putin_14 1

تیسری ممکنہ عالمی جنگ کا نقشہ

putin_14

ماسکو: شام کے تنازع پر امریکہ اور روس کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں اور امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن یہ تک کہہ چکے ہیں کہ ’اس وقت امریکہ اور روس کے تعلقات تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ تاریخ میں اس سے قبل دونوں طاقتوں کے تعلقات اتنے کشیدہ نہیں ہوئے جتنے آج ہو چکے ہیں۔‘ یہی وجہ ہے کہ تجزیہ کاردونوں بڑی طاقتوں کے مابین ایٹمی جنگ کی پیش گوئیاں کر رہے ہیں۔ اب ایک ایسا نقشہ سامنے آ گیا ہے جس نے امریکیوں کے پسینے چھڑوا دئے ہیں۔ ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق اس نقشے میں دکھایا گیا ہے کہ تیسری ممکنہ عالمی جنگ میں روس امریکہ میں کون کون سی جگہ پر ایٹم بم پھینکے گا۔ نقشے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر تیسری عالمی جنگ ہوتی ہے تو روس کروڑوں امریکیوں کو موت کے گھاٹ اتار دے گا اور آدھے سے زیادہ امریکہ بے آب و گیاہ، چٹیل میدان بن جائے گا جہاں کئی دہائیوں تک آبادی ممکن نہ ہو سکے گی۔اس وقت ایک اندازے کے مطابق روس کے پاس 4490 اور امریکہ کے پاس 4500 ایٹم بم موجود ہیں۔ مذکورہ نقشے میں سیاہ نقطے بنائے گئے ہیں جو نشاندہی کرتے ہیں کہ ان مقامات پر روس ایٹم بم گرائے گا۔ یہ 2 ہزار سیاہ نقطے ہیں جس کا مطلب ہے کہ تیسری عالمی جنگ میں روس امریکہ پر 2 ہزار ایٹم بم پھینکے گا۔ نقشے پر کچھ اودے رنگ کے نقطے بھی موجود ہیں۔ان کی تعداد 500 ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر روس نے 500 ایٹم بم پھینکنے کا فیصلہ کیا تو وہ ان جگہوں کو نشانہ بنائے گا۔ رپورٹ کے مطابق اگر روس پہلے حملہ کرتا ہے تو وہ امریکہ پر 2 ہزار ایٹم بم گرائے گا اور اگر امریکہ روس پر پہلے ایٹمی حملہ کر دیتا ہے تو اس کے ایٹمی حملہ کرنے کی صلاحیت محدود ہو جائے گی۔ اس صورت میں وہ امریکہ پر500 ایٹم بم ہی گرا پائے گا۔ نقشے کے مطابق امریکہ کے دیہی علاقے زیادہ تر ان روسی حملوں میں محفوظ رہیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں