نیب نے 287 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروائے

6

اسلام آباد: چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے کہا ہے کہ نیب نے قومی دولت لوٹنے والوں سے 287 ارب روپے کی خطیر رقم واپس قومی خزانے میں جمع کروائی ہے جبکہ ہماری موثر حکمت عملی سے سزاکی شرح 76 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیئر مین نیب قمر زمان چودھری کا جامع انفورسمنٹ پالیسی کے حوالے سے جاری بیان میں کہنا تھا کہ ملک سے کرپشن کے خاتمہ کے لئے نیب نے بعض آپریشنل اختیارات ریجینل ڈائریکٹریٹس جنرل کو سونپ دیئے ہیں، موجودہ انتظامیہ نے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت پالیسی مرتب کی ہے اور ادارے کی موثر حکمت عملی کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ نیب پاکستان میں انسداد رشوت ستانی کا بڑا ادارہ ہے جس کا قیام 1999ء میں عمل میں لایا گیا تھا جس کا مقصد بدعنوانی کا خاتمہ اور لوٹی گئی قومی دولت کو واپس قومی خزانے میں جمع کرانا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب کسی بھی شکایات کی وصولی کے بععد اپنا کام شروع کرتا ہے جس میں نیب آرڈیننس کے تحت تحقیقات کا عمل شفاف طریقے سے مکمل کر کے کیس عدالتوں میں بھیجے جاتے ہیں جبکہ ہماری موجودہ انتظامیہ نے کام کو زیادہ موثر بنانے کےلئے جامع حکمت عملی مرتب کی ہے جس کے مثبت اثرات ہونا شروع ہو گئے ہیں اور شکایت کی وصولی سے لے کر تحقیقات اور ریفرنس دائر کرنے کےلئے 10 ماہ کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ نیب میں بہتر حکمت عملی کےلئے ایس او پیز مرتب کئے گئے ہیں جس کے تحت جب کوئی شکایت موصول ہوئی ہے اور قومی خزانہ کو نقصان پہنچانے والے عناصر اگر دولت واپس نہ کریں تو ان کے خلاف باقاعدہ کارروائی کی جاتی ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ ادارے میں تمام تر کارروائی طے شدہ طریقہ کار کے تحت کی جاتی ہے اور موجودہ انتظامیہ نے دس سال کے بعد ادارے کے کام کرنے کے طریقہ کار اور استعداد میں بہتری کے حوالے سے جامع حکمت عملی مرتب کی ہے۔ ادارے کی موثر کارروائیوں سے وائٹ کالر کرائم کو کم کرنے میں مدد حاصل ہوئی ہے اور نیب نے قومی دولت لوٹنے والوں سے 287 ارب روپے کی خطیر رقم واپس قومی خزانے میں جمع کروائی ہے اور نیب کی موثر حکمت عملی سے ادارے کی کنویکشن کی شرح 76 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے اور اس حوالے سے جامع حکمت عملی کے تحت موثر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

19total visits,1visits today

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *