مدارس کے طلبہ عصری تعلیم یافتہ طلبہ سے کم نہیں ہیں،وفاقی مذہبی امور سردار محمد یوسف

پاکستان ادھورا خواب ہے، اسے پورا کرنا ہوگا،مفتی محمد تقی عثمانی ،سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ودیگر کا جامعۃ الرشید کی سالانہ تقسیم انعامات واسناد کی تقریب سے خطاب

jamiaturasheed

کراچی:جامعۃ الرشید کے سالانہ تقریب تقسیم اسناد و انعامات (کانوکیشن)سے خطاب کرتے ہوئے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نامور افراد نے کہا کہ جامعۃ الرشید دینی ضرورت کے مختلف گوشوں میں قابل قدر خدمات سراانجام دے رہی ہے اور اس سے تشنگان علم فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔دینی مدارس کے فضلاء ہمارے معاشرے کا تعلیم یافتہ طبقہ ہے،دینی مدارس کے طلبہ کسی بھی صورت عصری تعلیم یافتہ طلبہ سے کم نہیں ہیں۔9/11 کے بعد دینی مدارس کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا مختلف قسم کے الزامات لگائے گئے ، یہ الزامات ان ممالک کی طرف سے لگائے گئے جو نہیں چاہتے کہ پاکستان ترقی کر کے آگے بڑھے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں دینی مدارس کے طلبہ کو مواقع فراہم کرنے ہوں گے اور ان کے لیے نظام بنانا ہوگا۔آئین کے مطابق ہمارا نظام تعلیم اسلامی اصولوں کے تحت ہونا چاہیے۔ امت مسلمہ کو کہیں فرقہ اور کہیں مسلک کے نام پر تقسیم کیا جا رہا ہے۔ پاکستان ایک ادھورا خواب ہے، اسے پورا کرنا ہوگا۔ ہمیں حق اور سچ بات کرنا ہوگی۔ میڈیا دیکھتے ہیں تو ہر طرف تاریکی اور مایوسی نظر آتی ہے۔ مگر یہاں ایسے ادارے بھی موجود ہیں جو انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔بزنس کمیونٹی کو ایسی کوئی بھی پریشانی ہو یا دینی رہنمائی کی ضرورت ہوتو جامعۃ الرشید ہماری رہنمائی کرتی ہے۔سالانہ تقریب سے مولانا مفتی محمد تقی عثمانی ، سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ، جسٹس (ر) افتخارمحمد چوہدری ،وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف،وزیر مملکت انجینئر بلیغ الرحمن، سابق چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ،سابق کور کمانڈر منگلا لیفٹینٹ جنرل (ر) غلام مصطفی، یونیورسٹی آف لاہور کے چیئرمین اویس رؤف ، تحریک جوانان پاکستان کے سربراہ عبداللہ گل،ڈاکٹر ذیشان احمد، سابق چیئرمین سندھ بورڈ آف انویسمنٹ زبیر موتی والا اور آباد کے چیئرمین محسن ابو بکر شیخانی ، وائس پریذیڈنٹ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد ڈاکٹر منیر احمد اور مولانا فداء الرحمن درخواستی و دیگر نے خطاب کیا ۔جامعۃ الرشید کے مجموعی فضلا کی مجموعی تعداد امسال 390 تھی۔ جن میں درس نظامی کے 75، کلیۃ الشریعۃ کے20، ایم بی اے، بی ایس ، بی کام اوربی اے کے 107، تخصص فی فقہ المعاملات المالیہ والعلوم الاداریہ کے 4، تخصص فی الحدیث کے 8، تخصص فی الافتا کے 10، تخصص فی القرآت ، تجوید کورس برائے حفاظ علماء اور تحفیظ القرآن کے 42کلیۃ الدعوہ کے 22، دراسات دینیہ کے 15، صحافت کورس،عربک اینڈ انگلش لینگویج کورس کے 87طلباء نے سند فراغت حاصل کی۔مفتی محمد تقی عثمانی علالت کی وجہ سے شرکت نہیں کرسکتے۔ ان کا پیغام جامعۃ الرشید کے شیخ الحدیث مفتی محمد نے پڑھ کر سنایا۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج جامعۃ الرشید کے سالانہ جلسے میں شرکت کا ارادہ تھا لیکن اچانک طبیعت ایسی ناساز ہوئی کہ حاضری کا ارادہ ملتوی کرنا پڑا۔ الحمد للہ جامعۃ الرشید دینی ضرورت کے مختلف گوشوں میں قابل قدر خدمات سراانجام دے رہی ہے اور اس سے تشنگان علم فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔

jamiaturasheed-3

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ جامعۃ الرشید کی انتظامیہ کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے آج اس اجتماع میں مدعو کیا۔ اس قوم کے معماروں کو جنہوں نے آج اسناد حاصل کیں ہیں، ان کو مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہوں نے آگے جاکر ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنی ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ مسلمان ہونے کے ناطے ایسے ادارے میں ہوں جس کا وژن پہلی وحی اقراء بسم ربک کی تعمیل کی صورت میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مذہب اور آئین اقلیتوں کو تحفظ دیتا ہے ۔قیام پاکستان کے بعد تعلیمی اداریں قائم نہیں کیے گئے ان حالات میں دینی مدارس نے اس کمی کو پورا کیا۔دینی مدارس کے فضلاء ہمارے معاشرے کا تعلیم یافتہ طبقہ ہے،دینی مدارس کے طلبہ کسی بھی صورت عصری تعلیم یافتہ طلبہ سے کم نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ 9/11 کے بعد دینی مدارس کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا ، مخلتف قسم کے الزامات لگائے گئے ، یہ الزامات ان ممالک کی طرف سے لگائے گئے جو نہیں چاہتے کہ پاکستان ترقی کر کے آگے بڑھے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں دینی مدارس کے طلبہ کو مواقع فراہم کرنے ہوں گے اور ان کے لیے نظام بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ جب نبی کریم ﷺ کو نبوت دی جا رہی تھی تو آپ ﷺ پر پہلی جو نازل ہوئی اس میں پڑھنے کا حکم کیا گیا۔دین اسلام نے مسلم معاشرے کے لیے تعلیم کو فرض قرار دیا ہے چاہے وہ عورت ہو یا مرد تعلیم کی حصول کا حکم دونوں کے لیے ہے ۔وفاقی وزیر مذہبی امورسردار محمد یوسف نے کہا کہ دوسری بار جامعۃ الرشید آیا ہوں لیکن آج آکر بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ اس پروگرام میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد موجود ہیں۔ الحمد للہ جامعہ کی صدارت میں ایسے ادارے موجود ہیں جو عوام کی توقعات کو پورا کر رہے ہیں۔ یہاں پر عصری اور دینی تعلیم کا حسین امتزاج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اتنے فضلاء انسانیت کی خدمت کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ جامعہ جیسے دیگر ادارے قائم ہو تو نہ صرف ہماری ضرورت پوری ہوگی بلکہ دنیا میں پاکستان کا نام بھی روشن ہوگا۔ اس نظام تعلیم کی بدولت پاکستان کا نظام حکومت بھی بہتر ہوگا۔ جامعۃ الرشید کے فارغ التحصیل میرٹ کی بنیاد پر معاشرے میں اپنا مقام بنا رہے ہیں۔ 18ویں ترمیم کے نتیجے میں یکساں نظام تعلیم رائج کرنا ممکن نہیں رہا لیکن ہمیں اس کے لیے کوشاں ہونا چاہیے اور برابری کے مواقع فراہم کرنے چاہیے۔ آج الحمد للہ یہ دینی ادارے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے پہلی دفعہ عصری تعلیمی میں قرآن کی تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کی اشد ضرورت ہے۔ عصری تعلیمی اداروں میں بھی یہ کام ہو رہا ہے۔ اس طرح باقی دینی مدارس بھی اس کام میں جامعۃ الرشید کی تقلید کریں تو ہمار مسائل حل ہوسکتے ہیں۔امید ہے جس طرح بہت کم عرصے میں جامعۃ الرشید نے یہ مقام حاصل کیا ہے اب مزید ترقی کریں اور وقت کی ضرورت کو پورا کرے۔وزیر مملکت انجینئر بلیغ الرحمن نے ویڈیو لنک خطاب میں کہا کہ میرے لیے باعث افتخار ہے کہ میں آپ سے مخاطب ہوں۔ صحت کے مسائل کی وجہ سے شرکت نہیں کرسکا۔ جامعۃ الرشید وہ ادارہ ہے جہاں اعلیٰ تعلیم اعلیٰ اخلاقی قدروں کے ساتھ دی جاتی ہے۔ آج وہ اساتذہ لائق تحسین ہیں جن کی خدمات سے تعلیمی سلسلے جاری ہیں۔ عوام کا مستقبل تعلیم سے وابستہ ہے۔ پاکستان اقوام عالم میں اہم ترین ملک ہے۔ امت مسلمہ کا دسواں حصہ اس ملک میں رہتا ہے۔ تعلیم اب صوبوں کی ذمے داری ہے۔ ہم نے بین الصوبائی وزرائے تعلیم کنونشن کا انعقاد کیا۔ آئین کے مطابق ہمارا نظام تعلیم اسلامی اصولوں کے تحت ہونا چاہیے۔ الحمد للہ اسکولز میں قرآن کی تعلیم کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا گیا ہے۔ بقیہ معاشرے کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ سابق چیف آف نیول اسٹاف و چیئرمین معاون فاؤنڈیشن ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ نے کہا کہ جامعۃ الرشید کو مبارکباد دیتا ہوں کہ دینی علوم کے ساتھ عصری علوم پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔ہم میڈیا دیکھتے ہیں تو ہر طرف تاریکی اور مایوسی نظر آتی ہے۔ مگر یہاں ایسے ادارے بھی موجود ہیں جو انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔ اس لیے مجھے امید کی کرن نظر آرہی ہے۔ میں نے ٹاٹ والے اسکول سے تعلیم حاصل کی اور آج اس مقام پر ہوں۔

nasiz-ksisiskسابق کور کمانڈر منگلا لیفٹینٹ جنرل (ر) غلام مصطفی نے کہا کہ میں نے جو خواب دیکھا تھا آج اس کو پورا ہوتا دیکھ رہا ہوں۔ تعلیم کو دینی اور غیری دینی میں تقسیم کرنے پر بہت افسوس ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنا نظام تعلیم ٹھیک کرلیں تو پاکستان دنیا میں اپنا مقام حاصل کرلے گا۔ قرآن ہمیں آزاد کرنے آیا تھا، ہمیں چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم کرنے نہیں۔ جامعۃ الرشید آکر یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ اب ہماری سوچ آزاد ہوگی۔ ہم آپ کو آزادی نہیں دے سکے مگر یہ نوجوان آزاد نسل ہے۔ ان کو کسی سے خوف نہیں ہے۔ اگر پاکستان ہے تو آپ اور ہم سب ہیں۔ لیکن اگر ملک کو نقصان پہنچا تو پھر کچھ بھی نہیں رہے گا۔ یونیورسٹی آف لاہور کے چیئرمین اویس رؤف نے کہا کہ فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ مبارکباد کے مستحق ہیں، جنہوں نے دینی و دنیاوی علوم حاصل کیں۔انہوں نے کہا کہ آج امت مسلمہ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم کو دین و دنیا کے نام پر تقسیم کردیا گیا ہے۔اس کی وجہ اگر چہ پروفیشنل لوگ تو پیدا ہورہے ہیں لیکن ایسے لوگ اپنی رویات سے بے خبر ہوتے ہیں ۔ہم اس تفریق کو ختم نہیں کرسکیں مگر الحمد للہ جامعۃ الرشید نے اس کا آغاز کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے تقدیر کے فیصلے کرنے والے دین سے نابلد ہیں ،اس لیے ہمیں قیادت تیار کرنی ہوگی۔ تحریک جوانان پاکستان کے سربراہ عبداللہ گل نے کہا کہ یہ بات میرے لیے باعث اعزاز ہے کہ آج میں اس تقریب میں شریک ہوں۔ پہلے جنرل حمید گل مرحوم کے ساتھ آیا کرتا تھا۔ آج اکیلا آیا ہوں۔ میں نظریاتی آدمی ہوں اور نظریاتی لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوں۔ پاکستان ایک عظیم تحفہ ہے اور ایک خاص مقصد کے لیے بنایا گیا ہے۔ ہم نے اسے اسلام کے نام پر بنایا لیکن اسلام کو بطور نظام نافذ نہیں کرسکے۔ آزادی کی جنگ لڑنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔ریکٹر اینڈ ڈین KSBL ڈاکٹر ذیشان احمد نے کہا کہ موت کے وقت تمام اعمال رک جاتے ہیں مگر صدقہ جاریہ، تعلیم اور نیک اولاد۔ ان اعمال کا ثواب موت کے بعد بھی ملتا ہے۔ مسلمانوں کے سنہرے دور میں مدارس، اوقاف کے ادارے صدقہ تھے۔ پھر وقت نے پلٹا کھایا۔ مغرب میں ایسی مثالیں آج بھی ملتی ہیں۔ بل گیٹس کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

jamiaturasheed2
جھلکیاں:
*احسن آباد کے داخلی دروازوں پر شرکاء کی رہنمائی کے لیے استقبالیہ کیمپ لگائے گئے تھے۔
*شرکاء کے استقبال کے لیے راستوں میں خیر مقدمی بینرز اور پینافلیکس آویزاں تھے۔
*جامعہ کے باہر موٹر کار کاروں اور موٹر سائیکلوں کے لیے الگ الگ پارکنگ کا وسیع انتظام کیا گیا تھا۔
*تقریب کے موقع پر سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے، رضاکاروں کے علاوہ پولیس و دیگر سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات تھی۔
*جامعہ میں داخلے کے لیے مرکزی دروازہ قائم کیا گیا تھا، جہاں شرکاء کے کارڈ چیک کرنے کے بعد داخلے کی اجازت دی گئی۔
*داخلی دروازے سے متصل مختلف کاؤنٹر بنائے گئے تھے، جہاں مہمانوں کو ان کی نشستوں کی ترتیب سے پاس جاری کیے گئے۔
*پنڈال کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، مہمان خصوصی اور معزز مہمانوں کی نشستیں اگلی جانب تھی، جبکہ مہمان مکرم کی نشستیں گزشتہ حصے میں لگائے گئی تھی۔
*مہمان خصوصی میں وطن عزیز کی نامور مذہبی، سماجی و سیاسی شخصیات کے لیے نشستیں مختص تھی۔ مہمان مکرم میں جامعہ کے طلبہ اور اساتذہ کے مہمانوں کے لیے، جب کہ مہمان معزز میں میزبان کمیٹی کے مہمانوں کے لیے نشستیں مخصوص کی گئی تھیں۔
پہلی نشست کا آغاز مولانا قاری احسان الحق کی تلاوت کلام پاک سے کیا گیا
*تقریب کے دوران نظامت کے فرائض کلیۃ الشریعہ کے ڈائریکٹر مفتی احمد افنان نے انجام دیے۔
*پنڈال کے اطراف میں جامعہ کے مختلف شعبہ جات اور اداروں کے تعارف پر مبنی بڑے پینافلیکس لگائے گئے تھے، جو شرکاء کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔
*پنڈال میں بڑے اسکرین بھی لگائے گئے تھے، جہاں سے تقریب کی کارروائی براہ راست دکھائی جاتی رہی، جبکہ کوریج کے لیے ہیلی کیم کا استعمال بھی کیا گیا۔
*اسٹیج کے دونوں اطراف فضلاء کے لیے نشستوں کا اہتمام کیا گیا تھا، جہاں فضلاء جبے پہنے تشریف فرما تھے۔
*جامعہ کے طالب علم شرکاء کی رہنمائی اور انہیں پانی پھلانے کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔
*تقریب کے دوران جامعہ کے شعبہ نشر و اشاعت کی جانب سے تیار کردہ دستاویزی فلم دکھائی گئی، جس میں جامعۃ الرشید کے تمام شعبہ جات، اداروں کا تعارف پیش کیا گیا اور آئندہ کے منصوبہ جات پیش کیے گئے۔
*سال 2016-17 میں جامعہ کی کارکردگی پر مبنی ڈاکومنٹری رپورٹ بھی دکھائی گئی، جس میں جامعہ کے مختلف شعبہ جات اور ذیلی اداروں کی خدمات پیش کی گئی۔
*نماز مغرب کے موقع پر نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے باجماعت نماز کے بہترین انتظامات کیے گئے تھے

jamiaturasheed3

247total visits,2visits today

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *