جے یو آئی سے نفاذ اسلام کی توقع حماقت؟

13
مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت سے اسلامی نظام کے نفاذ کی توقع کرنا حماقت کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ اس نظام کا نفاذ نہ وہ چاہتے ہیں اور نہ ہی وہ اس کے لئے جد و جہد کر رہے ہیں۔ یہ بات میں اپنے اس سات سالہ مشاہدے کی بنیاد پر کر رہا ہوں جو مولانا فضل الرحمن کی گہری رفاقت کے عرصے میں ہوا لیکن اس کی سب سے مضبوط دلیل ان کی جماعت کی وہ باقی قیادت ہے جن میں سے مولانا شیرانی کے سوا سب سیاست کے رموز سے ہی ناواقف ہیں اور پرلے درجے کے نا اہل لوگ ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت باقی سیاسی لیڈروں اور جماعتوں کی طرح محض اقتدار میں اپنے اپنے حصے کے لئے کوشاں ہے لیکن اس کے باوجود ہمیں ان کا ممنون ہونا ہی پڑے گا کیونکہ دیوبندی مکتب فکر کے لاکھوں علماء و طلبہ کے لئے وہ جد و جہد کے میدان میں واحد موزوں آپشن ہیں۔ دیوبندیوں کے پاس جے یو آئی کے علاوہ سپاہ صحابہ اور عسکری تنظیموں کے سوا کوئی فعال جماعت ہے ؟ اب اگر ہم غور کریں تو سپاہ صحابہ دیوبندیوں کی واحد فرقہ وارانہ جماعت ہے اور اس ملک کی فرقہ وارانہ خونریزی میں جو دو بڑے ہاتھ ملوث رہے ہیں یہ انہیں میں سے ایک ہے جبکہ عسکری تنظیمیں اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا چکیں۔ ایک لمحے کے لئے سوچ لیتے ہیں کہ میاں نواز شریف دائیں بازو کی سیاست کر رہے ہیں انہیں کیوں نہ جوائین کر لیا جائے ؟ تو سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف دیوبندی علماء و طلبہ کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ؟ ہرگز نہیں ! دیوبندیوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ شعور نہیں بلکہ عقیدت کی بنیاد پر جڑتے ہیں اور پھر ساری زندگی “ہمارے حضرت ! ہمارے حضرت !” کرتے رہتے ہیں سو آپ ہی بتائیں نواز شریف میں عقیدت والی کونسی چیز ہے ؟ دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دیوبندی جماعتی زندگی گزارنے پر یقین رکھنے والا مکتب فکر ہے تو اگر جے یو آئی بیچ میں نہ ہوتی تو یہ مولوی کن جماعتوں میں ہوتے ؟ سپاہ صحابہ یا ٹی ٹی پی میں ہی ہوتے۔ خدا کے بندو ! خدا کا شکر اور مولانا کا شکریہ کیوں ادا نہیں کرتے کہ جے یو آئی نے ان لاکھوں لوگوں کو دہشت گرد بننے سے بچا رکھا ہے ؟ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی اور جمعیت علماء پاکستان کا ہم پر یہی احسان کافی ہے کہ انہوں نے ہماری قومی تاریخ کے نازک ترین دور میں نوجوان مذہبی نسل کو سیاسی میدان میں مشغول رکھا ہے اور یہ اتنا بڑا احسان ہے کہ جو اتارے نہ اترے۔ آپ سے دست بستہ التجاء ہے کہ جے یو آئی کے اجتماع پر پوسٹ کرتے وقت اس پس منظر کو ذہن میں ضرور رکھیں۔ ہر مقام اور ہر موقع تضحیک کا نہیں ہوتا۔ میں جے یو آئی کا کبھی بھی کارکن نہیں رہا اور آئندہ بھی بننے کا دور دور کوئی امکان نہیں لیکن اس مذکورہ وجہ کے تحت ان کا یہ اجتماع میں اپنی ذات پر احسان سمجھتا ہوں اور حلفیہ کہتا ہوں کہ آپ پر بھی احسان ہے بس دیکھنے والی بات یہ ہے کہ آپ میں احساس تشکر ہے یا نہیں ؟

393total visits,1visits today