شہزادی نے محبت کے خاطر شاہی رتبہ قربان کردیا

شاہی خاندان نے امریکی ادارے سی این این کو تصدیق کی کہ شہزادی کی منگنی کی تیاریاں جاری ہیں
_96094438_49d6d14f-a18c-49db-ae43-f09f28cf6023
جاپان کے شاہی خاندان کی ایک رکن شہزادی ماکو نے ایک عام آدمی سے شادی کرنے کے لیے اپنے شاہی رتبے کی قربانی دے دی۔
بادشاہ آکی ہیتو کی 25 سالہ پوتی نے ایک 25 سالہ قانون دان کی کومورو سے منگنی کر لی ہے۔
جاپان کے شاہی قانون کے مطابق اگر کوئی شہزادی کسی عام آدمی سے شادی کرتی ہے تو اسے شاہی خاندان چھوڑنا پڑتا ہے۔
مقامی میڈیا میں آنے والی اس خبر کے بعد جاپان کے سکڑتے شاہی خاندان کے بارے میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
شہزادی ماکو اور کی کومورو کی ملاقات پہلی بار سنہ 2012 میں ٹوکیو کی انٹرنیشنل کرسچیئن یونیورسٹی میں دورانِ تعلیم ہوئی۔
کومورو نے جاپان کی سیاحت کے فروغ کے لیے ’پرنس آف سی‘ کے طور پر بھی کام کیا ہے۔
اپنی منگی سے متعلق کومورو کا کہنا تھا کہ ’ابھی میرے اس بارے میں بات کرنے کا مناسب وقت نہیں ہے۔ میں صحیح وقت آنے پر اس بابت بتاؤں گا۔‘
شاہی خاندان نے امریکی ٹیلی ویژن سی این این کو تصدیق کی کہ شہزادی کی منگنی کی تیاریاں جاری ہیں۔
شہزادی ماکو اپنے والدین کے ہمراہ
83 سالہ بادشاہ آکی ہیتو نے گذشتہ برس اشارہ دیا تھا کہ وہ تخت سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں اور اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی عمر کے باعث فرائض کی ادائیگی نہیں کر سکتے۔
جاپان میں بادشاہ کے دستبردار ہونے سے متعلق قانونی تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
دو سو سال سے جاپان میں کوئی بادشاہ دستبردار نہیں ہوا۔ فی الوقت ملک کے قانون میں اس کی اجازت نہیں ہے لیکن نئی قانون سازی کے بعد بھی صرف مردوں کی جانشینی کا قانون تبدیل نہیں ہو گا۔
اس وقت تحت کے صرف چار ہی وارث ہیں: آکی ہیتو کے بیٹے اور ولی عہد شہزادہ ناروہیتو، شہزادہ فامی ہیتو، شہزادہ ہاشی ہیتو (فامی ہیتو کے بیٹے) اور بادشاہ کے چھوٹے بھائی شہزادہ ماشا ہیتو۔

116total visits,1visits today