ترکی میں ریفرینڈم:اردوان کامیاب،2029تک صدر رہیں گے

akhbarulmadaris
ترکی : صدر رجب طیب اردوغان کو ملک میں ہونے والے ریفرنڈم میں کامیابی حاصل ہوگئی ہے جس کے بعد اب انھیں وسیع صدارتی اختیارات حاصل ہوں گے اور وہ 2029 تک اقتدار میں رہ سکتے ہیں۔
99.45 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے جن کے بعد اب تک ‘ہاں’ کہنے والوں کی تعداد اکیاون اعشاریہ تین سات فیصد جبکہ ‘نہیں’ کہنے والوں کی تعداد اڑتالیس اعشاریہ چھ تین فیصد رہی ہے۔
رجب طیب اردوغان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے ملک کو جدید طرز پر لانے میں مدد ملے گی۔ تاہم ان کے مخالفین کو خدشہ ہے کہ یہ آمریت کا باعث بن سکتی ہے۔

akhbarul-madaris

صدر رجب طیب اردوغان نے استنبول میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ریفرنڈم میں فتح کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ان کی جماعت کو واضح اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
نتائج صدر اردوغان کے حق میں آنے کے بعد انھیں کابینہ کے وزرا، ڈگری جاری کرنے، سینیئر ججوں کے چناؤ اور پارلیمان کو برخاست کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے
ملک کی دو بڑی حزب مخالف کی جماعتوں نے ریفرنڈم کے نتائج کو چیلنج کرنے کا کہا ہے۔
حزب مخالف کی مرکزی جماعت رپبلکن پیپلز پارٹی گنتی مکمل ہونے سے قبل ہی 60 فیصد ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
ترکی کے سرکاری میڈیا پر دکھائے جانے والے مناظر میں صدارتی محل کے باہر جشن منانے کے لیے جمع ہونے والے ہزاروں افراد کو دیکھا جا سکتا ہے۔
ترکی میں سیاست دانوں نے ریفرینڈم کے لیے ہونے والی مہم کے آخر روز ووٹروں سے ووٹ ڈالنے کی اپیلیں کیں۔
ریفرینڈم کے لیے 1,67,000 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے تھے جہاں ساڑھے پانچ کروڑ ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
ترکی کے صدر کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کے لیے تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
استنبول میں ریفرینڈم سے قبل آخری ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اردوغان نے اپنے حامیوں کو بتایا تھا کہ ‘نئے آئین سے ملک میں استحکام اور اعتماد آئے گا جو ملکی ترقی کی ضرورت ہے۔‘
ترک پارلیمان نے جنوری میں آئین کے آرٹیکل 18 کی منظوری دی تھی تاہم اس موقع پر پارلیمان میں ہاتھا پائی بھی دیکھنے کو ملی۔
ترکی میں گذشتہ برس ملک میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد میڈیا اور دیگر اداروں کے خلاف ہونے والے کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے تاہم صدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک کے استحکام کے لیے تبدیلیاں ضروری ہیں۔
نئی اصلاحات کے تحت ملک کے وزیراعظم کا عہدہ موجودہ وزیراعظم بن علی یلدرم کے بجائے کسی اور شخصیت کے پاس جائے گا یا پھر اس عہدے کے جگہ نائب صدر لیں گے

136total visits,2visits today