امریکا کی سفاکیت، افغانستان ننگرہار میں‌بڑا نان نیو کلیئر بم سے حملہ

ہیروشیما پر بھی امریکا نے نیو کلیئر بم گرایا تھاجس کی تباہی گواہ تاریخ ہے
%d8%a7%d8%ae%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%84%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%b3
افغانستان میں امریکا نے سفاکیت کی انتہا کردی اور سب سے بڑا نان نیو کلیئر بم گرایا ہے، امریکا نے یہ بم افغانستان کے صوبے ننگرہار میں گرایا۔امریکا نے تصدیق کر دی ہے
اس بم کا وزن 21ہزار پاؤنڈ ہے اور یہ بم پہلی مرتبہ استعمال کیا گیا ہے،امریکا کے مطابق بم داعش کے ٹھکانے پر گرایا گیا ہے،
ننگرہار صوبے کی سرحد پاکستان کے ساتھ لگتی ہے۔

دنیا میں سب سے پہلے ایٹم بم استعمال کرنے والے ملک امریکا نے دنیا کا سب سے بڑا نان نیوکلیئر بم بھی سب سے پہلے استعمال کر لیا ہے۔

اس بات کی تصدیق خود امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کی، امریکا کا ایک ایم سی ون تھرٹی طیارہ یہ بم لے کر روانہ ہوا اور افغانستان کے مقامی وقت کے مطابق شام 7بج کر 32منٹ پر یہ بم ننگرہار کے علاقے آچین میں گرا دیا جہاں امریکا کے مطابق داعش خراسان کے زیر زمین ٹھکانے موجود ہیں۔

امریکا نے اس مقصد کے لیے ایک جی بی یو43بم استعمال کیا، افغانستان میں امریکی فورسز کے کمانڈر جنرل جون نکلسن نے کہا کہ داعش خراسان نے علاقے کی صفائی میں جو مشکلات کھڑی کر رکھی تھیں انہیں دور کرنے کے لیے ایسا حملہ مناسب تھا۔

بم گرانے کے لیے ایک کارگو طیارے کو استعمال کیا گیا، اس بم کو تمام بموں کی ماں بھی کہا جاتا ہے، یہ بم عراق جنگ سے پہلے تیار کیا گیا تھا اور اس کا تجربہ 2003ء میں کیا گیا تھا۔

پینٹاگون کے مطابق اس مشن کی تیاری کئی ماہ سے جاری تھی، ننگرہار میں جو بم گرایا گیا ہے اس میں ٹی این ٹی کی مقدار 11کلو ٹن تھی، امریکا نے ہیروشیما پر لٹل بوائے نامی جو بم گرایا تھا اس میں ٹی این ٹی کی مقدار 15کلو ٹن تھی۔

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل رک فرینکونا نے سی این این کو بتایا کہ جس علاقے میں یہ بم گرایا جائے وہاں لگتا یہی ہے کہ کوئی ایٹم بم گرایا گیا ہے۔

جی بی یو 43 نامی یہ بم 21ہزار 6سو پاؤنڈ وزنی ہوتا ہے،امریکا نے پہلی مرتبہ کسی لڑائی میں یہ بم استعمال کیا ہے، یہ بم عراق جنگ کے دوران تیار تھا مگر اسے استعمال نہیں کیا گیا تھا، اس کے فوری بعد روس نے بھی ایسا ہی ایک بم تیار کیا جسے تمام بموں کا باپ قرار دیا گیا اور بتایا جاتا ہے کہ روسی بم امریکی بم سے 4گنا زیادہ طاقت ور ہے۔

امریکا کے جی بی یو 43بم کو امریکا کی ایئرفورس ریسرچ لیبارٹری نے تیار کیا، اس بم کا پہلا تجربہ 11مارچ 2003ء کو امریکی ریاست فلوریڈا میں کیا گیا۔

اس بم کا مرکزی خیال بی ایل یو 82بم سے ملتا جلتا ہے جو ڈیزی کٹر کے نام سے جانا جاتا ہے، امریکا نے ڈیزی کٹر بم ویت نام اور عراق میں استعمال کیا تھا۔

جی بی یو 43بم بھی عراق جنگ ہی کے دنوں میں تیار کیا گیا تھا، امریکا اپنے دشمنوں کے خلاف بی 52، بی ٹو اور بی ون بم بھی استعمال کرتا رہا ہے جن کا وزن 5سو پاؤنڈ سے 2ہزار پاؤنڈ تک ہوتا تھا، یہ بم بھی بہت خطرناک ثابت ہوئے مگر اب ننگرہار میں جو بم استعمال کیا گیا ہے اس کا وزن 26ہزار 6سو پاؤنڈ ہے۔

391total visits,1visits today