ پھر غیر معروف مولوی کے لئے الگ اور ذرا پھوں پھاں والے مولوی کے لئے الگ سطح کی ترکیبیں اختیار کی جاتی ہیں۔ میں ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ اپنی حرص کو لگام دیجئے اور خود کو نوازنے والوں سے محتاط رہئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں