A Syrian child receives treatment at a small hospital in the town of Maaret al-Noman following a suspected toxic gas attack in Khan Sheikhun, a nearby rebel-held town in Syria’s northwestern Idlib province, on April 4, 2017.
Warplanes carried out a suspected toxic gas attack that killed at least 35 people including several children, a monitoring group said. The Syrian Observatory for Human Rights said those killed in the town of Khan Sheikhun, in Idlib province, had died from the effects of the gas, adding that dozens more suffered respiratory problems and other symptoms.
 / AFP PHOTO / Mohamed al-Bakour / ADDING INFORMATION IN CAPTION 2

شامی فورسز ہی نے کیمیائی حملہ کیا تھا: فرانس ثبوت دے گا

فرانس کی انٹیلی جنس سروسز آیندہ دنوں میں شامی صدر بشارالاسد کی فورسز کے خلاف اس امر کا ثبوت دیں گی کہ انھوں نے ہی 4 اپریل کو صوبے ادلب میں بے گناہ شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا۔
یہ بات فرانسیسی وزیرخارجہ ژاں مارک آیرو نے ایک ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ فرانسیسی انٹیلی جنس سروسز اور ملٹری انٹیلی جنس شام میں کیمیائی حملے کی تحقیقات کررہی ہیں۔یہ ایک اہم سوال ہے اور ہم اس امر کا ثبوت دیں گے کہ شامی رجیم ہی نے یہ حملے کیے تھے‘‘۔
انھوں نے کہا:’’ ہمارے پاس کچھ ایسے عناصر ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اسد رجیم نے جانتے بوجھتے ہوئے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے‘‘۔
دوسری جانب شامی صدر بشارالاسد کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کی حقیقت سے ہی انکاری ہیں۔ انھوں نے گذشتہ ہفتے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ 4 اپریل کو شمال مغربی صوبے ادلب میں زہریلی گیس کے حملے کی کہانی ’’100 فی صد من گھڑت ‘‘ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شامی فوج تو تمام کیمیائی ہتھیاروں سے پہلے ہی دستبردار ہوچکی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی پہلے ہی شامی فوج کو اس کیمیائی حملے کا مورد الزام ٹھہرا چکی ہیں لیکن شامی حکومت اس حملے میں ملوّث ہونے کی تردید کرتی چلی آرہی ہے۔صوبہ ادلب میں واقع قصبے خان شیخون پرزہریلی گیس کے حملے میں متعدد بچوں سمیت ستاسی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں