3 2

پاک سرزمین پارٹی کا ملین مارچ ،مصطفی کمال ساتھیوں سمیت رہا

3

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس نے شیلنگ اور واٹر کینن کے استعمال کے بعد پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال سمیت دیگر رہنماؤں کو رہا کر دیا ہے۔ مصطفی کمال کہتے ہیں کہ رہائی ڈیل کے تحت نہیں ہوئی پہلے یہ بتایا جائے کہ نہ ریڈ زون میں داخل ہوئے کوئی جرم نہیں کیا تو گرفتار کیوں کیا گیا تھا ؟۔ 16 نکات سے پیچھے ہٹنے والے نہیں اور 48 گھنٹوں کے دوران اگلے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔ اپنے 16 مطالبات کے حق میں پاک سرزمین پارٹی کا ملین مارچ شارع فیصل پر رواں دواں تھا کہ ایف ٹی سی کے قریب پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کردیں اور جب شرکا نے آگے بڑھنے کی کوشش کی ،تو پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج شروع کردیا۔ اس کے بعد مصطفی کمال، رضا ہارون، اور ڈاکٹر صغیر سمیت دیگر رہنماوں و کارکنوں کو حراست میں لیکر کلاکوٹ تھانی منتقل کر دیا، جہاں کارکنوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی اورحکومت مخالف نعرے بازی کی گئی۔کلاکوٹ تھانے ملاقات کے لیے پاک سرزمین کی خواتین رہنما اور مرکزی رہنما آصف حسنین کے ساتھ پی ٹی آئی رہنما علی زیدی بھی پہنچے اور حراست میں لیے گئے رہنماوں سے ملاقات کی اور واقعے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے رہائی کا مطالبہ کیا۔ اس دوران سندھ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے صوبائی وزیر ناصر شاہ، ڈی آئی جی ساوتھ کے ہمراہ کلاکوٹ تھانے پہنچے اور مذاکرات کے بعد پولیس نے پی ایس پی رہنماوں مصطفی کمال، ڈاکٹر صغیر، رضا ہارون سمیت دیگر کارکنوں کو رہا کر دیا۔ مصطفی کمال نے رہائی کے بعد تھانے کے باہر کارکنان سے گفتگو میں کہا کہ ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر ناصر شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رہائی کسی ڈیل کے بغیر عمل میں آئی ہے اور تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے گا۔ رہائی کے بعد مصطفی کمال اور دیگر رہنما پاکستان ہاوس پہنچے اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ 16 نکات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور آئندہ 48 گھنٹوں میں نئے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔ مصطفی کمال نے مزید کہا کہ انکے گزشتہ روز کیو اقعہ میں 100سے زائد رہنما اور کارکنان زخمی ہوئے، جن میں خواتین بھی شامل ہیں جبکہ 48 کوحراست میں لیا گیا تھا جنہیں انکی دانست میں رہا کر دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں